انتظار حسین: ہندوستانی تہذیب کا نوحہ خواں جو یادوں کی بوریاں اٹھائے پاکستان آیا تھا

    • مصنف, عقیل عباس جعفری
    • عہدہ, محقق و مؤرخ، کراچی

آج ہندوستانی تہذیب کے نوحہ خواں انتظار حسین کا یوم وفات ہے۔ چار بہنوں کے بعد پیدا ہوئے تو ماں باپ نے نام انتظار حسین رکھا۔ یہ اترپردیش کے ضلع بلند شہر کے قصبے ڈبائی کا واقعہ تھا اور تاریخ تھی 21 دسمبر 1925۔

انتظار حسین نے ضلع میرٹھ کے شہر ہاپوڑ میں تعلیم پائی اور سنہ 1946 میں میرٹھ کالج سے اُردو میں ایم اے کیا۔ اکتوبر 1947 میں محمد حسن عسکری کی دعوت پر انڈیا چھوڑا اور پاکستان آ کر لاہور میں پڑاؤ ڈالا، پھر یہی اُن کا وطن ٹھہرا۔

صحافت کو پیشہ بنایا اور سنہ 1948 کے اوائل میں ہفت روزہ ’نظام‘ سے بطور مدیر منسلک ہوئے۔ یہاں کم و بیش دو سال کام کرنے کے بعد روزنامہ ’امروز‘ سے بطور نائب مدیر وابستہ ہوئے پھر روزنامہ ’اتفاق‘ میں کام کیا۔ اس کے بعد روزنامہ ’مشرق‘ میں کالم نگاری کا آغاز کیا جہاں 25 برس تک ’لاہور نامہ‘ کے عنوان سے روزانہ کالم لکھا جس کو بہت شہرت ملی۔

انھوں نے روزنامہ آج کل اور ایکسپریس میں بھی کالم نگاری کی اور سول اینڈ ملٹری گزٹ، فرنٹیئر پوسٹ اور ڈان کے لیے انگریزی میں بھی کالم لکھے۔ درمیان میں کچھ عرصے وہ ’خیال‘ اور ’ادبِ لطیف‘ کے مدیر اور حلقہ ارباب ذوق کے سیکریٹری بھی رہے۔

انتظار حسین نے اپنی پہلی کتاب قیام ہندوستان کے دوران ہی مکمل کر لی تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کا موضوع لسانیات تھا مگر یہ کتاب کبھی شائع نہ ہو سکی۔ پاکستان آئے تو شاعری اور تنقید کو اپنا میدان بنانا چاہا۔ وہ ن م راشد سے شدید متاثر تھے اور اسی انداز میں آزاد نظمیں لکھنا چاہتے تھے۔ ان کی شاعری کا ایک نمونہ ایم اسلم کے ایک ناول میں محفوظ رہ گیا ہے۔

وہ افسانہ لکھنے سے گریز کرتے تھے کیوںکہ ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچپن کے دوست ریوتی سرن شرما افسانہ نگار بنیں، مگر قدرت نے یہ شعبہ ان کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔

ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنی کتاب ’چراغ شب افسانہ‘ میں لکھا ہے کہ ’ہجرت اور افسانہ نگاری، انتظار حسین کی زندگی میں اوپر تلے آئی ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’قیوما کی دکان‘ ہے جس کے آخر میں اپریل 1948 کی تاریخ درج ہے۔ یہی افسانہ ان کے پہلے مجموعے ’گلی کوچے‘ کا آغاز بھی ہے اور ان کی کلیات کا پہلا افسانہ بھی۔‘

انھوں نے یہ افسانہ لاہور میں حلقہ ارباب ذوق کی نشست میں پیش کیا، جہاں اجلاس کے صدر مختار صدیقی نے اس کی بہت تعریف کی۔ اس کے بعد انجمن ترقی پسند مصنّفین کے اجلاس میں انھوں نے اپنا افسانہ ’استاد‘ پیش کیا جس پر مظفر علی سید نے کہا کہ افسانے کی زبان سرشار سے مثال لی گئی ہے، اسی جملے پر انتظار حسین کی مظفر علی سید سے دوستی ہو گئی۔

