ام کلثوم: مصری گلوکارہ جنھیں مصر نے سفیر کا درجہ اور پاکستان نے ستارہ امتیاز عطا کیا

    • مصنف, عقیل عباس جعفری
    • عہدہ, محقق و مؤرخ، کراچی

ام کلثوم ابھی سٹیج پر نہیں گئی تھیں اور مصری صدر جمال عبدالناصر تھیٹر میں تشریف فرما ہو چکے تھے۔ انھوں نے یہ فرمائش کی کہ پہلے ان کا پسندیدہ نغمہ ’بلادی بلادی‘ (میرے وطن) گایا جائے۔ صدر کے سٹاف نے فوراً یہ فرمائش آرکسٹرا والوں تک پہنچا دی اور آرکسٹرا نے اس نغمے کی دُھن بجانی شروع کر دی۔

اُم کلثوم سٹیج پر آئیں تو انھوں نے آرکسٹرا کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔ وہ مائیکروفون کے پاس گئیں اور سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جمال ناصر ہمارے رئیس ہیں، میں ان کا احترام کرتی ہوں، یہ میری عزت افزائی ہے کہ وہ یہاں تشریف فرما ہیں مگر اس وقت وہ نیچے ہال میں بیٹھے ہیں اور میں اونچے سٹیج پر ہوں۔ کسی کو مجھے یہ حکم دینے کی جرات نہیں ہو سکتی کہ یہ گاؤ اور یہ نہ گاؤ۔‘

سارے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ پھر جمال عبدالناصر نے تالیاں بجا کر اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور سبھی تالیاں بجانے لگے۔ اُم کلثوم نے محفل میں وہی نغمہ سُنایا جو اس موقع کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اس واقعے سے ’بنت نیل، کوکب الشرق، بلبل صحرا، صوۃ العرب اور سیدۃ الغناء العربی‘ کے خطابات پانے والی گلوکارہ امِ کلثوم کے اثرورسوخ اور مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اہل مصر کہتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو چیزوں کو دوام حاصل ہے اہرام مصر اور اُم کلثوم کی آواز۔

اُم کلثوم کی آواز میں ایک ایسا کھرج تھا جو بہت کم لوگوں کو ودیعت ہوتا ہے۔ انھوں نے عربی کے قدیم اور کلاسیکی راگوں میں موسیقی پیش کر کے لازوال شہرت حاصل کی۔ ام کلثوم نے روایتی عربی اور مصری موسیقی کو جدید موسیقی سے ہم آہنگ کیا اور یورپی آرکسٹرا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

ام کلثوم کون تھیں؟

اُم کلثوم 31 دسمبر سنہ 1898 کو ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ ابراہیم تھا۔ والد ابراہیم مؤذن تھے جو اردگرد کے علاقوں میں مذہبی کلام گایا کرتے تھے۔

اپنے اس کام کی مدد کے لیے وہ اپنی بیٹی کو لڑکوں کے کپڑے پہنا کر ساتھ رکھتے تھے۔ اُم کلثوم ابتدا میں قرأت کے فن سے بھی وابستہ رہیں۔ سولہ برس کی عمر میں ایک نسبتاً مشہور گلوکار محمد ابوالعلا نے انھیں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دی، پھر ان کی شہرت آہستہ آہستہ پھیلنے لگی۔ چند سال بعد وہ مشہور بربط نواز اور موسیقار ذکریا احمد سے ملیں جنھوں نے انھیں قاہرہ آنے کا مشورہ دیا۔

سنہ 1923 میں وہ قاہرہ منتقل ہو گئیں جہاں امین المہدی نے انھیں عود بجانا سکھایا اور وہ ثقافتی تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگیں۔ سنہ 1934 میں قاہرہ میں ریڈیو سٹیشن کا قیام عمل میں آیا جو مصر میں ایک ثقافتی انقلاب کی شروعات تھی۔

ریڈیو کے میڈیم نے اُم کلثوم کو پورے عرب میں مشہور کر دیا۔ اس دوران اُن کا تعارف مشہور شاعر احمد رامی سے ہوا جنھوں نے بعد میں ان کے لیے 137 نغمے لکھے۔

سنہ 1956 میں جب نہرِ سوئز کے معاملے پر برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ کی نوبت آئی تو اُم کلثوم کے گائے ہوئے قومی اور جنگی نغموں نے مصری قوم میں ایک ولولہ بیدار کر دیا۔

ان کی پُرجوش آواز کو خاموش کرنے کے لیے برطانوی طیاروں نے قاہرہ ریڈیو سٹیشن پر حملہ کیا جس کی وجہ سے ام کلثوم کے گیت وقتی طور پر بند ہو گئے اور ان کے لاکھوں سامعین مضطرب ہو گئے۔ تین روز بعد قاہرہ ریڈیو نے ایک متبادل مقام سے ام کلثوم کے نغمات دوبارہ نشر کرنا شروع کر دیے تو مصری قوم کے جذبات نقطہ عروج پر پہنچ گئے۔

علی سفیان آفاقی اپنے سفرنامے ’نیل کنارے‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مصریوں کو موسیقی کا بہت شوق ہے۔ چھوٹے بڑے، عورت مرد، امیر غریب سبھی موسیقی کے دلدادہ ہیں اور ہر وقت موسیقی سننا چاہتے ہیں۔ ام کلثوم مصر کی محبوب ترین گلوکارہ ہیں۔‘

’مصر ہی کیا اسے دنیائے عرب کی سب سے مقبول آواز کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔ شہریوں کے عالیشان مکانوں سے لے کر بدوؤں کے خیموں تک ام کلثوم کے نغمے بڑے ذوق و شوق سے سُنے جاتے ہیں۔

