’لتا کی آواز شہد کے تار کی طرح ہے‘

کلاسیکل گلوکارہ اور آواز کی دنیا کی بے تاج ملکہ لتا منگیشکر اب فلموں میں گیت گانا تقریبا بند کر چکی ہیں۔

وہ ممبئی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں، لیکن 28 ستمبر کو ان کی سالگرہ کے موقع سے پوری دنیا میں پھیلے ان کے پرستار اور بالی وڈ برادری انہیں یاد کرنا نہیں بھولتی۔

<link type="page"><caption> سو برس کی فلمی سفر میں ستّر میرے ہیں، لتا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/05/130515_lata_mangeshkar_music_life_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’آج کی فلمی موسیقی میں فٹ نہیں ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/04/130409_lata_music_bollywood_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’لتا منگیشکر مقبولیت کی بھوکی ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/09/120927_lata_singer_rafi_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

لتا منگیشکر کے یوم پیدائش پر اداکار امیتابھ بچن نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے ’میں ہی کیا پوری دنیا دل سے یہی دعا کرتی ہے کہ لتا دیدی کی عمر دراز ہو۔ وہ زمانے تک اپنی آواز سے ہمیں نوازتی رہی ہیں۔ ایک بار میں نے اپنے والد [ہندی کے نامور شاعر ہری ونش رائے بچن] سے پوچھا کہ لتا دیدی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ تو وہ بولے کہ ان کی آواز شہد کی لہر [تار] کی طرح ہے جو کبھی ٹوٹتی نہیں۔‘

یوں تو لتا منگیشکر کے پرستار ان کا موازنہ ان کی بہن آشا بھونسلے سے کرتے رہتے ہیں لیکن بی بی سی سے بات چیت میں خود آشا بھونسلے نے کہا تھا کہ ان کی بڑی بہن لتا منگیشکر ان سے کہیں بہتر ہیں۔

لتا منگیشکر کے تئیں اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے ان کی چھوٹی بہن اور ہرفن مولا گلوکارہ آشا بھونسلے
،تصویر کا کیپشنلتا منگیشکر کے تئیں اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے ان کی چھوٹی بہن اور ہرفن مولا گلوکارہ آشا بھونسلے

دونوں بہنوں کے درمیان ماضی میں رنجش کی خبریں آتی رہیں، لیکن اس سال ممبئی میں ہوئی ایک تقریب میں دونوں بہنیں کھل کر ملیں۔

لتا منگیشکر نے تاعمر شادی کیوں نہیں کی؟ ان شائقین کے ذہن میں یہ سوال کئی بار آتا ہے۔

بی بی سے ہوئی ایک خاص ملاقات میں لتا منگیشکر نے اس کا جواب یوں دیا تھا: ’دراصل گھر کے تمام اراکین کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ ایسے میں کئی بار شادی کا خیال آتا بھی تو اس پر عمل نہیں کر سکتی تھی۔ انتہائی کم عمر میں ہی میں کام کرنے لگی تھی۔ بہت زیادہ کام میرے پاس رہتا تھا، سوچا کہ پہلے تمام چھوٹے بھائی بہنوں کو مستحکم کر دوں۔ پھر کچھ سوچا جائے گا۔ پھر بہن کی شادی ہو گئی۔ بچے ہو گئے۔ تو انہیں سنبھالنے کی ذمہ داری آ گئی۔ اور اس طرح سے وقت نکلتا چلا گیا۔‘

فلم ساز یش چوپڑہ نے اپنی تمام تر فلموں میں لتا کی آواز لی ہے
،تصویر کا کیپشنفلم ساز یش چوپڑہ نے اپنی تمام تر فلموں میں لتا کی آواز لی ہے

لتا منگیشکر نے 40 کی دہائی میں اپنے گانے کے کیریئر کی شروعات کی انہوں نے شروع میں کچھ فلموں میں اداکاری بھی کی، لیکن انہوں نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ اداکاری کرنا انہیں ذرا بھی پسند نہیں تھا۔

