یورپی یونین کی جانوروں کو بے سدھ کیے بغیر ذبح کرنے پر پابندی برقرار، اسرائیلی سفیر نے فیصلے کو یہودی طرز زندگی پر حملہ قرار دے دیا

یورپی یونین کی عدالت انصاف نے بیلجیئم میں جانوروں کو کوشر اور حلال کرنے سے پہلے ساکت یا بے سدھ کرنے کی پابندی کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور مذہبی گروہوں کے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔

یورپی یونین کی اعلی ترین عدالت نے جانوروں کے حقوق کی بنیادوں پر انھیں ذبح کرنے سے پہلے بے سدھ کرنے کے بیلجیئیم کے قانون کی حمایت کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیلجیئم میں اسرائیل کے سفیر نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسے ’تباہ کن فیصلہ اور یورپ میں یہودیوں کی زندگی کے لیے ایک دھچکا‘ قرار دیا ہے۔

اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے یورپی راہبوں کی کانفرنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ پورے یورپ میں یہودی برادری اس فیصلے کو محسوس کرے گی۔

دوسری جانب کئی مسلم گروپ اس قانون سازی کے منظور ہونے اور جنوری 2019 میں عمل میں آنے سے پہلے ہی اسے کئی بار چیلنج کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

روئٹرز کے مطابق یورپی عدالت کے اس فیصلے نے دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی راہ کھول دی ہے۔

واضح رہے کہ مسلمانوں یا یہودیوں کے ذبح کرنے کے تقاضوں کے تحت جانوروں کی شہ رگ ایک ہی وار میں کاٹی جاتی ہے جبکہ جانور مکمل ہوش میں ہوتا ہے۔

یورپی قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے بےسدھ کیا جانا چاہیے تاکہ انھیں کوئی دباؤ یا تکلیف محسوس نہ ہو۔ جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے ساکت یا بے ہوش کرنے یہ کا عمل سٹننگ کہلاتا ہے۔

شمالی بیلجیئم میں فلینڈرز کی حکومت نے جمعرات کو ہونے والے اس فیصلے کو سراہا ہے جبکہ جانوروں کی بہبود کے وزیر بین ویٹس نے کہا ہے کہ ’آج ہم تاریخ لکھ رہے ہیں۔‘

جانوروں کے مفادات کے لیے کام کرنے والی بیلجیئم کی تنظیم گلوبل ایکشن نے کہا کہ یہ ایک زبردست دن اور 25 سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

اس فیصلے پر اس لیے بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ستمبر میں عدالت کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے فلیمش قانون کو منسوخ کرنے کی سفارش کے منافی ہے، جن کا کہنا تھا کہ جانوروں کی بہبود کے سخت قوانین کی اجازت اس صورت میں ہو سکتی ہے جب اس سے ’بنیادی‘ مذہبی رواج پامال نہ ہوں۔

عدالت نے کیا فیصلہ سنایا؟

یورپی یونین کی عدالت نے کہا ہے کہ تمام ممبر ممالک کو جانوروں کی فلاح و بہبود اور مذہب کی آزادی دونوں میں سمجھوتے کی ضرورت ہے اور یورپی یونین ممبر ممالک کو جانوروں کو بے سدھ کرنے سے نہیں روکتا جب تک کہ وہ بنیادی حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

عدالت نے قبول کیا کہ اس طرح کی پابندی لگانے سے مسلمانوں اور یہودیوں کے حقوق محدود ہوتے ہیں تاہم روایتی ذبیحہ پر پابندی عائد نہیں کی گئی اور بیلجیم کے اس قانون کی ’مذہب کے اظہار کی آزادی کے ساتھ مداخلت‘ سے یورپی یونین میں جانوروں کی بہبود کے فروغ کا مقصد پورا کیا گیا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیلجیئم کی پارلیمان نے سائنسی شواہد پر انحصار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جانوروں کی تکلیف کو کم کرنے کا حیرت انگیز طریقہ ہے اور یہ قانون جانوروں کی فلاح و بہبود اور مذہب کی آزادی کے مابین ’مناسب توازن‘ کی اجازت دیتا ہے۔