آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’انڈیا سے کشیدگی کے معاملے میں تفریح کو کیوں گھسیٹتے ہو؟‘
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے شہر لاہور میں کچھ عرصہ قبل ایک سڑک سے گزرتے ہوئے ایک بینر پر نظر پڑی جس پر ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے درج تھا 'کوئی بھی مشکوک سرگرمی' نظر آنے پر دی گئی ہلیپ لائن پر فون کریں اور اس کے ساتھ ہی دوسرا سرکاری بینر آویزاں تھا 'اگر کوئی پتنگ بازی کرتا ہوا نظر آئے تو نیچے دی گئی پولیس کی ہیلپ لائن پر فون کریں۔'
پاکستان میں اوڑی حملے اور بعد میں انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوؤں کے بعد کچھ ایسی ہی صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ملک میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے انڈین چینلوں اور انڈین مواد دکھائے جانے پر ایسا مواد نشر کرنے والے ادارے کا لائسنس بغیر کسی نوٹس کے فوری طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس باضابطہ اعلان سے پہلے ہی مختلف سینیما ہاؤسز کے مالکان اور کیبل آپریٹر اپنے طور پر انڈین فلموں اور دیگر تفریحی مواد پر پابندی لگا چکے تھے اور ان اقدامات کا چند حلقوں نے خیرمقدم کیا لیکن کچھ لوگوں کے خیال میں جنرل ضیاالحق کے دور میں تفریحی مواقع پر جو سختیاں کی گئی تھی ان کی تلافی اب جا کر کہیں ہونے لگی تھی اور اگر اس تسلسل میں رکاؤٹ آئی تو فائدے سے زیادہ نقصان ہمارا اپنا ہو گا۔
تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق پابندیوں کا سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا کیونکہ ایک تو ملک میں انڈین تفریحی مواد بہت مقبول ہے اور دوسرا بہت سارے ٹی وی چینلوں اور ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو اسی مواد کو براڈ کاسٹ کرنے سے زیادہ آمدن ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ 'پاکستان کا رویہ ہی ہوتا ہے جس میں بہت گھسے پٹے اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان میں شدت پسندی کا عنصر پر مبنی بیانات بہت مقبول ہوتے ہیں جیسا کہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،' وغیرہ اور اس کی وجہ سے پابندیوں کے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصے تک نہیں رہے گا اور چند دن بعد لوگ دوبارہ انڈین فلمیں اور دیگر تفریحی مواد دیکھنا شروع کر دیں گے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں پہلے سے محدود تفریحی کے مواقع اور پھر حکومت کی جانب سے ملک میں شدت پسندی کی روک تھام کے حوالے سے بیانات دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار راشد رحمان نے کہا ہے کہ انڈیا میں بھی پاکستانی فنکاروں پر پابندی اور ان کے ملک کے نکل جانے کے بارے میں کہا جا رہا ہے اور ہماری جانب سے حالیہ اقدامات ادلے کا بدلہ ہے۔
'لیکن ہم ان سے دو ہاتھ آگے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انڈیا کا تفریحی سیکٹر بہت ہی ترقی کر چکا ہے لیکن اور انھیں کسی قسم کا عدم تحفظ نہیں لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہیں، پہلے ہم کہتے آئے ہیں کہ انڈین فلموں کے آنے سے ہماری سینیما انڈسٹری کا احیا ہوا اور یہ ابھی پاؤں پر کھڑی بھی نہیں اور ہم نے اب انڈین فلموں پر پابندیاں لگا دی اور اب اس حوالے سے سختیوں میں پیمرا بھی کود پڑا ہے۔'
راشد رحمان کے مطابق انڈیا میں اور ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ باتیں کر رہے ہیں کہ 'آرٹ، تفریح کو اس سارے معاملے میں کیوں گھیسٹ رہے ہو؟'
اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ انڈیا میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف مہم چلی ہے تو اس کی مذمت کرنے والے اور ان کے حق میں بولنے والے بھی بہت لوگ سامنے آئے ہیں جن میں اداکار اور فلم پروڈیوسر بھی شامل ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