آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر ایک ’فیور‘ کے طور پر کی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایئرفورس ون پر امریکی صحافیوں سے گفتگو

چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں‘۔

خلاصہ

  • ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر ایک ’فیور‘ کے طور پر کی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایئرفورس ون پر امریکی صحافیوں سے گفتگو
  • انڈین وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات، مودی کی امارات پر حملوں کی مذمت
  • ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات، نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے جبکہ صدر شی نے انھیں بتایا ہے کہ چین ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دے گا
  • صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ چین امریکہ سے نہ صرف تیل خریدے گا بلکہ انھوں نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا بھی وعدہ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی

    پاکستان کی وزارت توانائی نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 409.78 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 409.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قریب 15، 15 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

    مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران تین مرتبہ کمی بھی کی گئی ہے۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی۔

    روئٹرز کے مطابق گذشتہ روز عالمی منڈیوں کی تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا اور برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔

  2. بریکنگ, اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا: امریکی محکمۂ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کو آگے بڑھائے گی، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے گا اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سکیورٹی قائم کی جائے گی۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے۔

    بدھ کے روز لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک کے جنوبی علاقوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے، جن میں آٹھ بچے شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جون میں مذاکرات کے سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرے گا۔

    ’29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی ٹریک شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شرکت کریں گے۔‘

  3. پاکستان اور ایران کے 31 شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی، سنگاپور کے تعاون سے پاکستانی شہری جلد واپس گھر پہنچ جائیں گے: اسحاق ڈار

    پاکستانی حکام کے مطابق 11 پاکستانی شہریوں اور ایران کے 20 شہریوں کو، جو امریکی حکام کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں ضبط کیے گئے جہازوں پر سوار تھے، کامیابی کے ساتھ وطن واپس لایا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ان تمام افراد کو سنگاپور کے راستے محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ بنکاک پہنچ چکے ہیں اور اسلام آباد کے لیے پرواز پر سوار ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ افراد آج رات اسلام آباد پہنچ جائیں گے، جبکہ ایرانی شہریوں کو بعد ازاں ان کے ملک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

    بیان کے مطابق تمام افراد کی صحت تسلی بخش ہے اور وہ حوصلہ مند ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً مشکلات میں گھرے شہریوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس عمل میں تعاون پر سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن، وزیرِ اعظم اور سنگاپور کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ایرانی شہریوں کی واپسی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا۔

    اسحاق ڈار نے امریکہ اور تھائی لینڈ کی بھی تعریف کی جنھوں نے 31 افراد کی واپسی کے عمل میں قریبی تعاون فراہم کیا اور بنکاک کے ذریعے ٹرانزٹ کی سہولت دی۔

    اسحاق ڈار نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور سنگاپور و تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفارتی مشنز کی مشترکہ کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کی بروقت کوششوں سے یہ کارروائی محفوظ اور کامیاب طریقے سے مکمل ہوئی۔

  4. کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت: ’عامر شفیع کی ایک ماہ قبل دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی‘, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے صحافی نصیر چوہدری اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ریاض مسرور

    پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں انڈین فوج انھیں درانداز اور عسکریت پسند قرار دے رہی ہے جبکہ اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور میت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے علاقے بٹل چوکی سے تعلق رکھنے والے چوہدری عامر شفیع کے والد محمد شفیع نے 12 مئی 2026 کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانہ سہڑا میں درج کروائی تھی۔ درخواست کے مطابق عامر شفیع اسی روز تقریباً 11 بجے گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں لوٹے۔

    پولیس حکام کے مطابق گمشدگی کی ابتدائی تحقیقات جاری تھیں کہ اسی دوران انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عامر شفیع کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    تھانہ سہڑا کے محرر لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ کر رہی تھی کہ میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید حساس ہو گئی ہے۔‘

    عامر شفیع کے بڑے بھائی محمد سکندر کے مطابق وہ چھ بھائی ہیں، جن میں سے چار بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جبکہ وہ خود کوٹلی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر اپنے والدین کے ساتھ گاؤں میں رہتے تھے۔