لاہور کے ابتدائی دنوں میں انھیں ایک ایک کر کے وہ لوگ ملتے گئے جن سے ان کا شب و روز کا ساتھ رہا، ان لوگوں میں ناصر کاظمی، حنیف رامے، شیخ صلاح الدین، احمد مشتاق، غالب احمد، سعید محمود، صفدر میر، نیاز احمد، زاہد ڈار، مسعود اشعر، اکرام اللہ، ایرج مبارک اور محمود الحسن کے نام سرفہرست تھے۔

انتظار حسین کی فنی زندگی کی کئی جہتیں تھیں۔ وہ افسانہ نگار اور ناول نگار تو تھے ہی مگر انھوں نے تنقید، تراجم، یادنگاری اور صحافت کے میدان میں بھی اپنے نقوش رقم کیے۔ وہ خود کو بنیادی طور پر افسانہ نگار کہتے تھے۔ جن کے کئی مجموعے گلی کوچے، کنکری، آخری آدمی، شہر افسوس، کچھوے، خیمے سے دور، خالی پنجرہ اور شہرزاد کے نام سے سرفہرست ہیں۔

ان کے ناولوں میں چاند گہن، بستی، تذکرہ (نیا گھر)، آگے سمندر ہے اور سمندر کا بلاوا کے علاوہ ایک مختصر ناول دن اور داستان شامل ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد سرحد کے دونوں طرف آبادیوں کی ہجرت کا تجربہ تاریخ کے غیر معمولی تجربات میں سے ایک مانا جا سکتا ہے جس کے اثرات ابھی تک زائل نہیں ہوئے۔

ادب میں بھی اس کے دوررس اثرات نکلے، جس میں سیاسی اور جغرافیائی تقسیم کے ساتھ انسانی ذاتی کی تقسیم کا سوال بھی درپیش ہوا۔ قرۃ العین حیدر، سعادت حسن منٹو، عبداللہ حسین، بھیشم ساہنی، کرشن چندر اور انتظار حسین نے اپنے اپنے انداز میں ان سوالوں کے جواب تلاش کیے۔

انتظار حسین کو بالعموم ناسٹیلجیا کا ادیب کہا جاتا ہے۔ انھیں اپنی تہذیبی اور ثقافتی جڑوں کی تلاش تھی، یہ تلاش ہی اُنھیں ہندی کتھاؤں اور دیومالا کی طرف لے گئی اور اسی کے تحت اُنھوں نے اسلامی تہذیب اور اس کی تاریخ کی طرف رجوع کیا اور ہند اسلامی مشترکہ تہذیبی روایت سے استفادے کی صورتیں نکالیں۔ وہ ڈبائی کے عشق سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکے لیکن لاہور کی محبت نے بھی اُنھیں ہمیشہ کے لیے یہیں کا ہو کر رہ جانے پر مجبور کر دیا۔

انتظار حسین نے فکشن کے ساتھ ساتھ تیس، چالیس برس تک لاہور کی ادبی ڈائری لاہور نامہ کے نام سے تحریر کی۔ لاہور کی یادوں کو ’چراغوں کو دھواں‘ کے نام سے مرتب کیا اور بلاشبہ قیام پاکستان کے بعد لاہور کی ادبی فضا کو بہت خوبی کے ساتھ سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی خودنوشت ’جستجو کیا ہے‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ خودنوشت ہی نہیں بلکہ ستّر، اسّی برس پر پھیلی ہوئی ایک ادبی دستاویز ہے۔

ترجمے کا سلسلہ انھوں نے پاکستان آنے سے پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔ ان کے تراجم کا آغاز سٹین بک کے ناول ’دی مون از ڈاؤن‘ سے ہوا تھا مگر یہ ترجمہ شائع نہ ہو سکا۔ بعد میں اُنھوں نے تورگے نیف، چیخوف، سٹیفن کرین، عطیہ حسین اور ایمل حبیبی کے ناولوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔

انھوں نے متعدد افسانے بھی اردو میں ترجمہ کیے، جن کا ایک مجموعہ ’ناؤ اور دوسری کہانیاں‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سٹیورٹ شرین کی کتاب ’ماؤزے تنگ‘ اور جان ڈیوی کی کتاب ’ری کنسٹرکشن آف فلاسفی‘ کے تراجم ان کی ایک الگ جہت سے متعارف کرواتے ہیں۔

