آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب: گلوکارہ مراعیا کیری سے کنسرٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ
گیتوں میں سیاسی الفاظ کا استعمال ہو یا امن اور دیگر مقاصد کے لیے کنسرٹس، موسیقی اور سیاست کا ہمیشہ سے ہی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔
لیکن اب مشرق وسطیٰ میں ایک نیا رجحان جنم لے رہا ہے: سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلا کر ایسے مشہور و معروف بین الاقوامی فنکاروں پر بھی اپنے کنسرٹس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
حال ہی میں امریکی پاپ سٹار اور گلوکارہ مراعیا کیری ایسے ہی تنازعے کا شکار ہوئیں۔
اس حوالے سے مزید پڑھیے
31 جنوری بروز جمعرات مراعیا کیری کو ڈی جے ٹیئیسٹو اور گلوکار شان پال کے ہمراہ سعودی عرب میں کنسرٹ کرنا ہے، لیکن سماجی کارکن سلطنت میں مراعیا کیری پر اپنے پہلے کنسرٹ کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اس کی وجہ شاہی حکومت کی طرف سے خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی معاشرے میں ’اعتدال پسندی‘
سعودی عرب میں مراعیا کیری کے کنسرٹ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے دنیا کو سعودی معاشرے کی معتدل تصویر پیش کرنے کے ایجنڈے کا اہم عنصر تصور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ملکی تاریخ میں پہلی بار عوام کے لیے سنیما گھر کھولے گئے اور گزشتہ دسمبر میں گلوکار اینریقے اگلیسیاس سے لے کر بلیک آئیڈ پیز جیسے مشہور ستاروں نے سلطنت میں کنسرٹ کیے۔
لیکن جمعرات کو ہونے والے مراعیا کیری کے کنسرٹ کو روکنے کی کوشش کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی ’کوڈ پنک‘ نامی تنظیم ایک پٹیشن شروع جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فنکاروں سے سعودی عرب کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کریں۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے ’اگر آپ کنگ عبداللہ اکنامِک سٹی کے سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ میں جلوہ گر ہوں گی تو آپ جنگی جرائم اور خواتین، صحافیوں اور کسی بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے پر جبر کو فن اور تفریح کی مدد سے چھپانے کی سعودی کوشش میں حکومتی مہم کا حصہ بنیں گے۔‘
کوڈ پنک کی طرف سے مزید کہا گیا ’اگرچہ حال ہی میں سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کا حق حاصل ہوا ہے، لیکن سلطنت نے خواتین کے گاڑی چلانے کے حق کے لیے مہم چلانے والی متعدد بہادر خواتین کو گرفتار کیا، انھیں جیل میں ڈالا کیا اور ان پر تشدد کیا۔‘
’مردوں کی سرپرستی کے جابرانہ نظام کے تحت سعودی عرب کی خواتین کو سفر کرنے، تعلیم حاصل کرنے، پاسپورٹ لینے، شادی کرنے اور زندگی کے دیگر افعال کو سر انجام دینے کے لیے مرد کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
حال ہی میں کینیڈا نے اپنے سعودی خاندان کے ظلم وستم سے تنگ آ کر گھر سے بھاگنے والی ایک نوجوان لڑکی رہف محمد القنون کو پناہ دی۔
اکتوبر 2018 میں ترکی کے دارالحکومت استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد سعودی حکومت کو بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل پر تنقید
دوسری جانب اسرائیل میں فلسطینیوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے پیشِ نظر مہم چلانے والوں نے ماضی میں متعدد فنکاروں پر وہاں کنسرٹ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
لیکن اسرائیل پر کی جانے والی تنقید اور بائیکاٹ کی مہم کے باوجود ہر فنکار نے اسرائیل میں کنسرٹ نہیں منسوخ کیا۔