آخری وقت اشاعت:  Thursday, 9 july, 2009, 12:05 GMT 17:05 PST

’مجھ سے ہمیشہ برے گانے ہی گوائے‘

 نصیبو لعل

جب میں سٹوڈیوز جاتی ہوں تو مجھے اے کر کہ بلایا جاتا ہے:نصیبو لعل

نور جہاں کے بعد کسی بھی پاکستانی گلو کارہ کی آواز میں لے اور سُر کی اونچائی ہے تو وہ ہے نصیبو لال اور کتنی بد قسمتی ہے کہ ہم نے اس خوبصورت آواز کو گندگی کی نظر کر دیا۔

یہ کہنا تھا کئی خوبصورت فلمی نغموں کے خالق خواجہ پرویز کا۔ خواجہ پرویز کے بقول اب بھی نصیبو لال سے اچھے گانے گنوائے جائیں تو پاکستانی فلم انڈسٹری کا وہی پرانا دور لوٹ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اخلاق باختہ نغمےگانے کے الزام کے بعد خلاف نصیبو لال پر لاہور ہائی کورٹ نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔

نصیبو لال سے میری ملاقات خواجہ پرویز کی گوالمنڈی لاہور المعروف فوڈ اسٹریٹ میں واقع رہائش گاہ پر ہوئی۔اس سے پہلے کہ میں نصیبو لال سے ان کے گانوں اور ان پر لگائے گئے الزامات پر بات کرتی میں نے خواجہ پرویز سے جاننا چاہا کہ فلم انڈسٹری کا یہ زوال کب شروع ہوا اور کون اس کا ذمہ دار ہے۔

خواجہ پرویز کا کہنا تھا کہ جرنل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جہاں پاکستان کے تمام شعبے زوال پذیر ہوئے وہیں اس کے اثرات فلم انڈسٹری پر بھی پڑے اور یہ زوال اب تک جاری ہے۔

’ کبھی وہ دور تھا جب پاکستانی فلموں کے گانے چاھے وہ اردو ہوں یا پنجابی کانوں میں رس گھولتے تھے لیکن اب یہ سماعت پر گراں گزرتے ہیں‘۔

فلم انڈسٹری کے لوگ بڑے عجیب ہیں کہتے ہیں کہ نصیبو آ گئی لے ہن تو شروع ہو جا۔جیسے کہ لکی ایرانی سرکس میں کوئی شیر تماشے دکھاتا ہے مجھے بھی اسی طرح بلاتے ہیں کہ نصیبو آ گئی چل اب شروع ہو جا۔

نصیبو لعل

خواجہ پرویز کہ جو اب خود تو فلموں کے لیے گانے نہیں لکھ رہے کیونکہ ان کے مطابق وہ ایسےگانے نہیں لکھ سکتے جیسےلکھنے کی آج کل ڈیمانڈ ہوتی ہے لیکن خواجہ پرویز فحش گانے لکھنے والوں کو بھی قصور وار قرار نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آج کل کی مہنگائی بچوں کی فیسیں یوٹیلیٹی بلز ان سب کو پورا کرنے کے لیے ہر کوئی مجبور ہے۔جب ایک فلم ساز کسی نغمہ نگار کو کوئی فحش گانا لکھنے کے لیے دو ہزار روپے دیتا ہے تو نغمہ نگار اس پیسے کو دیکھتا ہے اور اپنے مالی مسائل کو اور پھر وہ جیسا فلم ساز چاھتا ہے ویسا گانا لکھ دیتا ہے اور ایسی ہی مجبوریاں موسیقار کے ساتھ ہیں‘۔

خواجہ پرویز کا کہنا تھا کہ فحش گیتوں اور فحش ڈانسز سے فلمی صنعت کو سہارا نہیں مل رہا بلکہ یہ اس کی مزید تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔’ایک زمانہ تھا کہ عورتیں فلم دیکھنے آتی تھیں، اپنے ساتھ شوہر اور سات بچوں کو لاتی تھیں جس سے نو ٹکٹیں بکتیں تھیں لیکن اب مرد زیادہ سے زیادہ اپنی محبوبہ کو ہی لا سکتا ہے اور یوں سنیما کی ٹکٹوں میں کمی ہو گئی‘۔ انہوں نے کہا کہ جب صاف ستھری فلمیں بنتی تھیں تو خواتین سینما میں آتی تھیں اور اب ہم نےخواتین کو خود سنیما گھروں سے دور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا ذمہ دار فلم ساز اور سنسر بورڈ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سنسر بورڈ سے ایسے گانے سنسر کیسے ہو جاتے ہیں۔اگر انہیں سنسر نہ کیا جائے تو یہ عوام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ فلم سازوں اور سنسر بورڈ کو درست کر دیا جائے تو فلم انڈسٹری کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

