کانز فلم فیسٹیول میں پہلی پاکستانی فلم جوائے لینڈ کو ایوارڈز ملنے پر سوشل میڈیا پر چرچے

پاکستانی فلم جوائے لینڈ‘ نے دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے 'کانز' میں ایوارڈ اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ جوائے لینڈ نے دو کیٹیگیریز میں ایوارڈز حاصل کیے جن میں ’جیوری پرائز ان دی ان سرٹن ریگارڈ‘ اور ’کانز قیور پالم‘ پرائز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ’جیوری پرائز ان دی ان سرٹن ریگارڈ‘ کو اس فلمی میلے کادوسرا بڑا ایوارڈ تسلیم کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے جب فرانس میں معروف کانز فلمی میلے کا آغاز ہوا تو انڈیا سے بالی وڈ کی معروف شخصیات کے ساتھ انڈیا کے وزیر اطلاعات و نشریات اور سپورٹس سمیت ایک پوری ٹیم گئی تھی۔

انڈیا کانز میں گیسٹ آف آنر کے طور پر شامل ہوا تھا اور مقابلے میں اس کی نمائندگی بھی تھی لیکن میڈیا میں پاکستان کا دور دور تک کوئی نام یا ذکر نہیں تھا۔

فیسٹیول کا اختتام آتے آتے پاکستان کا نہ صرف ذکر ہے بلکہ صائم صادق کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'جوائے لینڈ' کو جیوری ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

پاکستانی ڈائریکٹر، رائٹر و اداکارصائم صادق کی فلم جوائے لینڈ پہلی پاکستانی فلم ہے جس کی سکریننگ کانز فیسٹیول میں کی گئی، فلم میں ثروت گیلانی، ثانیہ سعید، علی جونیجو، ثناء جعفری، علینہ خان سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا۔

خیال رہے کہ فلم جوائے لینڈ کی کہانی ایک خواجہ سرا کی زندگی پر بنائی گئی ہے جس کو سرمد کھوسٹ اوراپوروا چرن نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم کا میوزک عبداللہ صدیقی نے دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی 2019 میں صائم صادق کی شارٹ فلم ڈارلنگ وینس اورٹورنٹو فلم فیسٹیول میں نمائش کی جاچکی ہے۔

پاکستان کو کانز کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار اینٹری ملی تھی اور یہ انٹری فاتح بن کر نکلی ہے۔

کہتے ہیں کہ اینٹری ملنا ہی اپنے آپ میں کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ اس پر اس کا فاتح قرار دیا جانا سونے پر سہاگے کی طرح ہے۔

اس کے بارے میں کسی نے بھی نہ سوچا تھا لیکن وارئٹی میگزن کے گائے لاج لکھتے ہیں کہ فاتح کے بارے میں پیشنگوئی کرنا بے وقوفی ہے اور 'ان سرٹین ریگارڈ' کے زمرے میں تو یہ اور بھی زیادہ بے وقوفی ہوگی۔

ان کے مطابق جب پاکستان سے آنے والی فلم جوائے لینڈ کی نمائش کی گئی تو ناظرین نے اس کو کھڑے ہو کر سراہا اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ اسے ایوارڈ مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ واضح طور پر ناظرین کی پسند تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہدایت کار صائم صادق کی یہ فلم انتہائی شاندار انداز میں شوٹ کی گئی ہے اور اس کے پروڈیوسرز میں سے ایک فلم ساز سرمد علی سلطان ہیں۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ اسے کیمرہ ڈی آر کے ایوارڈ سے بھی نوازا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ فلم ابھی پاکستان میں ریلیز بھی نہیں ہوئی ہے اور اس نے بین الاقوامی سطح پر پرچم لہرا دیے ہیں۔

اس میں لاہور کے محنت کش طبقے کے ایک شادی شدہ مرد اور ایک خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) کے درمیان بڑھتے ہوئے رشتے کو دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر اس کے متعلق 'جوائے لینڈ' ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ٹوئٹر پر جوائے لینڈ کے ہیش ٹیگ کو استعمال کر کے معروف اداکار و سوشل میڈیا صارفین اس فلم کی ٹیم کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔

اداکار عثمان خالد بٹ نے جوائے لینڈ کی کامیابی پر اسے پاکستان اور پاکستانی سنیما کے لیے تاریخی لمحہ قرار دیا۔

صحافی آمنہ ایسانی لکھتی ہیں: ’صائم صادق کی جوائے لینڈ کینز کے مقابلے میں شاملے ہونے والی پہلی فلم ہے جسے انسرٹین ریگارڈ ایوارڈ میں جیوری پرائز سے نوازا گیا ہے۔ یہ پوری ٹیم کے لیے بہت بڑا کارنامہ ہے اسے پاکستان میں ریلیز کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘

فرق علی ٹی جی نامی صارف لکھتے ہیں کہ 'ڈاگ ٹوتھ جیسی فلم کو پری انسرٹین ریگارڈ زمرے میں فتح ملی ہے، اسی زمرے میں جوائے لینڈ کو جیوری ایوارڈ ملنا بڑی بات ہے۔ اس کی نامزدگی ہی تاریخی تھی، انعام جیتنا سونے پر سہاگہ ہے۔ صائم صادق آنے والی نسلوں کو ترغیب دیتے رہیں گے۔ پوری ٹیم کو مبارکباد۔'

لارنس کارڈش نے لکھا ہے کہ یہ جنس اور اس کے اردگرد پر مبنی بہت مضبوط پہلی فلم ہے۔

جبکہ پی ٹی آئی کی عندلیب عباس نے لکھا ہے کہ انھیں صائم صادق پر فخر ہے۔ کانز میں پزیرائی حاصل کرنا حیرت انگیز ہے اور یہ پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے صائم صادق کی تصویر کے ساتھ فلم کی ایک تصویر بھی ڈالی ہے۔ جبکہ دیگر سوشل میڈیا صارفین بھی پاکستان کو یہ اعزاز ملنے پر پھولے نہیں سما رہے۔

انڈیا کی جانب سے شریک ٹیم میں اداکارہ دیپکا پاڈوکون کے علاوہ ایشوریہ رائے، آر مادھون، اے آر رحمان، کمل ہاسن وغیرہ شامل تھے۔ اس موقعے پر انڈیا کی چھ فلموں کی نمائش کی گئی۔