زیبدی مینیجمنٹ: گوچی کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی انسٹا پوسٹ کے پیچھے کن خواتین کا ہاتھ ہے؟

بی بی سی کی ہفتے وار سیریز دی باس میں دنیا بھر میں کاروبار کرنے والی مختلف شخصیات کا انٹرویو کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے زیبدی مینیجمنٹ کی بانی، لورا جانسن اور زوئی پروکٹر سے بات کی ہے۔ یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جو جسمانی اور سیکھنے سے معذور ماڈلز اور اداکاروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

زوئی پروکٹر اور لورا جانسن کو اس کاروبار کا خیال ساحلِ سمندر پر واک کرتے ہوئے آیا۔

لورا، جن کی شادی زوئی کے بھائی سے ہوئی ہے، یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ سنہ 2017 میں وہ سماجی کارکن کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں اور اس وقت زچگی کے دنوں میں اپنی نند سے ملنے گئی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم میڈیا میں معذور افراد کو نمائندگی نہ ملنے اور انھیں ان کے حقوق کیسے دلائے جا سکتے ہیں، اس کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔‘

زوئی معذور افراد کے لیے پرفارمنگ آرٹس کی استاد بننے سے قبل خود ایک ماڈل تھیں۔ واک کے دوران زوئی لورا کو بتا رہی تھیں کہ اُن کے اتنے باصلاحیت اور سیکھنے کے خواہش مند طلبہ کو محدود مواقع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دونوں خواتین نے سوچا کہ کسی ٹیلنٹ ایجنسی کے بغیر زوئی کے طلبا اور دیگر معذور افراد کو کبھی اداکاری یا ماڈلنگ کا کام کیسے ملے گا؟ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی ایک ایجنسی قائم کریں گی۔

لورا کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت سنسنی خیز لگتا ہے لیکن دراصل یہ حقیقت کا ادراک ہونے والے لمحے جیسا تھا۔‘

لنکن شائر کے ساحل سے واپس آنے کے بعد ہی اس منصوبے پر کام کا آغاز ہو گیا۔ انھوں نے اپنی کمپنی کا نام زبیدی کے نام پر رکھا۔ زبیدی بچوں کے انتہائی پسندیدہ ٹی وی پروگرام ’میجک راؤنڈ آؤٹ‘ میں ایک کردار ہے۔

لورا کا کہنا ہے کہ ’زبیدی کو نقل و حرکت کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ حقیقاً ایک خوش کر دینے والا تفریحی کردار بھی ہے۔‘

انھوں نے برطانیہ کے معذوری پر کام کرنے والے گروہوں کو ای میل کی اور قابلیت اور صلاحیتیں رکھنے والے افراد سے رابطہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تشکیل دیے۔

آج صرف تین سال بعد، زیبدی کے پاس دنیا بھر میں 500 سے زیادہ افراد کا اندارج ہو چکا ہے۔ ان کا صدر دفتر لندن میں ہے اور اس کے علاوہ نیویارک اور لاس اینجلس میں بھی ان کے دفاتر قائم ہیں۔

سنہ 2017 میں لورا اور زوئی کو اپنے پہلے کلائنٹس ملے۔ اب اُن کا اگلا چیلینج ایک قابل اعتماد ٹیلنٹ ایجنسی کی حیثیت سے شہرت حاصل کرنا تھا کیونکہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز ان ایجنٹوں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہیں جن کے متعلق انھیں معلوم ہے کہ وہ ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

تعلقات ہی سب کچھ ہیں

زوئی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ہر در کھٹکھٹایا، لوگوں کی منتیں کیں کہ ہم سے مل لیں۔۔۔ ہر کوئی یہی سوچتا تھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟‘

کاسٹنگ ڈائریکٹرز، ہر روز انڈسٹری کی ویب سائٹ پر ملازمت کے اشتہارات کی فہرست ڈالتے ہیں، جن میں وہ بتاتے ہیں کہ انھیں دکھنے میں کیسا کردار چاہیے اور اس کردار کی عمر یا صنف کیا ہونی چاہیے۔

اشتہار میں معذوری کا ذکر ہوتا یا نہیں، اس کے باوجود زوئی اور لورا نے ملازمت کے لیے اپنے کلائنٹس کے کام کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔

لورا کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم معذور افراد کے لیے مخصوص اشتہار کا انتظار ہی کرتے رہتے تو ہماری نوکریاں تو ہاتھ سے گئیں تھیں۔‘

انھیں پہلی کامیابی اس وقت ملی جب ان کے ایک کلائنٹ کو ہسپتالوں کے رنگین گاؤن ماڈل کرنے کے لیے چنا گیا۔ پہلے سال تقریباً 200 کرداروں کے لیے ان کے کلائنٹس کا انتخاب کیا گیا۔ اور سنہ 2020 میں بھی کورونا وائرس کی وبا کے باوجود بھی ان کے 600 کلائنٹ کو کام ملا۔

زیبدی مینیجمنٹ ہر کاسٹنگ سے دس سے 15 فیصد تک فیس لیتی ہے۔

لورا اور زوئی کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ایجنسی کا آغاز کیا تو اُن سے اکثر پوچھا جاتا تھا کہ کسی کلائنٹ کی نمائندگی کرنے کے لیے آپ کا خواب کیا ہے۔

