آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فلم 83: سنہ 1983 میں انڈیا کی ورلڈ کپ میں تاریخی جیت کو بالی وڈ کا خراج تحسین
بالی وڈ کی نئی فلم '83' انڈیا کی سنہ 1983 میں تاریخی جیت کی کہانی بیان کرتی ہے۔ تقریباً 38 برس قبل ہونے والے ٹورنامنٹ کی کوریج کے لیے کھیلوں کے صحافی ایاز میمن نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اسی حوالے سے وہ اس مضمون میں انڈیا کی جیت کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
حقائق کبھی کبھی افسانوں سے بھی زیادہ دلچسپ ہوتے ہیں۔
انڈیا کی 1983 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں جیت آج بھی کھیلوں کی تاریخ کے چند عظیم ترین ناقابل یقین فتوحات میں شمار کی جاتی ہے اور یہ حقیقت کسی بھی افسانے سے زیادہ حیران کن ہے۔
یہ تقریباً ویسے ہی ہے جب 2016 میں برطانوی فٹبال کلب لیسٹر سٹی نے پریمئیر لیگ میں جیت حاصل کر لی تھی لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ ورلڈ کپ کے برعکس وہ عالمی اعزاز نہیں تھا۔
سنہ 1983 میں انڈیا کو محدود اووروں کی کرکٹ کی ایک ناکام ٹیم تصور کیا جاتا تھا۔ گذشتہ دو ورلڈ کپ میں انھوں نے کُل ایک میچ جیتا اور وہ بھی مشرقی افریقہ کی ٹیم کے خلاف۔
اس عرصے میں انڈیا کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی تھی جس میں سب سے بدنام تو مشہور بلے باز سنیل گاواسکر کی 1975 کے ورلڈ کپ میں وہ اننگز جس میں انھوں نے کچھوے کی چال کی طرح کھیلتے ہوئے 60 اوورز میں محض 36 رنز بنائے اور آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔
جب مجھے 1983 کے ورلڈ کپ کی کوریج کرنے کو کہا گیا تو میں کرکٹ کی صحافت کے میدان میں نیا نیا تھا۔
یہ میرے لیے تھی تو بہت اعزاز کی بات کے میں اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے صحافت کروں لیکن مجھے اس بات کا بھی ڈر تھا کہ میرے پاس اتنا کرنے کو ہوگا کیا کیونکہ انڈیا کی ٹیم تو بہت ہی بری تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جذبات سے عاری سٹے بازوں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ماہرین اور شائقین کیا سوچ رہے ہیں۔ انڈیا کی ٹورنامنٹ میں جیت جانے پر لگائی شرطوں کا تناسب 66-1 تھا (یعنی ایک روپیہ لگایا تو شرط جیت جانے پر 66 روپے ملیں گے)، اور لگ رہا تھا کہ یہ بھی ناکافی ہے۔
انڈیا کی جیت کے امکانات اتنے کم تھے کہ لوگ تو اس پر مذاق اڑاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل لارڈز کے میدان گیا تاکہ میں کوریج کے لیے اجازت نامے حاصل کر سکوں، تو مجھے وہاں موجود حکام نے کرخت لہجے میں بتایا کہ یہ اجازت نامے صرف ان صحافیوں کے لیے ہیں جن کے ملک فائنل تک رسائی حاصل کریں گے۔
میرے لیے گویا پیغام تھا کہ 'انڈیا تو قطعی فائنل تک نہیں پہنچے گا تو آپ زحمت نہ کریں۔'
ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل موقر جریدے وزڈن کے مدیر ڈیوڈ فرتھ نے لکھا کہ اگر انڈیا جیت گیا تو میں 'اپنے الفاظ خود کھا لوں گا۔'
میں بھی زیادہ پرامید نہیں تھا اور میں نے فیصلہ کیا کہ انڈیا کا دفاعی چیمپئین ویسٹ انڈیز کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر پہلا میچ نہ دیکھنے جاؤں۔
میں نے خود کو کہا: 'سفر پر اپنے پیسے کیوں خرچ کریں جب معلوم ہے کہ میچ کا نتیجہ کیا نکلے گا۔'
میں نے اس کی جگہ فیصلہ کیا کہ لندن میں اوول کے میدان میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکھنے جاؤں۔
یہ میری وہ غلطی تھی جس پر میں آج تک پشیمان ہوں۔
انڈیا نے ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں حیران کن کھیل پیش کیا اور ویسٹ انڈیز کو ہرا دیا۔ اس میچ سے میں نے یہ سبق لیا کہ بطور صحافی، چاہے کوئی بھی بات کتنی ہی یقینی یا بیزار کرنے والی ہو، اس پر سے توجہ نہ ہٹے اور کام پورا کیا جائے۔
لیکن پھر اس میچ کے بعد انڈیا کے ٹورنامنٹ میں سنسنی خیز سفر کے دوران میں ہر دم ان کے ساتھ تھا۔ ٹیم نے بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کیا، اس میں ان کے کھلاڑی انجرڈ بھی ہوئے اور حتی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لگ رہا تھا کہ وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گے لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری اور بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔
لارڈز کے میدان میں ہونے والے فائنل میں اب ان کا سامنا دو دفعہ کی فاتح اور دفاعی چیمپئین ویسٹ انڈیز سے تھا۔
انڈیا کے میچوں کی تفصیلات بھی سب کے پاس ہیں اور انھیں بڑے آرام سے پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے تو میں اس کو نہیں دہراؤں گا۔
لیکن میں یہاں پر دو اہم واقعات کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے انڈیا یہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں واقعات میں انڈیا کے کپتان کپیل دیو کا ذکر ہے۔
پہلا واقعہ تھا ان کی ناقابل یقین سنچری جب انھوں نے زمبابوے کے خلاف 175 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ ٹنبرج کے مقام پر کھیلی گئی اس اننگز کو میں آج تک ایک روزہ میچوں کی تاریخ کی بہترین سنچری قرار دیتا ہوں۔
کرکٹ کے اس فارمیٹ میں دنیا کے بہترین کھلاڑی آئے ہیں اور حالیہ کچھ سالوں میں اب تو ڈبل سنچریاں بھی بننے لگی ہیں لیکن جن حالات میں کپل دیو نے یہ سنچری بنائی تھی اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
انڈیا کی ٹیم بہت ہی زیادہ مشکل حالات سے دوچار تھی اور ان کے نو رنز پر چار وکٹیں گر چکی تھیں جب وہ کھیلنے کریز پر آئے۔
بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان دوران ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ملک واپسی کے سفر کے بارے میں بات چیت چل رہی تھی۔ لیکن یہ وہ وقت تھا جب کپل دیو نے اپنا جادو جگانا شروع کیا۔
ایک روزہ کرکٹ میں ان حالات میں کبھی ایسی سنچری نہیں بنائی گئی ہے۔
اور یاد رہے کہ کپل دیو ٹاپ آرڈر کے بلے باز نہیں تھے۔ لیکن ان کی اس اننگز نے انڈیا کو شکست کے دہانے سے نکال کر جیت دلائی اور پھر جب انڈیا نے اپنا سلسلہ شروع کیا تو پھر فائنل تک ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ٹک سکی اور ویسٹ انڈیز کو بھی ہرانے میں ان کا کردار انتہائی اہم تھا۔
ویسٹ انڈیز جیسی حریف کے خلاف انڈیا کی ٹیم 183 پر آؤٹ ہو گئی تھی اور لگ رہا تھا کہ ان کا قصہ اب تمام ہونے کو ہے۔ لیکن پھر انھوں نے ویسٹ انڈیز کے سب سے اہم کھلاڑی ویون رچرڈز کا زبردست کیچ لیا اور پھر انڈیا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
کرکٹ کے دیوانے انڈینز خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ انڈیا نے کرکٹ کی دنیا کو بالکل الٹ کر رکھ دیا تھا۔
ڈائریکٹر کبیر خان کی نئی فلم '83' انھیں جادوئی لمحات کو دوبارہ پیش کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ نئی نسل کو انڈیا کی اُس ٹیم سے روشناس کرا سکے۔
نہ تو میں فلم ریویو کرتا ہوں نہ میں سنیما کے بارے میں ماہر ہوں اور سچی بات تو یہ ہے کہ کیونکہ میں اس ٹورنامنٹ کے دوران وہاں خود موجود تھا، میرے ان جذبات اور جوش کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
یہ کہانی سنیما سکرین پر سنانے کو بہت اچھی ہے لیکن اس میں پیچیدگیاں بھی ہیں۔
ایک نظر سے دیکھیں تو یہ بڑی سیدھی سادھی کھیلوں کی بڑی متاثر کن کہانی ہے۔ لیکن دوسری نظر سے دیکھیں تو اس ٹیم میں شامل کھلاڑی، وہ تمام بڑے مختلف نوعیت کی شخصیات کے حامل تھے اور پھر بھی ان سب نے متحد ہو کر کھیلا اور یہ جیت حاصل کی۔
یقیناً یہ فلم بنانا آسان نہیں ہوگا۔ کبیر خان اپنی فلموں میں مشہور واقعات کو استعمال کرتے ہوئے فلم کی کہانی کھڑی کرتے ہیں۔ فلم میں بار بار دہرائے گئے قصوں کو پیش کیا گیا ہے۔
لیکن کیونکہ اس کا اختتام اس زبردست جیت پر ہوگا، تو شاید فلم دیکھنے والے اس سے پھر بھی محظوظ ہوں گے۔
سنہ 1983 کے ورلڈ کپ میں انڈیا کی جیت کے بڑے دوررس اثرات مرتب ہوئے۔
آج انڈیا کرکٹ کا سپر پاور ہے اور اس منزل تک پہنچنے والے سفر کا آغاز 1983 کی جیت سے ہوا تھا۔
لیکن کھیلوں سے بھی بڑھ کر دیکھیں تو اس جیت نے انڈین عوام میں وہ جذبہ اور حوصلہ دیا کہ وہ خود پر یقین رکھ سکیں کہ وہ کسی بھی شعبے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