آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
12 سال تک کی لڑکیوں کا ریپ اور جنسی استحصال کرنے والے امام مسجد کو عمرقید: ’وہ کہتا تھا میرے پاس مافوق الفطرت طاقتیں ہیں‘
- مصنف, کیتھرین وائٹ
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انتباہ: اس مضمون میں جنسی حملوں اور ریپ کی تفصیلات شامل ہیں، جو قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں
’آریا‘ (فرضی نام) کی عمر 13 سال تھی جب ایک مسجد کے پیش امام نے اُنھیں ’علاج‘ کے نام پر جنسی طور پر ہراساں کیا۔
مشرقی لندن کی ایک مسجد میں تعینات امام مسجد عبدالحلیم خان کم عمر لڑکیوں اور اُن کے والدین سے کہا کرتے تھے کہ انھیں ’بدروحوں‘ سے نجات کے لیے ’علاج‘ کی ضرورت ہے۔
’علاج‘ کے نام پر لڑکیوں پر جنسی حملوں کے بعد وہ انھیں خبردار کرتے تھے کہ اگر اُنھوں نے کسی کو اس بارے میں بتایا تو علاج کے اثرات ختم ہو جائیں گے، اںھیں بددعا لگ جائے گی، یا کالے جادو کے ذریعے اُن کے اور اُن کے خاندان والوں کو نقصان پہنچے گا۔
آریا کہتی ہے کہ ’میں واقعی سمجھتی تھی کہ اُن (امام مسجد) کے پاس مافوق الفطرت طاقتیں ہیں۔ مجھے دھمکایا گیا کہ اگر میں نے کبھی اس بدسلوکی کے بارے میں کسی سے بات کی تو ’میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کچھ بہت بُرا ہو گا۔‘
اور آریا اکیلی نہیں تھیں۔
عبدالحلیم خان نے انھیں ہتھکنڈوں کے ذریعے 11 سال کے دوران سات خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا۔ اُن کی سب سے کم عمر متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 12 سال تھی۔
وہ لڑکیوں کو قائل کرتے تھے کہ وہ ویران مقامات پر اُن سے ملیں، جیسا کہ کسی فلیٹ پر یا گاڑی میں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لڑکیوں سے ملاقاتوں کے دوران وہ خود کو جِنّ، یعنی ایک مافوق الفطرت شے، ظاہر کرتے ہوئے اُن کے ساتھ ریپ کرتے یا اُن پر جنسی حملے کرتے تھے۔
اس کام کے لیے وہ ایسی گاڑیوں کا انتخاب کرتے جن کے شیشے کالے (ٹینٹڈ) ہوتے۔ اُنھوں نے ایک متاثرہ لڑکی کو فون بھی دیا تاکہ وہ اُن سے مستقبل میں رابطہ رکھ سکے، ایک اور لڑکی کو اُنھوں نے اپنے گھر کے کمرے کی کھڑکی کے ذریعے باہر نکل کر اُن سے ملنے کی ترغیب دی۔
آریا کی والدہ نے ہی اُنھیں اس امام مسجد سے ملوایا تھا، کیونکہ سکول میں وہ کچھ مسائل سے دوچار ہونے لگی تھی۔
اُن کی والدہ کو اُمید تھی کہ امام مسجد انھیں کوئی مشورہ دے گا۔ جب وہ ملے تو عبدالحلیم خان نے آریا کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ آریا کے بقول ’اُنھوں (امام مسجد) نے اُسی وقت مجھے غیر مناسب انداز سے چُھوا۔‘
’میں نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں، اُنھوں نے کہا کہ گاڑی کی کھڑکی پر ابھی دستک ہو گی اور پھر واقعی ایسا ہوا، میں نے وہ دستک سنی تھی، لیکن میں صرف 13 سال کی تھی اور بہت خوفزدہ تھی۔‘
54 سالہ عبدالحلیم خان کو اِن ہولناک جرائم پر اب عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس میں کم از کم 20 سال قید شامل ہے۔
اس پر ریپ کے نو الزامات سمیت جنسی حملوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے متعدد الزامات ثابت ہوئے۔ ان کے متاثرہ افراد میں مقامی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی سات متاثرین شامل تھیں۔
عبدالحلیم خان نے سنہ 2004 سے سنہ 2015 کے درمیان ان جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو خاموش رکھا۔
پولیس کو سنہ 2018 میں اُن کے جرائم کا علم اس وقت ہوا جب اُن کی جانب سے نشانہ بنائی گئی سب سے کم عمر متاثرہ لڑکی نے اپنے سکول کے ڈاکٹر کو اس بدسلوکی کے بارے میں بتایا۔
اُن پر فرد جرم عائد ہونے میں مزید پانچ سال لگے۔
بی بی سی نے عبدالحلیم خان کی دو متاثرین سے ان کے تجربات کے بارے میں بات کی ہے۔
’میرے خاندان نے مجھ پر یقین نہیں کیا‘
