لائیو شو کے دوران دانت ٹوٹنے کے باوجود یوکرین کی نیوز اینکر پرسکون رہیں

ٹی وی پر لائیو شو کے دوران کیمرے کے آگے اور پیچھے کئی ممکنہ مشکلات منڈلاتی رہتی ہیں۔ جیسے تکنیکی مسائل یا مہمانوں کی غیر متوقع گفتگو اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لائیو شو میں کچھ کاٹ کر دہرایا نہیں جاسکتا۔

گذشتہ ہفتے یوکرین کی نیوز اینکر مارچکا پادوکو کے ساتھ ایک غیر معمولی مسئلہ اس وقت پیش آیا جب لائیو شو کے دوران ان کا ایک سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔

لیکن صحیح معنوں میں ایک پیشہ ور اینکر ہونے کے ناطے وہ گھبرائی نہیں۔ انھوں نے باآسانی وہ دانت منہ سے نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس کے ساتھ شو جاری رکھا۔

انھوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر بتایا ’سچ میں مجھے لگا کہ اس چیز پر کسی کا دھیان نہیں جائے گا۔‘

مارچکا پادوکو نے واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’لیکن ناظرین کی توجہ کے حوالے سے ہمارے اندازے غلط نکلے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ قریب ایک دہائی قبل ان کا یہ دانت خراب ہو گیا تھا۔ ان کی بیٹی دھات سے بنے الارم کلاک سے کھیل رہی تھا کہ اچانک حادثاتی طور پر یہ انھیں جا لگا تھا۔ اس کے بعد انھیں اس دانت کو بنوانا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آغاز میں چینل نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس واقعے کی ویڈیو یوٹیوب پر شائع نہیں کریں گے۔ لیکن مارچکا پادوکو اس بات سے کافی متاثر ہوئی ہیں کہ انٹرنیٹ پر لوگوں نے ان کی حمایت کی ہے۔

نیوز اینکرز اور عام لوگوں کے لیے بھی ان کا مشورہ ہے کہ ہر حال میں ’پُرسکون رہیں۔‘

’20 سال تک اینکر رہنے کے دوران یہ میرے کیریئر کا سب سے پرتجسس لمحہ ہے۔ لائیو براڈکاسٹنگ مزے دار ہوتی ہے کیونکہ اس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ ایک دوست نے کہا کہ آپ کا برتاؤ تو ایسا تھا جیسے آپ کا دانت روز ٹوٹ جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب انھوں نے صحیح طرح اپنے دانتوں کی مرمت کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مارچکا نے اپنے پیغام کا اختتام ’اب آپ سے ملاقات کل صبح ہوگی‘ سے کیا۔

’ایسے اینکر تو امریکہ میں بھی نہیں‘

انسٹاگرام پر ایک صارف نے لکھا: ’میرے بھی سامنے کے دانتوں کی مرمت ہو چکی ہے۔ یہ ایک بُرے خواب کی طرح ہوتا ہے۔ جب میں لوگوں میں بات کر رہا ہوتا تھا تو یہ خود ہی نکل جاتے تھے۔ لیکن اینکر نے بہت پُرسکون انداز میں مشکل کا سامنا کیا۔‘

ایک دوسرے صارف کے مطابق ’مشکل میں خود کو قابو رکھنے پر میں آپ کی تعریف کرتا ہوں۔ جس ہوشیاری سے آپ نے دانت کو چھپایا یہ بہترین تھا۔‘

مارکس نامی صارف کا کہنا تھا کہ: ’کیا بات ہے۔ ایسے اینکر تو جنوبی امریکہ میں بھی نہیں ہیں۔‘