    سکندر نے بتایا کہ ’ہم نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باقی بھائی کمائی کر کے عامر کے گھر کے اخراجات میں مدد کریں گے تاکہ وہ ہمارے والدین کے ساتھ رہ سکیں۔

    ان کے مطابق عامر شفیع کی شادی کو بمشکل ایک ماہ ہوا تھا اور ان کی ولیمے کی تقریب 10 اپریل کو ہوئی تھی۔

    سکندر نے کہا کہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو عامر کو ایک نامعلوم نمبر سے فون کال موصول ہوئی جس کے بعد وہ گھر سے نکلے۔ ’اسی روز ہمارے والد مویشیوں کے ساتھ باہر تھے جبکہ عامر ہی روزانہ مویشی چرانے جاتے تھے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ جب انھیں عامر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر کوٹلی سے گاؤں پہنچے، تاہم اگلے روز میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ عامر کو انڈین فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

    سکندر کے مطابق خاندان نے پولیس کو تمام دستیاب معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عامر کو کال کس نے کی تھی۔

    انھوں کہا کہ ’ہم عام لوگ ہیں، ہمارا کسی قسم کی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگنا ہمارے لیے انتہائی حیران کن ہے۔‘

    عامر کے والد محمد شفیع نے بھی انڈین موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک ’معصوم اور عام شہری‘ تھا جسے علاقے کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے۔

    اس واقعے کے بعد بٹل چوکی میں اہلِ خانہ اور مقامی کمیٹی کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ میت فوری طور پر واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

    ادھر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر امجد یوسف نے اقوام متحدہ سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ ہے جسے غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عامر شفیع کو ایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور بعد ازاں انھیں عسکریت پسند قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق عامر کا کسی تنظیم یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    دوسری جانب انڈین فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 12 مئی کو شام چار بجے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ فوج کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے منج کوٹ سیکٹر سے ایک مسلح گروپ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الرٹ فورسز نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے گروہ کو دیکھا اور انھیں واپس جانے کی وارننگ دی، تاہم فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی میں ایک درانداز ہلاک ہو گیا۔‘

    انڈین میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر حالات عمومی طور پر کشیدہ رہتے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں اور دراندازی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    تاحال اس واقعے کی غیر جانبدار تصدیق نہیں ہو سکی، اور دونوں جانب کے متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

  5. ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دراصل پاکستان کے کہنے پر کی گئی ہے۔

    چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں‘۔

    ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے ایران کی تجاویزکو دیکھا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم کے افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بحش نہیں ہے۔

    آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’میں نے (چینی صدر سے) کسی فیور کے لیے نہیں کہا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے‘۔

  6. پاکستان میں سونے کی قیمت میں 15500 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں 15 ہزار 500 روپے فی تولہ کمی ہوئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کے روز مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 15 ہزار 500 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 76 ہزار 862 روپے ہو گئی۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 13 ہزار 289 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 8 ہزار 832 روپے مقرر کی گئی۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 155 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 545 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہے۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ چاندی 972 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 232 روپے پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 833 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 57 روپے ہو گئی۔

  7. ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

    امریکی صدر نے جمعے کو کہا کہ ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر سوار صحافیوں سے کہا کہ ’وہ (چینی صدر شی) سختی سے محسوس کرتے ہیں کہ ان (ایران) کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    چین کے دورے سے واپسی پر ٹرمپ نے امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے یہ بتایا کہ چین امریکہ سے اربوں ڈالر کی سویا بین خریدے گا، جو کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

    تائیوان سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے کہا کہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی، ممکن ہے دیں اورممکن ہے نہ دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

    ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان معاملے پر گفتگو کی، نہیں لگتا کہ تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے، تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر شی کو آمر سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’میں انھیں چین کا صدر سمجھتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔‘

  8. انڈین وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات، مودی کی امارات پر حملوں کی مذمت

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کے لیے ان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ملک پر حملوں کی ’سختی سے‘ مذمت کی۔

    نریندر مودی نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے یورپی دوروں کے سلسلے سے پہلے جمعہ 15 مئی کو ابوظہبی پہنچے۔ ان کا یہ دورہ خلیج فارس میں کشیدگی اور توانائی کی سلامتی کے خدشات کے درمیان ہوا ہے۔

