پاکستان میں جعلی کتب سے نقصان کس کا؟

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

کیا کتاب خریدتے ہوئے آپ نے یہ سوچا کہ یہ اصلی نہیں تو نہ خریدی جائے؟ یا جعلی کتاب خرید کر آپ مصنف کا حق مار رہے ہیں اور یا کہ یہ ایک چوری ہے؟

بیشتر لوگ یہ نہیں سوچتے اسی لیے بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کو بک پائرسی یعنی جعلی کتب کا گڑھ کہتی ہیں اور اکثر حقوق دانشمندانہ یعنی کاپی رائٹس پر بحث کا رخ یہ کہہ کر موڑ دیا جاتا ہے کہ ملک اس سے زیادہ بڑے مسائل کا شکار ہے۔

جعلی کتاب کی اشاعت اور بیچنا ایک جرم ہے لیکن اس جرم کی روک تھام کو پاکستان میں بڑی حد تک نظرانداز کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس چوری کو معاشرے میں فروغ مل رہا ہے اور بیشتر ماہرین کے بقول اس سے آنے والی نسلوں میں لکھنے لکھانے کے شوق کی بھی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

اس سلسلے میں مصنف جمعہ خان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’لکھنے والے کے لیے کتاب اپنے بچے کی مانند ہوتی ہے اور اگر کوئی آپ کی مرضی کے بغیر اسے چھاپے تو آپ کی جان نکل جاتی ہے کیونکہ کوئی اپنے بچے کو کیسے کسی کے حوالے کر سکتا ہے۔ مصنف مطالعہ کرتا یا اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں لکھتا ہے اس لیے اپنی تخلیق اس کے دل کے بہت قریب ہوتی ہے۔‘

منافع کے لیے کسی کی تخلیق بغیر مرضی کے چھاپنے اور پیچنے کے جرم میں سات برس تک کی قید کی مثال ملک میں موجود ہے۔ اسی امید میں جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب کی جعلی نقول چھاپنے والوں کے خلاف عدالت کا دروازە کھٹکھٹایا لیکن کئی دھکے کھانے کے بعد کچھ فائدہ نہ ہوا۔

اس سلسلے میں انہوں نے بتاتا ’ایک سال دھکے کھانے کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے پائریٹ کو قید تو کیا گیا مگر اسے ضمانت مل گئی اور وہ آج بھی جعلی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

بچوں میں پائریسی کے نقصانات کی آگاہی کے لیے حال ہی میں آکسفورڈ یونیوسٹی پریس نے ملک گیر پتلی تماشے منعقد کیے۔ بچوں کے من پسند انکل سرگم نے بچوں کو اس جرم کے بارے میں بتایا۔

اس سلسلے میں آکسفورڈ یونیوسٹی پریس کے فیاض راجہ نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو جعلی کتابیں خریدنے سے روکیں کیونکہ یہ تاثر غلط ہے کہ پائریٹڈ کتابیں سستی ہیں بلکہ اکثر پبلیشرز اصلی کی قمیت میں ہی پائریٹڈ کتاب محض اپنے مالی مفاد کے لیے بیچ رہے ہیں۔ اس لیے یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ کوئی رابن ہوڈ ہیں اور سستی کتابیں بیجتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’پاکستانی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک روایت ہے اس لیے چاہے جعلی کتاب ہو یا اصلی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کا نقصان انجینیرنگ اور میڈیکل کے طالب علموں کو بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اگر انہیں پائریٹڈ کتاب میں رنگ یا مس پرنٹنگ کی وجہ سے کوئی چیز سمجھ نہیں آتی تو وہ امتحان میں کیسے پاس ہوں گے؟‘

راولپنڈی کی چیک مارکیٹ جعلی کتابوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک دکاندار حمید احمد نے کہا ’اکثر والدین کے پاس نئی کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں ہوتےاس لیے وہ نقلی کتاب پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ کم سے کم بچے کی رسائی تو کتاب تک ممکن ہو پا رہی ہے۔‘

تاەم بیشتر ماہرین کے بقول حکومت کو چاہیے کہ بچوں تک کتابوں کی رسائی یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ لائبریرز بنائے، پائریسی کے حوالے سے موجودہ قوانین کی عمل داری کو ممکن بنائے تاکہ مصنف کی حوسلہ شکنی نہ ہو اور وہ دو دو نوکریاں کرنے کے بجائے وہ کتابی مواد پیدا کرنے پر پوری توجہ لگا سکیں۔