ابتدا میں اداکاری کرنے کے بعد انہوں نے یہ شعبہ چھوڑ کر مکمل طور پر پلے بیک سنگنگ پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ یش چوپڑا جیسے کئی فلم سازوں نے اپنی تقریبا تمام فلموں میں ان کی آواز لی۔

فلم ’کبھی کبھی‘، ’دیوار‘، ’ترشول‘ سے لے کر سنہ 2003 میں آئی ’ویر زارا‘ تک میں لتا منگیشکر نے یش چوپڑا کی تمام فلموں میں گانا گایا۔

لتا منگیشکر اپنے دور کے تمام موسیقاروں کی پسندیدہ رہیں ہر چند کے بعض اوقات ان میں کشیدگی بھی رہی۔ کیریئر کے شروعات میں بہت سے لوگوں کو ان کی آواز میں 40 کی دہائی کی سپر سٹار گلوکارہ ’ملکہ ترنم نور جہاں‘ کی آواز کی جھلک ملی۔

لتا منگیشکر اپنی اہلہ خانہ کے ساتھ، چار بہنیں اور ایک بھائی
،تصویر کا کیپشنلتا منگیشکر اپنی اہلہ خانہ کے ساتھ، چار بہنیں اور ایک بھائی

لیکن سال 1949 میں آئی فلم ’محل‘ کے گیت ’آئے گا، آئے گا، آئے گا آنے والا‘ نے ساری بساط ہی پلٹ کر رکھ دی۔ اس گیت میں لتا منگیشکر نے اپنا الگ انداز اپنایا۔ مدھوبالا پر فلمایا گیا یہ گیت تاریخی ہٹ ثابت ہوا۔

ایک انٹرویو میں لتا نے یہ دلچسپ راز ظاہر کیا کہ پہلے گلوکار کو فلموں میں کریڈٹ نہیں دیا جاتا تھا اور جس اداکار یا اداکارہ پر گیت فلمایا جاتا تھا اسی کا نام ہوتا تھا لیکن انھوں نے کریڈٹ کی لڑائی لڑی۔

جب ’محل‘ کا یہ گیت ہٹ ہوا تو لوگوں نے آل انڈیا ریڈیو سے اس گلوکارہ کا نام دریافت کیا پھر جب بہت سارے خطوط اسی طرح کے آئے تو آل انڈیا ریڈیو نے میوزک کمپنی ایچ ایم وی سے دریافت کیا کہ اس گیت کو کس نے گایا ہے اور پھر ایچ ایم وی نے بتایا کہ اس گیت کو آواز دینے والی کا نام لتا منگیشکر ہے۔ اس کے بعد ہی ان کا نام لوگوں میں عام ہوا تھا۔

موسیقار مدن موہن کے ساتھ لتا منگیشکر کی یادگار تصویر
،تصویر کا کیپشنموسیقار مدن موہن کے ساتھ لتا منگیشکر کی یادگار تصویر

لتا نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس فلم میں اس گیت کا کریڈٹ کامنی کو دیا گیا تھا جو کہ فلم میں مدھوبالا کا نام تھا۔

لتا منگیشکر نے گائیکی کے اپنے 60 سال سے بھی زیادہ طویل کیریئر میں نرگس، مینا کماری، وحیدہ رحمان، سادھنا ، سائرہ بانو سے لے کر نئے دور کی اداکاراؤں جیسے کاجول اور رانی مکھرجی تک کے لیے گیت گائے۔

بی بی سی سے ایک خصوصی ملاقات میں لتا منگیشکر نے بتایا کہ مجروح سلطان پوری کی بیوی سے ان کی کافی اچھی دوستی تھی۔ اس کے علاوہ دلیپ کمار ان کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتے ہیں۔

لتا منگیشکر نےایک معروف گیت ’اے میرے وطن کے لوگو‘، 60 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے سامنے گایا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس گیت کو سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