
میری کوم دو بچوں کی ماں ہیں اور وہ پانچ بار عالمی چیمپین رہ چکی ہیں۔
بھارتی ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی نے لندن اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی بھارتی خاتون باکسر میری کوم پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پانچ بار عالمی چیمپیئن رہنے والی اس خاتون مکے باز نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
سنجے لیلا بھنسالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری کوم انتہائی باصلاحیت اور طاقتور خاتون کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود انھوں نے جس جوش اور جذبے کا مظاہرہ کیا ہے اس سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں۔ اب میرا مقصد اس فلم پر کام کرنا ہے‘۔
سنجے لیلا بھنسالی نے ایک سوال کے جواب میں کہا ابھی تک انھوں نے یہ طے نہیں کیا ہے کہ پردۂ سیمیں پر میری کوم کا کردار کون سی ہیروئن ادا کریں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’میری کوم ہندوستانی خواتین کے لیے ایک مثال ہیں اس لیے ان کا کردار نبھانے والی ہیروئن کا انتخاب میرے لیے اہم ہوگا‘۔
انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ انھوں نے میری کوم پر فلم بنانے کا فیصلہ اولمپکس میں تمغہ حاصل کرنے کے پہلے ہی کر لیا تھا۔
بھنسالی نے کہاکہ ’میرے معاون امنگ نے میری کوم پر ایک سال قبل ہی کافی تحقیق کر لی تھی۔ اس کے بعد میرے پاس وہ سکرپٹ لے کر آئے۔ اب جبکہ انھوں نے اولمپکس میں جو کارنامہ انجام دیا ہے تو پھر میں کیوں نہ ان پر فلم بناؤں۔
"یہ فلم شمال مشرقی اور بھارت کی ديگر ریاستوں کے درمیان تفاوت کو مٹانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ ہمارے شمال مشرقی علاقوں کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے مرہم کا کام کرے گی"
میری کوم
ان کے مطابق اسی سال ریلیز ہونے والی فلم پان سنگھ تومر نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایتھلیٹس کی اصل زندگی پر سنجیدگی کے ساتھ فلم بنائی جائے تو اسے لوگ سراہتے ہیں اور باکس آفس پر بھی اچھا بزنس کرتی ہیں۔
دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کی باشندہ میری کوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہدایتکار بھنسالی کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ فلم شمال مشرقی بھارت اور بھارت کی ديگر ریاستوں کے درمیان تفاوت کو مٹانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ ہمارے شمال مشرقی علاقوں کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے مرہم کا کام کرے گی‘۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں منی پور سے متصل ریاست آسام میں بوڈو قبائل اور مسلمانوں کے درمیان جاری تشدد کی وجہ سے اسّی سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور قریب پانچ لاکھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔






