    نریندر مودی کے دفتر نے ایکس نیٹ ورک پر اعلان کیا کہ ’اس سفر کے دوران توانائی، دفاع، بنیادی ڈھانچے، جہاز رانی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔‘

    انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابوظہبی نے ہندوستان میں پانچ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے، حالانکہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    مودی نے انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی آزادی، کشادگی اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔‘

  9. برکس اجلاس: ایران کا امریکہ مخالف سخت مؤقف، مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    ایران کے وزیر خارجہ نے برکس اجلاس میں اپنے خطاب کے اہم نکات سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر شیئر کیے ہیں۔ ان کے ٹویٹ کے مطابق برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران نے کہا کہ امریکی دباؤ کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے ممالک اسی قسم کے ناپسندیدہ دباؤ اور جبر کی مختلف صورتوں کا سامنا کرتے ہیں۔‘

    عباس عراقی نے تجویز دی کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر آگے بڑھیں اور واضح کریں کہ ایسے اقدامات کا تعلق ماضی سے ہے اور انھیں تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دیا جانا چاہیے۔‘

  10. متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے نئے تیل پائپ لائن منصوبے کو تیز کر دیا

    متحدہ عرب امارات نے ایک نئی پائپ لائن کی تعمیر میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے ملک کو امید ہے کہ وہ 2027 تک فجیرہ کے راستے اپنی تیل برآمدی صلاحیت کو دوگنا کر لے گا اور آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کر دے گا۔

    ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کو ویسٹ ایسٹ پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات ابوظہبی کے سرکاری میڈیا دفتر نے جمعے کو بتائی۔ حکام کے مطابق منصوبہ اس وقت زیرِ تعمیر ہے۔

    متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنے تیل کا ایک حصہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر حبشان-فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جس کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل ہے۔ یہ پائپ لائن تیل کو براہ راست بحیرہ عمان کے ساحل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے خام تیل برآمد کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

    دوسری جانب عمان کو بحیرہ عمان پر طویل ساحلی پٹی ہونے کی وجہ سے کھلے پانیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا رکاوٹوں کی دھمکیوں نے عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا ہے اور توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔

  11. ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات، نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم

    برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ بیان جاری کیے بغیر ختم ہوگیا، یہ معاملہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحران پر ارکان کے درمیان گہرے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔

    یہ دو روزہ اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، اور رکن ممالک نے میری ٹائم سکیورٹی، ممالک کی خودمختاری، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور غزہ کی جنگ جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس اجلاس کو ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف رائے نے ایک متفقہ پوزیشن تک پہنچنے سے روک دیا۔

    ایران چاہتا تھا کہ برکس امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی اداروں کی سیاست کرنے‘ کے خلاف مزاحمت کریں اور زیادہ مضبوط موقف اختیار کریں۔ لیکن متحدہ عرب امارات سمیت بعض ارکان نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔

    آخر میں، انڈیا، جس کے پاس اس وقت برکس کی صدارت ہے نے مشترکہ اعلامیے کے بجائے صرف ایک ’چیئرمین کا بیان‘ جاری کیا، یہ اقدام عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب اراکین کسی حتمی متن پر متفق نہیں ہو سکتے۔

    اجلاس کی صدارت کا بیان، جو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا، میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا، مشرق وسطی کے خطے کی صورت حال پر کچھ اراکین کے درمیان مختلف خیالات تھے۔‘

    یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ توسیع شدہ برکس، جس میں اب ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں، کو سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر جب اس کے اراکین علاقائی بحرانوں میں مختلف محاذوں پر ہیں۔

  12. ہمارے پاس امریکیوں پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں، کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں: عباس عراقچی کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس

    نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات کا مرحلہ ناکام نہیں ہوا مگر یہ ایک بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ’اس کی وجہ بھی امریکی رویہ ہے۔‘

