’ہندوستانی فلم بین روایت پرست ہیں‘
کرن جوہر: ہندوستانی فلم بین روایتی ہے

ہندوستانی فلم کے سو سال پورے ہونے کے موقعے سے معروف فلم ساز کرن جوہر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی فلم شائقین بہت روایتی ہیں اور اسی سبب سے کسی بھی نئے موضوع پر فلم بنانا مشکل ہوجاتاہے۔
انھوں نے کہا: ’میں نے 2006 میں ایک فلم کبھی الوداع نہ کہنا بنائی تھی جس میں شادی کے باہر بھی رشتے کو دکھایا تھا لیکن لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔‘
انھوں نے دیباکر بینرجی اور انوراگ کشیپ کی فلموں کی تعریف کی لیکن ان کا ماننا تھا کہ ’پرانے زمانے کے فلم سازوں میں جوش اور جنون ہوتا تھا، انھیں اپنی فلموں سے لگاؤ ہوتا تھا لیکن اب فلمیں بزنس کے پیش نظر بنائی جاتی ہیں۔‘
ہندوستانی سینما کے سوسال پر بنی فلم ’بامبے ٹاکیز‘ میں کرن جوہر کے ساتھ دیباکر بینرجی اور انوراگ کیشیپ ہیں۔
ایکتا کپور کے گھر انکم ٹیکس کی ریڈ

بالاجی ٹیلی فلمز کی مالکن ایکتا کپور کے گھر پہنچے انکم ٹیکس کے اہلکاروں کا الزام ہے کہ انھوں نے ایماندارانہ طور پر اپنا ٹیکس ادا نہیں کیا ہے۔
تین دن تک جاری رہنے والی اس تلاشی میں کل سات جگہ چھاپے مارے گئے۔ دفتر اور گھر کی چھان بین کے بعد انکم ٹیکس کے شعبے کا کہنا تھا کہ بالاجی ٹیلی فلمز نے قریب 30 کروڑ کم ٹیکس ادا کیا ہے۔
بی بی سی نے ایکتا کپور کے والد اور سدابہار ہیرو جیتندر سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہوا۔
فلموں میں عامر خان کے 25 سال

سنہ 1988 میں فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ کے ساتھ اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والے عامر خان کو اس ہفتے 25 سال ہو گئے۔ اس موقع پر انھوں نے میڈیا سے ڈھیر ساری باتیں کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عامر نے کہا: ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اتنی شہرت ملے گی۔ میں اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے پسند کیا میں قیامت سے قیامت تک کے ہدایت کار منصور خان کا بھی شکرگزار ہوں۔‘
عامر خان چیدہ چیدہ فلمیں ہی کرتے ہیں اور سال میں ایک آدھ بار ہی پردے پر نظر آتے ہیں۔ عامر نے اس کی وجہ یوں بیان کی: ’میں فلمیں تبھی کرتا ہوں جب میرا دل چاہتا ہے۔ پیسوں اور ہدایت کار کو دیکھ کر میں فلمیں سائن نہیں کرتا۔‘
عامر خان گزشتہ سال فلم ’تلاش‘ میں نظر آئے تھے اور اس سال ’دھوم - تھری‘ میں نظر آئیں گے۔







