آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اردو لغت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت
- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اردو لغت انٹرنیٹ اور موبائل پر دستیاب بھی دستاب ہوگی۔ اس کے علاوہ اسے صوتی شکل دیے جانے کا منصوبہ بھی ہے۔
یہ بات اردو لغت بورڈ کے چیف ایڈیٹر عقیل عباس جعفری نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
عقیل جعفری کا کہنا تھا کہ صوتی لغت پر بھی کام شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ اردو لغت انٹرنیٹ اور موبائل ایپ کے ذریعے بھی دستیاب ہو گی۔
انھوں نے بتایا کہ بورڈ نے بچوں کی ایک لغت پر بھی ستّر فی صد سے زیادہ کام مکمل کر لیا ہے۔
صوتی لغت کا مطلب یہ ہوا کہ دیگر ترقی یافتہ زبانوں کی طرح اردو کی یہ لغت آواز میں بھی دستیاب ہوگی جو اس سے استفادہ کرنے والوں کو الفاظ کا درست تلفظ جاننے میں مدد دے گی۔
بطور مستقل چیف ایڈیٹر عقیل عباس جعفری کا تقرر دسمبر دو ہزار سولہ میں ہوا۔ ان سے قبل دو ہزار دس تک لغت بورڈ کی چیف ایڈیٹر معروف فہمیدہ ریاض تھیں۔
چھ برس تک ایڈیٹر مقرر نہ ہونے کے وجہ سے لغت کے کئی کام ادھورے رہ گئے اور جو نئی جلدیں شائع ہونا تھیں وہ بھی نہ ہوسکیں۔
توقع ہے کہ حرف کا وہ سفر جو کئی سال تک ایڈیٹر نہ ہونے کی وجہ سے رکا ہوا تھا، اسے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آ ہنگ کر کے آ گے بڑھایا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اردو لغت بورڈ نے حروف تہجی کے لحاظ سے اردو لغت کی بائیس جلدیں شائع کی ہیں۔ تاہم ایک مستقل چیف ایڈیٹر کی عدم موجودگی میں ہر جلد کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن نہیں آ سکا۔
اردو لغت بورڈ کی ملکیت میں پانچ ہزار کے قریب نادر کتابوں اور نسخوں کا ذخیرہ بھی ہے جس کا بیشتر حصہ بابائے اردو مولوی عبدالحق دہلی کی انجمن ترقی اردو سے کراچی لائے تھے۔
ان کتابوں کو آ ن لائن فراہم کر کے بھی محققین اور طلبا کے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن عقیل عباس جعفری کے مطابق ا س کام کے لئے بہت وقت اور انتظامی وسائل درکار ہوں گے۔
نئے چیف ایڈیٹر کے پاس منصوبے تو ہیں لیکن انہیں بورڈ کے کئی انتظامی امور میں مدد درکار ہے۔ ان کے مطابق بورڈ کے لئے کام کرنے والے قابل لوگ ریٹائر ہوتے چلے گئے جن کا متبادل نہ مل سکا اور اس وقت بھی بورڈ کی ستائیس آسامیاں خالی ہیں۔
لغت کی افادیت اور بورڈ کی ذمہ داریوں کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان کی وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر سلمان محمد نے کہا کہ زبان میں اصطلاح سازی کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔
اردو لغت بورڈ آکسفورڈ ڈکشنری کی طرز پر بنایا گیا تھا لیکن اپنے تمام مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کی فروغ کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ اور یہ کہ بورڈ کے عہدیداروں کا مستقل بنیاد لازمی ہے۔
سائنس، ٹیکنالو جی، سوشل میڈیا میں جس تیزی سے ترقی جاری ہے اسی تیزی سے نئے الفاظ تراکیب اور اصطلاحات کا زبان میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
عقیل عباس جعفری کے مطابق اردو لغت کو نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہےکہ یہ وسعت بھی پیدا کرنا ہوگی کہ جن انگریزی الفاظ کا متبادل موجود نہیں انھیں اسی طرح شامل کر لیا جائے۔ مثال کے طور پر بلاگ یا ٹویٹر جیسے الفاظ جوں کے توں ہی اپنا لئے جائیں۔