بالی وڈ ڈائری: تاپسی پنوں آج کل کسے ڈیٹ کر رہی ہیں اور ہرش وردھن کپور کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

’میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے میں جب بھی کسی کو ڈیٹ کرتی ہوں تو میرے دماغ میں یہی چلتا ہے کہ اگر اس سے شادی ہو سکتی ہے تو ہی میں اپنا ٹائم اور انرجی اس انسان پر خرچ کروں ورنہ جانے دو کیونکہ مجھے ٹائم پاس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

ایسے ایماندارانہ خیالات کا اظہار اداکارہ تاپسی پنوں کے علاوہ اور کون کر سکتا ہے جو اپنے بے باک انداز کی وجہ سے کئی بار ٹرولنگ اور تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔

یو ٹیوب چینل ’کری ٹیلز‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے تاپسی نے کہا کہ ان کے والدین چاہتے ہیں کہ بس اب وہ شادی کر لیں چاہے کسی سے بھی ہو لیکن اب جلد از جلد ان کی شادی ہو جائے۔

تاپسی کہتی ہیں کہ ان کے والدین کو ڈر ہے کہ کہیں وہ زندگی میں اکیلی نہ رہ جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی نہیں کروں گی'۔

ویسے تاپسی آج کل ڈنمارک کے ٹینس کھلاڑی ماتھیاس بیو کو ڈیٹ کر رہی ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ آیا ان کے والدین اس رشتے سے خوش ہیں یا نہیں اور خود ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اگر شادی نہیں ہوسکتی تو وقت اور توانائی ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ادھر انیل کپور کے بیٹے ہرش وردھن کپور مسلسل ایک پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے اس بات سے سمجھوتہ کر لیا ہے کہ کچھ لوگ مجھے صرف اس لیے ناپسند کرتے ہیں کیونکہ میں انیل کپور کا بیٹا ہوں۔‘

ہرش وردھن کپور کا کہنا تھا کہ مختلف انداز کی فلمیں کر کے اپنا ایک مقام بنانے کی کوششوں کے باوجود بھی اُنھیں کامیابی نہیں مل رہی۔ ہرش وردھن نے فلم مرزیا سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد بھاویش جوشیا سپر ہیرو بھی ان کی پہلی فلم کی طرح ناکام رہی۔

حال ہی میں نیٹ فلکس کی سیریز ’رے‘ کی قسط ’سپاٹ لائٹ‘ میں اُنھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

ریڈیو جوکی سدھارتھ کھنہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہرش کا کہنا تھا کہ چوں کہ اُنھوں نے معمول کی فلموں کے بجائے متبادل انداز کی فلمیں کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے اس لیے وہ میڈیا کی نظروں میں نہیں آتے۔

ہرش کا کہنا تھا کہ چاہے میں کتنا ہی اچھا کام کر لوں، کتنی ہی فلمیں کر لوں اور زندگی میں کتنی بھی کامیابی حاصل کر لوں لیکن کچھ لوگ مجھے صرف انیل کپور کے بیٹے کے روپ میں ہی دیکھیں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی بڑے ہیرو یا فلمساز کے بچوں پر کامیابی حاصل کرنے کا اضافی دباؤ ہوتا ہے۔ لوگ ان کی کامیابی کا موازنہ ان کے والدین کی حیثیت اور کامیابی سے کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان پر اقربا پروری کا ٹیگ بھی لگا دیا جاتا ہے۔

لیکن فلمی ہستیوں کے بچوں کی کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں جن میں راکیش روشن کے بیٹے رتک روشن، شترو گھن سنہا کی بیٹی سوناکشی سنہا، خود ان کی بہن سونم کپور اور بھائی ارجن کپور کے علاوہ عالیہ بھٹ، شاہد کپور اور شردھا کپور ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اپنے ماں یا باپ کے نام اور شہرت کے سائے سے نکل کر اپنا ایک مقام بنایا اور لوگوں نے اُنھیں قبول بھی کیا۔

ویسے بھی ابھی ہرش وردھن کو انڈسٹری میں آیے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔ خود ان کے پاپا انیل کپور کو کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں کئی برس لگ گئے تھے۔

بالی ووڈ میں مل کر 22 فلمیں بنانے والے فلم رائٹرز سلیم جاوید یعنی سلیم خان اور جاوید اختر کے بچے اب ان کی فلمی زندگی کے جادوئی سفر اور ان کی کامیابی کے پیچھے کی کہانی کو ایک دستاویزی فلم کی شکل دے رہے ہیں۔

سلیم خان کے بیٹے اور سپر سٹار سلمان خان اور جاوید اختر کے بیٹے فرحان اختر اور بیٹی زویا اختر مل کر اس فلم کو پروڈیوس کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ویب سائٹ بالی ووڈ ہنگامہ کے ساتھ اس ہفتے ایک انٹرویو میں فرحان اختر کا کہنا تھا کہ یہ فلم سلمان، میرے اور زویا کے لیے بہت خاص ہے کیونکہ ہم اس جادو پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گے جو ہمارے والدین نے 70 کی دہائی میں لوگوں پر چلایا تھا۔ اس وقت فلم ہیرو نہیں بلکہ سلیم جاوید کے نام سے چلتی تھی۔

سلیم جاوید 70 کی دہائی کی وہ مشہور جوڑی تھی جس نے شعلے، زنجیر اور دیوار جیسی فلمیں بنا کر انڈین فلم انڈسٹری میں ایک نئی جان پھونک دی تھی۔ ان کی ان بلاک بسٹر فلموں کے ڈائیلاگ آج کی نسل میں بھی مقبول ہیں۔

بائیس فلمیں ایک ساتھ بنانے کے بعد 1982 میں یہ دونوں الگ ہو گئے تھے۔ امید ہے کہ اس فلم میں ان کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی جائے گی کہ آخر اس مشہور اور کامیاب جوڑی میں علیحدگی کی اصل وجہ کیا تھی۔