    عباس عراقچی نے نے کہا ’ہم مدد کی خواہش رکھنے والے ممالک خصوصاً چین کو سراہتے ہیں۔ انھوں نے چین کی خصوصی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ہم سٹریٹجک پارٹنر ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس امریکیوں پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کے پاس ایران پر عدم اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘ ان کی رائے میں ’کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کا ذمہ دار ایران نہیں ہے۔ انھوں نے کا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور صرف اپنے دفاع میں اقدامات کیے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ 40 روزہ جنگ کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اس نے ایک بار پھر مایوسی میں مذاکرات کی بات چیت شروع کی۔ تاہم، ان کے بقول ایران کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے، اور اس کی واضح وجوہات موجود ہیں۔

    عباس عراقچی نے 2015 کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، مگر ایک سال بعد نئی امریکی انتظامیہ نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جبکہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جون 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا، مگر پانچ مراحل مکمل ہونے کے بعد ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، اس جنگ کے بعد بھی مذاکرات کے تین مزید دور ہوئے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کے قریب تھے تو 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہوسکا وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کے کسی بھی مسئلے کا حل عسکری طریقے سے ممکن نہیں۔

    عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تسلسل کا فقدان رہا، ایک دن کی ٹویٹ دوسرے دن سے مختلف ہوتی تھی، اور بعض اوقات ایک ہی دن میں متضاد پیغامات دیے جاتے تھے، جو اعتماد کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔

  13. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے پانچ دیہات خالی کرنے کا حکم

    اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز جنوبی لبنان کے پانچ دیہات کے رہائشیوں سے فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق یہ اقدام حزب اللہ کے خلاف ممکنہ حملوں اور لڑائی کو روکنے کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود سامنے آیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اعلان کیا ہے کہ ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر، فوج اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

    پیغام میں لبنان کے جنوبی ساحل پر واقع شہر طائر کے قریب پانچ دیہاتوں کے نام شائع کیے گئے ہیں۔ اپنے پیغام میں ترجمان نے متنبہ کیا ہے کہ ’اپنی جان بچانے کے لیے، اپنے گھروں کو فوری طور پر خالی کریں اور ان علاقوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور رہیں۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان ایک دوسرے پر وقتا فوقتا حملوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔

  14. چینی وزارت خارجہ کی ٹرمپ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے سوالات کے جواب سے گریز

    چینی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران ہونے والے تجارتی معاہدوں پر کیے جانے والے سوالات کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ شی جن پنگ نے کئی تجارتی وعدے کیے ہیں جن میں 200 بوئنگ طیاروں، امریکی تیل اور زرعی مصنوعات جیسے سویابین کی خریداری شامل ہے۔

    تاہم بیجنگ میں ہونے والی چینی وزارتِ خارجہ کی پریس بریفنگ میں ترجمان نے ان معاہدوں سے متعلق سوالات کو بظاہر ٹال دیا۔

    معاہدوں کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے ترجمان نے اس ’اہم اتفاقِ رائے‘ کی طرف اشارہ کیا جس تک دونوں فریق ٹرمپ کے دورے کے دوران پہنچے ہیں۔

    ایک اور جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی فائدہ اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون ہے۔‘

  15. ٹرمپ کا دورہ چین تقاریب سے بھرپور مگر پالیسی پر پیش رفت کیسی رہی, لورا بیکر،بی بی سی نیوز

    امریکی صدر کا یہ دورہ بظاہر رسمی تقاریب سے بھرپور رہا ہے، تاہم اب تک دونوں فریقوں کے درمیان پالیسی کے حوالے سے بہت کم پیش رفت نظر آئی ہے۔

    ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بظاہر تجارت پر مرکوز اس سربراہی ملاقات میں ایران کی جنگ حاوی رہی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ بیجنگ تنازع کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام پسِ پردہ چین کے اتحادی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ چین 200 بوئنگ طیارے اور ممکنہ طور پر امریکی تیل خریدنے پر بات چیت کر رہا ہے۔

    توقع ہے کہ دونوں فریق گزشتہ اکتوبر میں بوسان میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی کو جاری رکھنے پر بھی متفق ہوں گے۔

    شاید اس وقت بڑی کامیابی مذاکرات کا ہونا ہی ہے۔

  16. آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے جائزہ رپورٹ جاری:’ایران جنگ کے اثرات پاکستان کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتے ہیں‘, سارہ حسن، صحافی

    عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مضبوط اقتصادی اقدامات کے سبب پاکستان کی معاشی ترقی کو سہارا ملا ہے لیکن مشرقِ وسطی کی جنگ نے معاشی منظر نامہ کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے کیونکہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، مہنگائی قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے قلیل مدت میں پاکستان کے معاشی منظر نامے کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے معشیت پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا 81 فیصد درآمدی ایندھن خلیجی ممالک سے آتا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر جو پاکستان کے غیر زرمبادلہ کے ذخائر کا سب سے اہم ذریعہ ہے اُس کا بھی 55 فیصد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہوتا ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق جنگ نے خلیجیٰ ممالک کی معیشت پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور ان حالات میں وہاں موجود پاکستانی افرادی قوت کی واپسی سے ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں۔

    بیرون ممالک سے بھجوائی جانی والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی غیر ملکی بیرونی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

    مہنگائی کی شرح میں ڈیڑھ فیصد تک اضافہ متوقع: آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت حکومتی پالیسیوں سے معیشت کو سنبھالنے اور اعتماد بحال کرنے میں کافی بہتری آئی ہے، حالانکہ دنیا میں مشکل حالات ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھی شامل ہے لیکن عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جنگ پاکستان کے معاشی اہداف پر اثرانداز ہو سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نموں میں اعشاریہ دو فیصد تک کی کمی اور آئندہ مالی سال میں اعشاریہ چھ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے اور مہنگائی کی شرح میں ڈیڑھ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف کا ٹیکس وصولی اور حکومتی اخراجات کے اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار

    رواں مالی سال کے پاکستان نے اکثر اہداف حاصل کیے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی اور حکومتی اخراجات کے اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرے جائزے رپورٹ میں پاکستان کے لیے گیارہ نئے انتظامی اہداف مقرر کیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر مزید شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، آئی ایم ایف کے فریم ورک کے تحت آئندہ بجٹ کو قومی اسمبلی سے منظور کروایا جائے اور قومی احتساب بیورو میں شفافیت اور خود مختاری لائے جائے تاکہ احتساب کا نظام بہتر ہو۔

  17. پاکستان کی چین کی مارکیٹ میں ’پانڈا بانڈ‘ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر کا سرمایہ حاصل کرنے میں کامیابی, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان نے پہلی مرتبہ چین کی مارکیٹ میں بانڈ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر کا سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ چین کی کیپٹل مارکیٹ میں جاری کیے گئے پانڈا بانڈ کی مدت تین سال ہے اور اس رقم پر پاکستان ڈھائی فیصد شرح سود ادا کرے گا۔

    اس قبل پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے یورپی بانڈ مارکیٹ میں باقاعدگی سے یورو بانڈ اور اسلامی بانڈ مارکیٹ میں سکوک بانڈ جاری کرتے رہا ہے لیکن چین کی سرمائے کی مارکیٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ جاری کیے ہیں۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ چین کی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ مقامی کرنسی یعنی آر این بی میں بانڈ جاری کیے ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خرم شہزاد نے بتایا کہ پانڈا بانڈ کی مالیت مقامی کرنسی میں ایک ارب 75 کروڑ آر این بی ہے جس کی مالیت ڈھائی کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے پانڈا بانڈ میں غیر معمولی دلچسپی لی اور ڈھائی کروڑ ڈالر کے بانڈ کی خریداری کے لیے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر مالیت کی بولیاں یا پیشکش موصول ہوئیں۔

    خرم شہزاد کے مطابق طلب سے زیادہ بولیاں موصول ہونا پاکستان کے معاشی استحکام، مالیاتی ڈسیپلن پر چین کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کا اعلان کیا اور حکومت کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں انٹری سے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں اپنی نمائندگی کو بڑھانا چاہتا ہے۔

    حکومتیں بانڈ کیوں جاری کرتی ہیں؟

    بین الااقوامی معشیت میں مختلف ممالک ایک دوسرے کی سرمائے کی مارکیٹس میں بانڈ جاری کرے کے رقم ادھار لیتے ہیں۔

