آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان بریک ڈانسرز: کابل کے وہ نوجوان جو جنگ سے دور رہنے کے لیے بریک ڈانس کرتے ہیں
افغانستان میں خودکش حملوں اور نہ ختم ہونے والی جنگ کے دور میں افغانی نوجوانوں کے ایک گروہ نے ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بریک ڈانس کا راستہ اپنایا ہے۔
’ٹاپ سٹیپ‘ نامی اس ڈانس گروپ کے نوجوان کابل کے فرانسیسی تقافتی سینٹر میں بریک ڈانس کے نئے انداز سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جن میں ٹاپ راکنگ، ہیڈ سپن، اور فریز شامل ہیں۔ وہ یوٹیوب کی مدد سے معروف بریک ڈانسرز کی ویڈیوز دیکھتے ہیں اور ان جیسی مہارت کے خواہش مند ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
23 برس کے افغانی بریک ڈانسر مرتضیٰ لمانی بتاتے ہیں 'ہمیں بریک ڈانس ذہنی دباؤ اور جنگ سے دور رکھتا ہے۔ اس سے ہمیں آزادی ملتی ہے۔ اس کی مدد سے ہم کابل میں رہنے کی پریشانی، جنگ اور ہلاکتوں کو بھول پاتے ہیں۔'
افغانستان کے قدامت پسند معاشرے میں بریک ڈانس ایک نایاب منظر ہے۔ یہاں ریڈیو پر زیادہ تر روایتی گیت سنے جاتے ہیں اور ڈانس بھی ایسی شادیوں میں ہوتا ہے جہاں مرد اور خواتین علیحدہ بیٹھے ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن افغانی نوجوانوں کے اس گروہ میں مرد اور خواتین دونوں حصہ لیتے ہیں۔ کابل کا یہ ثقافتی سینٹر شاید ان چند مقامات میں سے ایک ہو گا جہاں ایسا ممکن ہے۔ مرتضیٰ بتاتے ہیں کہ وہ یہاں پریکٹس کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں انھیں کوئی خطرہ نہیں۔
طالبان نے کچھ دن قبل اس سینٹر پر اس لیے حملہ کیا تھا کہ یہاں خودکش بمباری کے بارے میں ایک پلے کا انعقاد ہوا تھا۔ اس حملے میں مرتضیٰ بھی زخمی ہوئے تھے۔
جنسی استحصال
بریک ڈانسرز کے اس گروہ میں چار خواتین بھی ہیں۔ ان میں سے ایک بریک ڈانسر عالیہ کہتی ہیں کہ ابھی بھی انھیں کئی باتوں پر تشویش ہے۔
وہ بتاتی ہیں 'اگر آپ کہیں باہر (بریک ڈانس کی) ٹریننگ کریں تو لوگ آپ کی تذلیل کرتے ہیں۔'
عالیہ بتاتی ہیں کہ نوجوان خواتین بریک ڈانس کرنا چاہتی ہیں لیکن انھیں ان کے خاندان کے افراد اجازت نہیں دیتے۔
وہ کہتی ہیں 'کسی لڑکی کے لیے بریک ڈانس کرنا بہت مشکل ہے، خاص کر کے افغانستان میں جہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں اس کی اجازت نہیں۔'
دنیا میں میں بریک ڈانس کا شوق سنہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب وہ ریپ میوزک سنتے تھے اور دیواروں پر گرافیٹی آرٹ بناتے تھے۔
لیکن جہاں پوری دنیا میں اسے پذیرائی ملی تو وہیں افغانستان میں جنگ اور شدت پشندی کی وجہ سے ڈانس کا یہ انداز مقبول نہ ہو سکا۔
'چھپ کر بریک ڈانس کرتے رہیں گے'
مرتضیٰ بتاتے ہیں 'گذشتہ کچھ برسوں کے دوران افغان معاشرہ تھوڑا بدل گیا ہے۔ ’لوگ بدل چکے ہیں اور مثبت سوچ رکھتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ سنہ 2011 میں بریک ڈانس شروع کیا تو لوگ ان پر ہنستے تھے۔
'اب ہم نے کچھ نوجوانوں کو رضا مند کر لیا ہے۔ یہ بہت اچھا ہے کہ اب ہم بریک ڈانس کر سکتے ہیں۔'
خواتین بریک ڈانسرز کو ملنے والی دھمکیوں کے باوجود عالیہ نے کہا ہے کہ وہ اسے جاری رکھیں گی اور اگر 'ایک دن طالبان آتے ہیں تو ہم اسے عام عوام کے لیے بند کر دیں گے لیکن چھپ کر انڈر گراؤنڈ بریک ڈانس کرتے رہیں گے۔'
۔