’فرح‘ (فرضی نام) بچپن میں عبدالحلیم خان سے اس وقت ملیں جب خان نے اُن کی والدہ کو قائل کیا کہ ’فرح‘ کو علاج کی ضرورت ہے۔ فرح کہتی ہیں کہ اُس نے میرے خاندان کی سادگی سے فائدہ اُٹھایا۔
فرح کہتی ہے کہ ’وہ کہانیاں گھڑتے تھے کہ میں (مافوق الفطرت) چیزوں کو تمھاری طرف آتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں، تمھیں تحفظ کی ضرورت ہے، مجھے تمھاری حفاظت کرنی ہے۔‘
بعد میں خان نے فرح پر متعدد جنسی حملے کیے اور انھیں بتایا کہ یہ ’علاج‘ کا حصہ ہے۔
وہ کہتی ہے کہ یہ بدسلوکی ’مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ مگر میں نے خود سے کہا کہ یہ غلط ہے۔‘
’آپ جانتے ہیں کہ آپ کو اس طرح نہیں چُھوا جانا چاہیے، میں بہت اُلجھن میں تھی اور مجھے لگتا تھا کہ اگر میں نے اپنے اہلخانہ کو بتایا بھی تو وہ مجھ پر یقین نہیں کریں گے۔‘
فرح کہتی ہیں کہ ’میں نے کچھ برسوں بعد اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا لیکن اُنھوں نے اس پر یقین نہیں کیا اور پھر اس کے بعد میں نے اپنا گھر چھوڑ دیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے اپنے خاندان نے مجھ پر یقین نہیں کیا۔ جن لوگوں سے مجھے تحفظ اور حمایت کی توقع تھی انھوں نے منھ موڑ لیا، مجھے ہی موردِ الزام ٹھہرایا اور وہ آج تک ایسا ہی کرتے ہیں۔‘
’مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں کھو گئی ہوں۔ میں اپنی شناخت پر سوال اٹھاتی ہوں کہ میں کون ہوں؟ میرا تعلق کہاں ہے؟‘
’دھمکایا گیا اور ذہنی طور پر قابو میں رکھا گیا‘
اس کیس پر کام کرنے والی کراؤن پراسیکیوشن سروس کی وکیل میلِسا گارنر کہتی ہیں کہ اُںھوں نے اپنے کریئر میں اس نوعیت کا کیس نہیں دیکھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’عبدالحلیم خان نے متاثرین کو دھمکایا اور ذہنی طور پر قابو میں رکھا، تاکہ وہ یہ یقین رکھیں کہ وہ کسی چیز کے زیر اثر ہیں۔‘
’یہ انتہائی چونکا دینے والا معاملہ تھا اور جب آپ متاثرہ لڑکیوں کی گواہی سنتے ہیں تو یہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔‘
برسٹل یونیورسٹی میں کرمنالوجی کی پروفیسر اور اس کیس میں ماہر گواہ عائشہ کے گل کہتی ہیں کہ اگرچہ اسلامی تعلیمات کالے جادو کی حمایت نہیں کرتیں، پھر بھی اس کا ’نمایاں ثقافتی اثر‘ موجود ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’متاثرین کو اس بات پر یقین دلایا گیا کہ صرف عبدالحلیم خان ہی انھیں اور اُن کے خاندانوں کو تباہ کُن مافوق الفطرت نقصان سے بچا سکتا ہے اور اس کے کنٹرول سے نکلنے کی صورت میں انھیں سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسلم خواتین کے لیے جنسی تشدد کے بارے میں بات کرنا شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
اُن کے بقول بہت سی خواتین کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ نجی معاملات پر خاندان سے باہر بات نہ کریں اور کیونکہ یہ اُن کے لیے باعث شرم ہو سکتا ہے، حالانکہ ایسا مجرم کے لیے ہونا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ مذہبی اختیار، روحانی خوف اور ثقافتی کمزوری کا یہ امتزاج اس کیس کو بہت خاص بناتا ہے۔
طویل مدتی اثرات
فرح کہتی ہے کہ اُنھوں نے عام بچپن نہیں گزارا بلکہ اُنھوں نے برداشت کرنا سیکھا۔
وہ دیگر متاثرین کو پیغام دیتی ہے کہ ان کی قدر اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، اور وہ اکیلی نہیں ہیں۔
اگرچہ آریا کی عمر بہت کم تھی جب اُن پر پہلی بار جنسی حملہ ہوا، لیکن اُنھوں نے اپنی والدہ کو اس بارے میں پہلی بار اس وقت بتایا جب اُن کی عمر 20 سال تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ اس واقعے نے اُن کی زندگی پر دیرپا اثر ڈالا۔
’کبھی کبھی آپ سوچتے ہیں کہ اگر یہ میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں بطور انسان کیسی ہوتی؟‘