    بانڈز کے اجرا کے ذریعے یہ رقم تین پانچ یا دس سال سمیت مختلف مدت کے لیے ادھار لی جاتی ہے اور اس پر شرح سود ادا کیا جاتا ہے۔

    مقررہ مدت مکمل ہونے پر یہ ادھار لی گئی رقم واپس کر دی جاتی ہے۔

    مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ کے اجرا مقاصد محض قرض یا ادھار لینا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ممالک ایک عالمی کیپٹل مارکیٹ میں اپنی نمائندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

    سنئیر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ چین ایک بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان انٹرنینشل بانڈ مارکیٹ میں اپنے آپ کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں بانڈا کا اجرا ایک مشکل اور پیچیدہ مرحلہ تھا کیونکہ اُن کی شرائط کافی زیادہ تھیں اسی لیے پانڈا بانڈ کے اجرا میں تاخیر بھی ہوئی۔

    مہتاب حیدر کے مطابق چین کی مارکیٹ میں وافر سرمایہ موجود ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ مختلف مراحل میں چین کی مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر تک کے بانڈ جاری کیے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں یور اور سکوک بانڈ کے اجرا کے بعد اب چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان نے اپنے مالیاتی انسٹرومنٹس کے ایونیوز کو بڑھایا ہے۔

  18. شی جن پنگ کی ٹرمپ سے ملاقات کا دوسرا دن، ہم اب تک کیا جانتے ہیں

    • چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو چین کی اعلیٰ قیادت کے لیے اہم سمجھے جانے والے ونگ نان ہائی کا دورہ کروایا۔ بیجنگ میں ٹرمپ کے آخری دن کا یہ اہم ترین پروگرام تھا، جس کے بعد وہ وائٹ ہاؤس واپس روانہ ہوں گے۔
    • دورے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شی جن پنگ کے ساتھ تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔
    • ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہے۔‘
    • شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک نیا دوطرفہ تعلق قائم ہوا ہے اور انھوں نےچینی گلابوں کے بیج ٹرمپ کو تحفتاً بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔
    • ان کی ملاقات سے چند گھنٹے قبل فاکس نیوز نے ٹرمپ کا ایک انٹرویو نشر کیا جس میں انھوں نے کہا کہ شی جن پنگ نے وعدہ کیا ہے کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔
    • ٹرمپ کے مطابق لیکن اسی وقت صدر شی نے کہا کہ وہ وہاں سے بہت سا تیل خریدتے ہیں اور وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
    • اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین نے امریکہ سے تیل اور بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • ٹرمپ نے کہا کہ تجارتی مذاکرات ’پچھلی بار سے بہتر‘ رہے۔
  19. چین کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی, لورا بیکر، بی بی سی

    چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ’بھرپور‘ کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ ’امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔‘

    چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے معاملے میں ’زیادہ صبر نہیں کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز دی تھی کہ وہ ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ کو تہران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ساتھ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کو امید تھی کہ شی جن پنگ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کریں گے۔

    چین کے بیان میں کہا گیا کہ یہ تنازع ’کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا‘ اور ’اس کے جاری رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘ تاہم اس بیان میں براہ راست امریکہ پر تنقید سے گریز کیا گیا۔

    معاشی طور پر اس جنگ نے چینی صنعت پر دباؤ ڈالا ہے کیونکہ تیل سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن سفارتی اور سیاسی سطح پر اسے شی جن پنگ کے لیے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے،جہاں وہ ایک ایسے امریکی صدر کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ کے باعث کمزور ہوا ہے۔

    اس کے برعکس، شی جن پنگ ایک امن کے حامی رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ چین نہ صرف عالمی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے بلکہ تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے۔

  20. صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان ملاقات کی تصویری جھلکیاں

    ابھی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کا کچھ حصہ خبروں میں آ چکا ہے اور باقی تفصیل بھی عنقریب سامنے آئے گی، اس دوران ہم آپ کے لیے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے حوالے سے تازہ تصاویر پیش کر رہے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے آج صبح اپنی بات چیت سے قبل ژونگ نان ہائی کے احاطے میں چہل قدمی کی جو چین کی مرکزی قیادت کے لیے اہم مقام ہے۔