میں کیا کروں میں تو ایک مجبور عورت ہوں جس کی روزی روٹی اس گانے کے ساتھ وابستہ ہے۔گانا تو مجھے آ گیا اب کیا میں بھوکی مروں۔

نصیبو لعل

نغمہ نگار فحش گانے لکھتا ہے،موسیقار اس کی موسیقی دیتا ہے اور اس سب کا ذمہ دار ہے فلم ساز لیکن تمام نزلہ گرتا ہے نصیبو لال پر جو یہ کہتی ہیں کہ وہ اچھے گانے گانا چاہتی ہیں کیونکہ برے گانے گا کر ان کی عزت لوگوں میں بہت کم ہو گئی ہے۔ ’وہ خواتین جو کبھی میری فین ہوا کرتیں تھیں میرے فحش گانوں کے سبب مجھ سے نفرت کرنے لگیں۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فحش گانے نصیبو لال شوق سے گاتی ہے اور اسے پیسے کا لالچ ہے لیکن ایسا نہیں ہے نصیبو لال کو تو یہ گانے گانے پر مجبور کیا جاتا ہے‘۔

نصیبو لال کا کہنا ہے کہ گانا گانا ان کا شوق ہی نہیں ان کا پیشہ بھی ہے لیکن انہیں فلم پروڈیوسرز سے یہ دھمکیاں ملتی ہیں کہ ’اگر تم نے ہمارا یہ گانا نہ گایا تو تم فلم انڈسٹری میں نہیں آ سکتی بلکہ تم اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی، میں کیا کروں میں تو ایک مجبور عورت ہوں جس کی روزی روٹی اس گانے کے ساتھ وابستہ ہے۔گانا تو مجھے آ گیا اب کیا میں بھوکی مروں‘۔

نصیبو لال کہتی ہیں کہ انہوں نے کئی ہزار گانے گائے ہیں لیکن’ان میں چند سو ہی ایسے ہیں جو اچھے ہیں باقی مجھ سے ہمیشہ برے گانے ہی گوائے گئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں راجھستانی عورت ہوں، ریشماں بھی راجھستانی تھی اس سے تو کبھی کسی نے برے گانے نہیں گنوائے تو پھر مجھے ہی کیوں مجبور کیا جاتا ہے میری میں خواہش ہے کہ مجھے گانے کے لیے اچھے گانے دیے جائیں‘۔

نصیبو لال کو ایک گلہ یہ بھی ہے کہ فلم انڈسٹری والے فنکاروں کی عزت نہیں کرتے۔نصیبو کہتی ہیں کہ ’ایک دور تھا کہ جب کوئی فنکار یا فنکارہ گانے کے لیے سٹوڈیوز جاتے تو انہیں عزت و احترام سے بٹھایا جاتا ان کی آؤ بھگت کی جاتی لیکن اب جب میں سٹوڈیوز جاتی ہوں تو مجھے اے کر کہ بلایا جاتا ہے۔ فلم انڈسٹری کے لوگ بڑے عجیب ہیں کہتے ہیں کہ نصیبو آ گئی لے ہن تو شروع ہو جا۔جیسے کہ لکی ایرانی سرکس میں کوئی شیر تماشے دکھاتا ہے مجھے بھی اسی طرح بلاتے ہیں کہ نصیبو آ گئی چل اب شروع ہو جا‘۔

نصیبو لال کہتی ہیں کہ ’اب ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا اب اگر انہیں فحش گانے گانے کے لیے مجبور کیا گیا تو وہ نہیں گائیں گی وہ حلف لیتیں ہیں کہ وہ ایسے گانے اب نہیں گائیں گی لیکن اس کے لیے وہ حکومت اور عدلیہ سے اپیل کرتیں ہیں کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور کوئی ایسا بندوبست کیا جائے کہ فلم پروڈیوسرز انہیں تنگ نہ کریں‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