تنقید کے میدان میں بھی وہ پیچھے نہیں رہے۔ ان کی کتابیں ’علامتوں کا زوال‘ اور ’نظریے سے آگے‘ اردو تنقید کی چند اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انھوں نے 'زمیں اور فلک اور' اور 'نئے شہر پرانی بستیاں' کے نام سے سفرنامے بھی تحریر کیے اور متعدد شخصیات کے خاکے بھی رقم کیے۔

حکومت پاکستان نے اُنھیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز ’کمالِ فن ایوارڈ‘ سے نوازا تھا۔

انتظار حسین کو بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ اور فروغ ادب ایوارڈ کے علاوہ ستمبر 2014 میں فرانس کا اعلیٰ ترین ادبی اعزازOrdre des Arts et des Lettres اور انڈیا کا یاترا ایوارڈ بھی ملے۔

وہ پاکستان کے پہلے ادیب تھے جو 2013 میں بُکر انعام کے لیے نامزد ہوئے تھے۔

انتظار حسین دو فروری 2016 کو لاہور میں ہی وفات پا گئے اور یوں ہندوستان اور پاکستان کی تہذیب کا نوحہ رقم کرنے والا خاموش ہو گیا۔

اپنے انتقال سے ڈھائی دہائیاں قبل ہی انتظار حسین نے اپنا ’خود وفاتیہ‘ بھی تحریر کیا تھا۔

یہ 1989 کی بات ہے کہ جب انڈیا کے رسالے ماہنامہ ’ہنس‘ کے مدیر راجندر یادو نے اپنے رسالے میں ادیبوں سے خود وفاتیہ لکھوانے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ ایک دلچسپ سلسلہ تھا جس میں اردو اور ہندی کے متعدد ادیبوں نے حصہ لیا۔ اتفاق سے ان دنوں انتظار حسین ہندوستان گئے ہوئے تھے چنانچہ اس سلسلے کا پہلا خود وفاتیہ انتظار حسین نے لکھا تھا۔

یہ خود وفاتیہ انتظار حسین کی کسی اپنی مرتبہ کتاب میں تو شامل نہیں البتہ یہ ڈاکٹر آصف فرخی کی مرتبہ کتاب ’گنی چنی تحریریں‘ میں شامل ہے۔ ملاحظہ کیجیے انتظار حسین کا یہ نادر خود وفاتیہ۔

’انتظار حسین چل بسا۔ سن کر افسوس ہوا۔ اب یار لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ تم اسے جانتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ کہو۔ میں کیا کہوں۔ یہ لوگ اسے کہانی کار سمجھتے ہیں۔ میں دل ہی دل میں ہنستا ہوں کہ اللہ تیری قدرت وہ کیا تھا۔ لیکن لوگ اسے کیا سمجھتے ہیں۔ اصلی اور سچی بات یہ ہے کہ وہ بھاگوان تھا۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اس نے ہوش سنبھالا تھا اور قلم بس ہاتھ میں پکڑنے لگا تھا کہ ہندوستان کا بٹوارا ہو گیا۔ ایک الگ ملک پاکستان بن گیا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سپیشل ٹرین میں بیٹھا اور لاہور جا اترا۔ ڈبائی کا روڑا لاہور جا کر ہیرا بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’نقلی ہیرا ڈبائی کے گلی کوچوں کا حال لکھ لکھ کر سنانے لگا اور چھپوانے لگا۔ اس دعوے کے ساتھ کہ یہ کہانیاں ہیں۔ ان دنوں جو ہندوستان سے لٹ پٹ کر پاکستان پہنچتا تھا۔ اس کے ساتھ مروت ہوتی جاتی تھی۔ اسی مروت میں لاہور والوں نے اسے کہانی کار مان لیا مگر مہاجر اس کی اوقات کو سمجھتے تھے۔ وہاں کافی ہاؤس میں ایک دن اس کی مڈبھیڑ ایک ویٹر سے ہو گئی جو رام پور کا تھا۔ یہ سمجھا کہ ویٹر ہی تو ہے۔ میں اپنی کہانیوں کا حوالہ دوں گا تو مرعوب ہوجائے گا۔ وہ تھا رام پور کا چھنٹا ہوا۔ اس نے کہیں آں حضرت کی ایک دو کہانیاں پڑھ لی تھیں اور جان لیا تھا کہ یہ کتنے پانی میں ہیں۔ کہنے لگا کہ ’انتظار صاحب آپ نے اپنی کہانیوں میں جو زبان لکھی ہے وہ ہمارے رام پور میں کُنجڑیاں بولا کرتی ہیں کبھی شریف زادیوں کی زبان اور اشراف کا محاورہ لکھ کر دکھائیے‘۔