لورا اس وقت نئی نئی ماں بنی تھیں، وہ نیپی یا بچوں کی صفائی کرنے والے رومال کے اشتہار پر کوئی معذور بچہ دیکھنے کی خواہشمند تھیں۔ زوئی کو امید تھی کہ ان کے کسی کلائنٹ کو صفِ اول کے فیشن برانڈ کی نمائندگی کرنے کا موقع ملے گا۔

اس موسم گرما میں اُن کے دونوں خواب پورے ہوئے۔

جون میں ایسیکس سے تعلق رکھنے والی ڈاؤن سنڈروم کا شکار 18 سالہ ایلے گولڈ سٹین، کو ووگ اٹلی اور گوچی کی شراکت داری میں بنائے گئے خوبصورتی کے ایک اشتہار میں، نمایاں چہرے کے طور پر چنا گیا۔

گوچی بیوٹی نے انسٹاگرام پر ایلی کی ایلسبکور مسکارا پہنے جو تصویر پوسٹ کی، وہ اس برانڈ کی آج تک کی سب سے زیادہ مشہور پوسٹ ہے اور اسے 117،000 سے زیادہ افراد نے پسند کیا ہے۔

ایلی کا کہنا ہے کہ ’گوچی کے اشتہار کی شوٹنگ واقعی میں زبردست تھی۔ میں نے بالوں کی بہت سی اشیا، کئی طرح کا میک اپ اور ملبوسات استعمال کیے۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگا۔ اور میں ایسا ہونے پر بہت حیران تھی۔‘

اسی دوران زبیدی کی ایک اور کلائنٹ لینی (ایک چھوٹی بچی) کو پورہ بیبی وائپس کے لیے ٹی وی اور پرنٹ کے اشتہاروں میں شامل کیا گیا تھا۔

لینی بھی ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہیں۔

ان کامیابیوں کے باوجود زوئی کا کہنا ہے کہ ان کے کچھ کلائنٹس کو ابھی بھی ایسے آڈیشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے نہیں بنائے جاتے۔

وہ کہتی ہیں ’آج بھی ہمارے کلائنٹس صرف اس وجہ سے کاسٹنگ سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ جسمانی طور پر وہ عمارتوں میں داخل ہی نہیں ہو سکتے۔ ویل چیئر پر بیٹھے بچے اندر نہیں جا سکتے کیونکہ عمارتوں میں ریمپ ہی نہیں مہیا کیا گیا۔‘

ایک اور واقعے میں وہیل چیئر استعمال کرنے والے بالغ کلائنٹ کو کسی انجان شخص کے ذریعے سیڑھیوں سے لانا پڑتا تھا، اور اس شخص کو معذور افراد کو اٹھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

لوئس کہتے ہیں ’میرا ماننا ہے کہ اگر کوئی شخص عمارت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا تو اس کے لیے انتظامات نہ کرنا بہت شرمناک اور توہین آمیز فعل ہے۔‘

تاہم کووڈ 19 نے اس مسئلے کو کم کیا ہے۔ جسمانی طور پر آڈیشن کی ضرورت نہیں رہی، لہذا کاسٹنگ ڈائریکٹرز نے ’سیلف ٹیپ (خود بنا کر بھیجی گئی ویڈیو)‘ کا طریقہ کار اپنا لیا ہے اور عام طور پر اب ماڈلز اپنے گھر سے بنائی گئی ویڈیو یا تصویر بھیجتے ہیں۔

کاسٹنگ ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ کیٹ ایونز کا کہنا ہے کہ زبیدی واقعی مثبت تبدیلیاں لا رہی ہے۔

’زیبدی مینجمنٹ اس بات کو یقینی بنانے میں سرفہرست ہے کہ اس صنعت میں متنوع صلاحیتوں کو نمائندگی کی جائے اور ہر طرح کے کرداروں پر غور کیا جائے۔‘

برطانیہ میں معذور افراد کے لیے مخصوص ایجنسیوں میں لورا اور زوئی کی بنائی گئی زبیدی دوسرے نمبر پر ہے۔ ویزئبیل کے نام سے سنہ 1993 میں بنائی گئی پہلی ایجنسی کو لوئس ڈیسن نے قائم کیا تھا۔ لیکن ان دونوں خواتین کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے پہلی بار اپنی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ ویزئیبل کے کاروبار سے لاعلم تھیں۔

لورا کا کہنا ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ خوش کُن ہے وہ یہ ہے کہ ان کے تمام کلائنٹس یہ کہتے ہیں کہ ’ان کی عزت نفس، اس چیز کا احساس کہ ان میں قابلیت ہے اور وہ خود اپنا پیسہ کما رہے ہیں، ایک بہترین احساس ہے۔‘

زوئی کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ میڈیا میں زبیدی پر توجہ دی گئی ہے لیکن انھیں امید ہے کہ ’یہ محض خبروں میں آنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔‘

’مجھے امید ہے کہ یہ ایک آغاز ہے۔۔ اشتہارات کی دنیا میں ایک حقیقی تبدیلی کا آغاز۔‘