بالی وڈ کے یادگار مکالمے

ہندوستانی سینما تین مئی کو اپنے 100 سال پورے کر رہا ہے۔ اس موقع پر پیش ہیں ہندوستانی فلموں کے چند یادگار مکالمے۔
بی بی سی کے لیے ان مکالموں کا انتخاب سینیئر فلم ناقد جے پرکاش چوكسے نے کیا ہے۔ ان کے سو مکالموں میں سے بعض یہاں پیش ہیں۔
روٹی (1941)
سڑک پر ایک بھوکا انسان بھیک مانگ رہا ہے لیکن اس کی کوئی مدد نہیں کرتا۔
ہیرو: ’روٹی مانگنے سے نہیں ملے تو چھین کر لے لے .... مار کر لے لے۔‘
سکندر (1942)
جہاں پورس کی فوج سکندر سے ہار جاتی ہے۔
سکندر (پرتھوی راج کپور) - آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
پورس (سہراب مودی) - جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔
جہیز (1949)

لالچی سسرال والے ہیروئین سے جہیز کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
والد (پرتھوی راج کپور): دیکھ بیٹی میں سارا سامان لایا ہوں۔ تو کاغذ سے ملا کر دیکھ ہر ایک چیز لایا ہوں۔
بیٹی: آپ ایک چیز لانا بھول گئے۔
والد: کیا
بیٹی: کفن
(اور وہ مر جاتی ہے کیونکہ لالچی سسرال کی نہ رکنے والے مطالبات کی وجہ سے وہ زہر کھا چکی تھی)
آوارہ (1951)
1۔ ہیرو پر مقدمہ چل رہا ہے۔
ہیرو: جج صاحب، میں پیدائش سے مجرم نہیں ہوں۔ میری ماں چاہتی تھی کہ میں پڑھ لکھ کر وکیل بنوں، جج بنوں لیکن ہماری بستی سے ایک گندا نالہ گزرتا ہے جس میں جرم کے کیڑے بہتے ہیں۔ میری فکر چھوڑیئے، مجھے سزا دیجيئے لیکن ان معصوم بچوں کو بچا لیجیے (عدالت کی بالائی گیلری میں بچے بھی بیٹھے ہیں)
2۔ ہیرو راج کپور آوارہ ہیں۔ اداکارہ کے سرپرست اسے پیسے دے کر اداکارہ کی زندگی سے دور جانے کو کہتے ہیں۔ ناظرین جانتے ہیں کہ فلم میں وہ باپ - بیٹے ہیں۔

ہیرو: میں اپنے آپ کو گرا ہوا، نیچ اور کمینہ سمجھتا تھا لیکن آپ تو میرے بھی باپ نکلے۔
3۔ ہیرو بچپن میں ہی اپنی بیمار اور بھوکی ماں کے لیے روٹی چراتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ جیل میں ہیرو کو روٹی دی گئی ہے۔
راج کپور: یہ کمبخت روٹی باہر مل جاتی تو میں بار بار اندر (جیل) کیوں آتا۔
(اسی بات سے متاثر منموہن دیسائی نے راجیش کھنہ کے ساتھ روٹی فلم بنائی)
ہم لوگ (1952)
غریب لوگوں کی بستی ہے اور تھوڑے سے تیل والا دیا جل رہا ہے۔
بلراج ساہنی کا ساتھی: جس دیے میں تیل کم ہے وہ کب تک چلے گا۔
بلراج ساہنی: جب تیل ختم ہو گا تو صبح ہو جائے گی۔
دو بیگھا زمین (1953)
مہاجن کسان کی زمین خریدنا چاہتا ہے۔
بلراج ساہنی: زمین تو کسان کی ماں ہے حضور۔ بھلا کوئی اپنی ماں کو بیچتا ہے۔
جاگتے رہو (1956)

