شمشاد بیگم چورانوے برس کی ہوگئیں

برصغیر کی ابتدائی پلے بیک گانے والوں میں سے ایک شمشاد بیگم آج چورانوے برس کی ہو گئی ہیں۔
آج سے چورانوے سال قبل امرتسر میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنے فنی سفر کا آغاز 16 دسمبر 1937 میں کیا۔
ان کی صاف اور واضح آواز کو سامعین نے بہت پسند کیا جس کی وجہ سے جلد ہی انہیں سارنگی نواز استاد حسین بخش والے نے اپنی شاگردی میں لیا۔
شمشاد بیگم کی آواز سے تو سامعین کی شناسائی تھی ہی مگر لوگوں کو ان کا چہرہ دیکھنے کا موقع 1970 کی دہائی میں ملا، کیونکہ وہ اپنی تصاویر کھنچوانے سے ہمیشہ کتراتی تھیں۔
انہوں نے برصغیر کے نامور موسیقاروں او پی نیر اور نوشاد علی کے ساتھ کام کیا اور ان کے ساتھ گانے والوں میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے اور محمد رفیع شامل تھے۔
لاہور میں موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے ان کی آواز کو مہارت کے ساتھ چند ابتدائی فلموں میں استعمال کیا جن میں 1941 میں بننے والی فلم خزانچی اور 1942 میں بننے والی فلم خاندان شامل ہیں۔
انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلا مغربی طرز کا گانا ’میری جان سنڈے کے سنڈے‘ گایا۔
ان کے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے آج سے پچاس سال قبل تھے اور کئی گلوکاروں اور موسیقاروں نے ان کے گانوں کے ری مکس تیار کیے جو بے حد مقبول ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہیں 2009 میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔
شمشاد بیگم 1944 میں ممبئی منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے کئی شہرہ آفاق فلموں میں گانے گائے اور آج بھی وہاں اپنی بیٹی کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔
واضح رہے شمشاد بیگم ایک کلاسیکل گلوکارہ کا نام بھی تھا جو سائرہ بانو کی نانی تھیں اور ان کا انتقال 1998 میں ہوا تھا۔ اس موقعے پر بہت سوں نے سمجھا کہ اِن شمشاد بیگم کا انتقال ہو گیا ہے مگر شمشاد بیگم جو فلمی گلوکارہ تھیں وہ آج 94 برس کی ہو گئی ہیں۔