’رام پوری ویٹر کی بات سن کر انتظار حسین اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ پھر اس نے دلی اور لکھنؤ کا محاورہ لکھنے کے لیے بہت زور مارا مگر کہاں دلی اور لکھنؤ کے اشراف اور کہاں ڈبائی کا روڑا۔ اس نے جلد ہی اپنی حیثیت کو پہچانا اور پینترا بدل لیا۔ دلی والوں کو اپنی کوثر میں دھلی ہوئی اردو پر ناز تھا۔ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں تو گنگا میں دھلی ہوئی اردو لکھتا ہوں۔ کسی نے پوچھ لیا کہ ’یہ اردو تم نے سیکھی کس سے؟‘ جواب دیا ’سنت کبیر سے‘۔

’پوچھنے والا اس کا منہ تکنے لگا اور بولا ’اردو کا کبیر سے کیا واسطہ؟‘ انتظار حسین نے ڈھیٹ بن کر جواب دیا کہ ’کبیر اردو کا سب سے بڑا شاعر ہے‘۔

’بس ایسی ہی باتیں کر کے وہ اپنی جہالت کو چھپاتا تھا۔ جس زمانے میں اس نے کہانیاں لکھنی شروع کی تھیں اس زمانے میں اردو دنیا میں ٹالسٹائی، دوستوفسکی، گورکی، فلابیر، جوائس، لارنس جیسے ناول نگاروں کا ڈنکا بج رہا تھا۔ یہ کتنے بڑے ناول نگار تھے، انتظار حسین کی جانے بلا۔ اس نے الٹی گنگا بہانی شروع کر دی۔ کہنا شروع کیا کہ ہمارے بڑے ناول تو اصل میں الف لیلیٰ اورکتھا سرت ساگر ہیں۔ سو میری ایک بغل میں الف لیلیٰ ہے اور دوسری بغل میں کتھا سرت ساگر۔

کسی نے پوچا کہ ’تم نے کہانی کہنے کا فن کس سے سیکھا؟‘

جواب دیا ’اپنی نانی اماں سے اور مہاتما بدھ سے‘۔

غریب نے نہ او ہنری کو پڑھا تھا نہ موپاساں کو۔

پھر اپنی جہالت کو چھپانے کے لیے کوئی ایسی ہی بات کہنی تھی۔

نئے زمانے کے کیا مسائل ہیں، کیا سمسیائیں ہیں، انتظار حسین کو اس کا ذرا جو پتا ہو۔ اس لیے اگر ترقی پسندوں نے اسے رجعت پسندی، قدامت پرست، ماضی کا مریض، ناسٹیلجیا کا مارا ہوا جیسے خطابوں سے نوازا تو کیا برا کیا۔ وہ یہی کچھ تھا۔ ایک ترقی پسند ادیب نے دو ٹوک اس سے پوچھا 'اپنی کہانیوں میں تم کس زمانے کی باتیں کرتے ہو؟'

’اپنے زمانے کی‘ اس نے جواب دیا۔ ’پھر مہاتما بدھ کے زمانے میں کیوں پہنچ جاتے ہو؟‘

’اس لیے کہ میں نے اسی زمانے میں جنم لیا تھا۔ آدمی کی جون میں۔ اب پتہ نہیں میں کس جون میں ہوں اور میرے اردگرد جو لوگ ہیں وہ کس جون میں ہیں۔ تھوڑا پہچانتا ہوں تو پیڑوں اور پنچھیوں کو۔ میرے زمانے کے کچھ یہی لوگ باقی رہ گئے ہیں‘۔

’لاہور میں ایک ترقی پسند نے بڑے پتے کی بات کہی کہ یو پی سے بہت سے لوگ اپنا گھر بار لٹا کر خالی ہاتھ پاکستان پہنچے اور یہاں آ کر اُنھوں نے الاٹمنٹس کروائیں اور دونوں ہاتھوں سے جائز و ناجائز کھا کر گھر بھرے۔ مگر انتظار حسین یادوں اور محاوروں کی بھری بوریوں کے ساتھ پاکستان پہنچا۔ اس نے اپنی بوریوں کا منہ کھول دیا ہے اور ہمیں بوجھوں مار رہا ہے۔ بالکل صحیح کہا۔ بھلا یادوں سے کہانی بنا کرتی ہے۔ پھر آدمی ایسی ہی کہانی لکھے گا جیسی ہماری نانی امائیں ہمارے بچپن میں ہمیں سنایا کرتی تھیں۔ سو انتظار حسین نے بھی عمر بھر ایسی ہی کہانی لکھی۔