’مصر میں اُم کلثوم کو وی آئی پی کی حیثیت حاصل ہے۔ بادشاہ، صدر مملکت سبھی اس کا احترام کرتے رہے اور اس کے پُرستاروں میں شامل رہے۔ ایک مرتبہ قاہرہ کے نیشنل سپورٹس کلب میں اُم کلثوم کی نغمہ سرائی کا پروگرام جاری تھا کہ اچانک بادشاہ وقت فاروق ام کلثوم کے نغمات سننے کے لیے وہاں جا دھمکے اور اتنا متاثر ہوئے کہ وہیں انھیں مصر کا سب سے بڑا اعزاز ’شان الکمال‘ عطا کر دیا۔

’انقلاب کے بعد جب جمال عبدالناصر مصر کے صدر بنے تو وہ بھی ام کلثوم کے شیدائی نکلے۔ ام کلثوم کا گانا سننے کے لیے وہ بذات خود موسیقی کے پروگراموں میں چلے جاتے تھے۔ ام کلثوم کو عرب دنیا کی بے تاج ملکہ کہا جاتا تھا۔

’وہ جب بھی کوئی نیا نغمہ پیش کرنے کا اعلان کرتی تھیں تو دنیائے عرب کے مختلف گوشوں سے شائقین اور پرستار ہوائی جہاز چارٹر کر کے قاہرہ پہنچ جاتے تھے۔ ان کے ہر نئے نغمے کی پبلسٹی صرف روزنامہ الاہرام میں ہوتی تھی۔ انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر بھی وہ بطور خاص ایک نیا نغمہ پیش کرتی تھیں اور صدر جمال عبدالناصر بھی ان کا نغمہ سننے کے لیے تھیٹر پہنچ جاتے تھے۔‘

نغمہ 'حدیث الروح' جو علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ کا عربی ترجمہ تھا

سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد عوام کے جذبات اور احساسات کے پیش نظر ام کلثوم نے ایک نیا نغمہ تیار کیا۔

ان کی آواز سامعین کو سرخوشی میں مبتلا کرتی تھی مگر اس روز وہ جو نغمہ گا رہی تھیں وہ غیر روایتی نغمہ تھا۔ ’حدیث الروح‘ کے نام سے گایا جانے والا یہ نغمہ علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ کا عربی ترجمہ تھا۔

شکوہ، جواب شکوہ کا یہ منظوم عربی ترجمہ صاوی علی الشعلان نے کیا تھا اور اس کی موسیقی ریاض الضباطی نے ترتیب دی تھی۔

اللہ کے حضور مسلمانوں کی زبوں حالی کا یہ شکوہ کروڑوں عرب عوام کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ صاوی علی الشعلان بینائی سے محروم تھے اور فارسی میں ایم اے کی سند کے علاوہ اردو پر بھی کمال دسترس رکھتے تھے۔

ان سے قبل پاکستان میں مصر کے سابق سفیر عبدالوہاب عزام نے بھی اقبال کے فارسی اور اردو کلام کو عربی میں منتقل کیا تھا مگر اہل عرب سے اقبال کا صحیح تعارف ام کلثوم کی بدولت ہوا۔

ام کلثوم کے اس نغمے کی شہرت جب پاکستان تک پہنچی تو حکومت وقت نے 18 نومبر سنہ 1967 کو انھیں ستارہ امتیاز عطا کرنے کا اعلان کیا جو دو اپریل سنہ 1968 کو انھیں ایک خصوصی تقریب میں مصر میں پاکستان کے سفیر سجاد حیدر نے عطا کیا۔

ام کلثوم کے آپریشن پر امریکہ مصر تعلقات کا انحصار

مصری حکومت نے ام کلثوم کو مصر کے سفیر کا درجہ عطا کیا تھا اور انھیں سفارتی پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنے گلے کے علاج کے لیے امریکہ گئی ہوئی تھیں تو حکومت مصر نے امریکی ڈاکٹروں کو آپریشن میں احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی خصوصی درخواست کی اور کہا کہ اس آپریشن پر مصر اور امریکہ کے تعلقات کا انحصار ہے۔

ام کلثوم کے طرز گلوکاری کی ایک انفرادیت ام کلثوم کے ہاتھ میں رومال رکھنا ہوتا تھا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں سر اور ساز کے ساتھ اس رومال کو لہراتی تھیں جس سے ان کے سننے والوں پر منفرد اثر ہوتا تھا۔

تین فروری سنہ 1975 کو مصر کی عظیم مغنیہ ام کلثوم قاہرہ میں وفات پا گئیں۔ دو دن بعد ان کے جنازے میں تقریباً 40 لاکھ افراد شریک ہوئے جو دنیا بھر سے خصوصی فضائی پروازوں سے قاہرہ پہنچے تھے۔ ان کا جنازہ دنیا کے چند بڑے جنازوں میں شمار ہوتا ہے۔

اہل مصر آج بھی ام کلثوم کی آواز کے شیدائی ہیں۔ حکومت نے ان کی یاد میں ایک خصوصی میوزیم قائم کیا ہے جس میں ان سے تعلق رکھنے والی ذاتی اشیا محفوظ کی گئی ہیں۔

سنہ 2020 میں حکومت مصر نے قاہرہ کے اوپرا ہائوس میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ام کلثوم کاایک خصوصی ہولوگرام پیش کیا جسے دیکھنے والے ہزاروں شائقین سحر زدہ ہو گئے۔