گاؤں کا ایک سیدھا سادہ آدمی پیاسا بھٹک رہا ہے اور آدھی رات کو ایک عمارت میں پانی پینے جاتا ہے۔ چور سمجھ کر اس کا پیچھا کیا جاتا ہے۔
پوری فلم میں ہیرو خاموش ہے۔ آخر میں وہ پانی کی ٹنکی پر چڑھ کر ایک ڈائیلاگ بولتا ہے۔
راج: میں گاؤں کا سیدھا آدمی کام کی تلاش میں آپ کے شہر آیا اور آپ نے مجھے کیا سکھایا کہ دوسروں کی چھاتی پر پیر رکھ کر چل سکو تو چلو۔
دیوداس (1956)
1۔دریا کے کنارے دیوداس اور پارو مل رہے ہیں۔ پارو غریب ہے لیکن اس میں عزت نفس بہت ہے۔
دلیپ کمار (دیوداس): اتنا اہنکار (غرور) ... جانتی ہو چاند کے چہرے پر بھی داغ ہے. میں تمہارے ماتھے پر داغ بنا دیتا ہوں (وہ مارتا ہے)
2۔ دلیپ کمار: کون کم بخت برداشت کرنے کے لیے پیتا ہے۔ میں تو پیتا ہوں کہ بس سانس لے سکوں۔
3۔ چنّي بابو (موتی): تھوڑا سا خوش رہنے کے لیے اپنے آپ کو دھوکہ دینا پڑتا ہے۔
نیا دور (1957)

ایک قصبے کے تانگے والے نئی بس سے پہلے پہنچنے کے لیے سڑک بناتے ہیں۔ امیر لوگ انہیں روکنا چاہتے ہیں۔
دلیپ کمار: یہ امیر اور غریب کا جھگڑا نہیں ہے بابو۔ یہ تو مشین اور ہاتھ کا جھگڑا ہے۔
مغل اعظم (1960)
1۔ سنگ تراش نے مدھوبالا کو سفید پینٹ لگا کر کھڑا کیا ہے۔ بادشاہ اکبر بیٹے سلیم کے ساتھ آئے ہیں اور تیر مار کر مجسمے کی رو نمائی کی رسم ہونی ہے۔ تیر مجسمے کو لگ بھی سکتا ہے۔ سلیم تیر چلتا ہے، پردہ ہٹتا ہے۔ مجسمے کی خوبصورتی سے سب حیران ہیں کہ انارکلی ظل الہی کو سلام کرتی ہے۔
اکبر: تمہیں تیر لگ سکتا تھا، کیوں تمہیں خوف نہیں آیا۔.
انارکلی: ظل الہی میں افسانے کو حقیقت میں بدلتے دیکھنا چاہتی تھی۔
2۔ اکبر (پرتھوی راج کپور): ایک باندی ہندوستان کی ملکہ نہیں بن سکتی، ہندوستان تمہارا دل نہیں ہے۔

سلیم (دلیپ کمار): میرا دل بھی ہندوستان نہیں ہے جس پر آپ کے حکم چلے۔
3۔ انارکلی قید میں ہے، سلیم مفرور ہے
اکبر: انارکلی ہم تجھے جینے نہیں دیں گے اور سلیم تمہیں مرنے نہیں دے گا۔
4۔ سلیم اور انارکلی تنہائی میں ہیں اور اکبر کی آمد کا پتہ چلتا ہے۔ انارکلی یعنی مدھوبالا ڈر جاتی ہے۔ اس پر سلیم یعنی دلیپ کمار کہتے ہیں:
محبت جو ڈرتی ہو محبت نہیں، عیاشی ہے، گناہ ہے۔
جس دیش میں گنگا بہتی ہے (1961)
بچہ ایک پرندے کو زخمی کر دیتا ہے۔ راجو پرندے کی خدمت کرتا ہے۔ اس کے بعد لڑکا آ کر پرندہ مانگتا ہے۔
راجو: تم اسے جان دے نہیں سکتے تو تمہیں جان لینے کا حق بھی نہیں ہے۔