’میں جب اس کی کہانی پڑھتا ہوں تو لگتا ہے کہ کہانی نہیں پڑھ رہا بلکہ اس کی ڈبائی کی کسی ٹوتی ہوئی سڑک پر چلتے ہوئے پکے میں بیٹھا ہوں۔ اصل میں ڈبائی میں چلم بنانے والے کمہاروں کو تو اس نے بدنام کیا۔ ان والی نفاست تو اس کی کہانی میں کبھی آئی ہی نہیں اور نے یہ غلط کہا کہ وہ ڈبائی میں رہتا تو چلمیں بناتا۔ ویسے اسے ڈبائی ہی میں رہنا چاہیے تھا۔ اس قصباتی فضا سے اس کا ذہن کبھی نکلا ہی نہیں۔ وہاں اگر رہتا تو وہاں یکہ چلا کر کچھ دال دلیا کر لیتا۔ جس زمانے میں وہ ڈبائی میں تھا اس زمانے میں اس قصبے کی سڑکوں کی حالت بہت خستہ تھی۔ ان پر یکے اس طرح چلتے تھے کہ سواریوں کے جوڑ جوڑ ہل جاتے تھے۔ وہ وہاں رہتا تو ایسے ہی کسی یکے کا کوچوان ہوتا۔ لاہور آ کر اس نے کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ کہانیاں کیا لکھتا تھا یکہ چلاتا تھا۔ ڈبائی کے یکوں کی طرح اس کی کہانیوں کے بھی سارے انجر پنجر ڈھیلے ہیں۔

’خیر وہ شخص اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ کیا کہا جائے اور اس نے کون سی نرالی بات کی۔ جو دوسرے مہاجروں نے کیا وہ اس نے بھی کیا۔ کتنے مہاجر ایسے تھے کہ جب یو پی میں تھے تو پھانک تھے۔ پاکستان گئے تو دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹی اور جائیدادیں بنائیں۔ انتظار حسین نے یہی کام شروع دن سے کیا۔ ڈبائی میں رہتا تو یکہ چلاتا۔ لاہور میں رہ کر کہانی کار کا روپ رچایا۔ دونوں ہاتھوں سے داد سمیٹی اور اپنے تئیں بڑا ادیب جاننے لگا۔

اب الاٹمنٹ کی بات بھی سن لو۔ جب مہاجر اپنے اپنی کلیم داخل کر رہے تھے تو ایک لاہوری دوست نے اس سے کہا کہ ’یار تم بھی اپنا کلیم داخل کر دو‘۔

اب وہ یہ تو کہہ نہیں سکتا تھا کہ ادھر وہ کوئی جائیداد چھوڑ کر نہیں آیا ہے۔ جھوٹی شان نے اسے یہ بات کہنے کی اجازت نہیں دی۔ کہا یوں کہ ’میں تو تاج محل چھوڑ کر آیا ہوں۔ کہو تو اس کا کلیم داخل کر دوں‘۔

اس نے مزاحاً کہا ’اس کے سوا بھی تو کچھ چھوڑ کر آئے ہو گے؟‘

کہا کہ ’ہاں تاج محل کے سوا نیم کا پیڑ چھوڑ کر آیا ہوں۔‘

بس ایسی ہی بے تکی باتیں کر کے اپنی بے حیثیتی کو چھپاتا رہا۔ اب اللہ کو پیارا ہوا۔ ڈبائی کی پریشان خاک لاہور میں آسودہ ہوئی۔ آج ڈبائی میں اسے کوئی نہیں جانتا۔ کل لاہور میں بھی اسے کوئی نہیں جانے گا۔ خیر وقتی طور پر اس نے جھوٹ سچ لکھ کر کچھ نام پیدا کر لیا تھا۔ اس کا جھوٹ سچ اس کے ساتھ گیا۔ خاک میں مل کر خاک ہوا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے‘۔