آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 جولائ 2011 ,‭ 15:36 GMT 20:36 PST

قبائلی داستان

’دا وانڈرِنگ فیلکن‘ جمیل احمد کی پہلی کتاب ہے اور وہ مُسکرا کر کہتے ہیں کہ اس کو ان کی آخری کتاب بھی سمجھ لیا جائے۔ وہ ریٹائرڈ سرکاری افسر ہیں اور ان کی عمر اٹھہتر برس ہے۔

لندن کے پبلشنگ ہاؤس پینگوین کی شائع کردہ یہ کتاب آپ کو پاکستان کے قبائل کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ اس میں شامل کہانیاں آپ کو بلوچستان، چترال، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں لے جاتی ہیں جہاں آپ کی ملاقات سیاہ پاد، مینگل، محسود، آفریدی اور دیگر قبائل کے افراد سے ہوتی ہے۔ قبائلی نظام اور انتظامیہ کے تعاون و تصادم دونوں کی کہانیاں اس میں شامل ہیں، اور ظلم، محبت اور انتقام کی کہانیاں بھی۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو ایک انتہائی غیر جذباتی انداز میں لکھا گیا ہے اور مصنف الفاظ کے ذریعے اس علاقے کا منظر آپ کے سامنے تو پیش کر دیتے ہیں لیکن واقعات کو دھیمے اور رپورٹنگ والے انداز میں بیان کرتے ہیں۔

کتاب کے نو باب ہیں جو کہ الگ الگ افسانے ہیں لیکن ایک کردار کی موجودگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ کردار طور باز نامی بچہ ہے جو پہلے باب میں سیاہ پد قبیلے میں غیرت اور محبت کی کہانی کے نتیجے میں یتیم رہ جاتا ہے۔

ایک کہانی میں ایک بلوچ قبیلے کے عمائدین انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے جاتے ہیں لیکن جب وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے ان کو ہ مذاکرات نہیں بلکہ مقدمے کے لیے طلب کیا گیا ہے، ان کو مجرم پایا جاتا ہے اور موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس پر نہ ہی کوئی سرکاری افسر اعتراض کرتا ہےاور نہ ہی کوئی اخبار اس کی خبر دیتا ہے۔

لیکن یہ صرف انتقام اور دشمنیوں کی کہانیاں نہیں ہیں، ان میں بدلتے سیاسی و معاشی حالات کا سامنا کرتےہوئے پِسنے والوں کی کہانیاں بھی ہیں۔ ایک کہانی میں ایک بلوچ قبیلے کے رہنما انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے جاتے ہیں لیکن جب وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے ان کو مذاکرات نہیں بلکہ مقدمے کے لیے طلب کیا گیا ہے، ان کو مجرم پایا جاتا ہے اور موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس پر نہ ہی کوئی سرکاری افسر اعتراض کرتا ہےاور نہ ہی کوئی اخبار اس کی خبر دیتا ہے۔

ایک اور کہانی میں سرحدوں کی تبدیلی کے نتیجے میں خانہ بدوشوں کے ایک بڑے قافلے کا قتل عام ہوتا ہے۔ لیکن تمام قصے اس نوعیت کے نہیں ہیں کچھ تو صرف خاندانی مسائل و مشکلات کے بارے میں ہیں۔ کئی بہت با ہمت قسم کی خواتین کردار بھی ہیں۔ ایک تو چترال کی بدقسمت شیراکئی ہے جس کا باپ اسے سو روپے اور مٹھی بھر افیون کے لیے بیچ دیتا ہے اور جس کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسری شاہ زرینا ہے جو اپنے والدین کے غریب لیکن خوشیوں سے بھرا گھرانہ چھوڑ کر ایک ظالم میاں کے ہاں بیاہ دی جاتی ہے جس کے لیے اس کا تماشا کرنے والا ریچھ اس کی بیوی سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

جمیل احمد

جمیل احمد کئی قبائلی علاقوں میں پولیٹکل ایجنٹ رہ چکے ہیں

مصنف جمیل احمد بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں کئی اعلیٰ عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ، چاغئی، خیبر اور مالاکنڈ میں پولیٹکل ایجنٹ تھے، اور ڈیرہ اسمعیل خان اور سوات میں کمشنر۔ اس کے علاوہ کابل میں پاکستانی سفارتخانے میں منسٹر رہے ہیں اور قبائل کی ترقی کے ادارے ٹرائبل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

ایک اور کہانی میں سرحدوں کی تبدیلی کے نتیجے میں خانہ بدوشوں کے ایک بڑے قافلے کا قتل عام ہوتا ہے۔ لیکن تمام قصے اس نوعیت کے نہیں ہیں کچھ تو صرف خاندانی مسائل و مشکلات کے بارے میں ہیں۔ کئی بہت با ہمت قسم کی خواتین کردار بھیں ہیں۔ ایک تو چترال کی بدقسمت شیراکئی ہے جس کا باپ اسے سو روپے اور مٹھی بھر افیون کے لیے بیچ دیتا ہے اور جس کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے

یہ کتاب انہوں نے قبائل اور قبائلی علاقوں میں آجکل کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے نہیں لکھی بلکہ یہ انہوں نے ستر کی دہائی میں لکھی تھی۔ اس وقت کئی کوششوں کے باوجود کوئی پبلشر اسے شائع کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن آج اس کی دھوم مچ گئی ہے۔

جہاں تک اردو میں اس کے ترجمے کا سوال ہے جمیل احمد کہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ ان کے پبلسشر یعنی پینگوین ہی کرے گا کیونکہ اس بارے میں تمام اختیارات اس کے پاس ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