آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گھوٹکی میں انڈین ڈرون کا نشانہ بننے والے مختیار احمد: ’جنگ نہیں ہونی چاہیے، اس کی وجہ سے میرے بیٹے کی جان گئی‘
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
’ہمیں کہہ رہا تھا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ اُسے گولی لگی تھی اور کہہ رہا تھا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ وہ چھوٹا تھا اور ہم سب کو بہت پیارا تھا۔‘
یہ الفاظ سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے کسان محمد عیدن کے ہیں، جنھوں نے گذشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ لڑائی کے دوران ڈرون سے نکلا چھرا گردن پر لگنے سے اپنا جوان بیٹا کھویا تھا۔
بی بی سی کو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئے۔
آٹھ مئی 2025 کی تپتی صبح تھی جب محمد عیدن اپنے بیٹے مختیار احمد کے ساتھ اپنے کھیت پر گنے کی فصل کی کاشت کے لیے پانی گزرنے کی جگہ بنا رہے تھے اور پھر اچانک ایک لمحے میں ان کی اور ان کے پورے خاندان کی زندگی بدل گئی۔
محمد عیدن گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے ایک دیہات میر خان وسیر میں رہتے ہیں، جہاں پچھلے سال مئی میں سرحد پار انڈیا سے آیا ایک ڈرون گرنے سے ان کا چھوٹا بیٹا ہلاک اور وہ خود زخمی ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ پچھلے سال آٹھ مئی کو انڈیا کی طرف سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے اسرائیلی ساختہ ہارپ ڈرونز سمیت انڈیا کے متعدد ڈرونز مار گرائے تھے۔
’جنگ نہیں ہونی چاہیے، جنگ کی وجہ سے ہی میرے بیٹے کی جان گئی‘
گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے رہائشی محمد عیدن نے اپنے کھیت میں عین اسی جگہ کھڑے ہوکر ڈرون گرنے والے دن کا منظر بیان کیا۔
’ہم کھدائی کررہے تھے۔ ہم انڈیا سے آنے والا ڈرون فوری طور پر نہیں دیکھ پائے۔ پہلے مجھے ادھر (بازو پر) اس کی پنکھڑی لگی، پھر مختیار شہید کو ادھر (گردن) پر لگی اور وہاں تیسرا بھی ایک شخص تھا لیکن اس کو کچھ نہیں لگا۔ پھر وہ جو درخت ہے اس سے ڈرون ٹکرا کے اس جگہ پہ گرا، بعد میں بم بھی پھٹا اور دھواں تک پھیل گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماسٹرز تک تعلیم یافتہ تیس سالہ مختیار احمد کھیتی باڑی کے شوقین تھے اور کھیتوں میں اپنے والد کی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کے دو بڑے بھائی بھی ہیں جو سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔
مختیار کی والدہ سارہ بی بی ایک گھریلو خاتون ہیں، جو اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے گھومتی ہیں۔ چارپائی پہ بیٹھے وہ دوپٹے سے اس کی تصویر صاف کرتی ہیں اور اسے چومتی جاتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بیٹا بہت محنتی اور کام کاج میں بہت تیز تھا اور گھر کا سارا نظام سنبھالا کرتا تھا۔
’میرا بیٹا کھیتی باڑی کے کام کا کہہ کر نکلا تھا، مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ ڈرون حملے میں شہید ہو گیا۔ پتا نہیں کہاں سے ڈرون آیا۔‘
نم آنکھوں اور غمزدہ لہجے میں وہ بار بار کہتی ہیں کہ ’جنگ نہیں ہونی چاہیے، جنگ کی وجہ سے ہی میرے بیٹے کی جان چلی گئی۔‘
’اسے یاد کر کے اس کے بچے بہت روتے ہیں، وہ میرا، اپنے باپ اور اپنے بچوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔‘
مختیار احمد کے تین بچے ہیں، جن میں آٹھ اور نو سال کی دو بیٹیاں اور ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا شامل ہیں۔
ان کے خاندان کے سب ہی لوگوں کا کہنا ہے کہ مختیار اپنے بچوں خصوصاً لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خواب دیکھتا تھا۔
ان کی بیوہ نسیمہ بہت ہی سادہ سی خاتون ہیں اور مختیار کے ساتھ ان کی محبت کی شادی ہوئی تھی۔
ان کے گھر کے احاطے میں کئی مویشی بندھے ہیں، ساتھ میں مرغیاں اور دیگر پرندے بھی موجود ہیں۔ بی بی سی نے ان کی اہلیہ سے پوچھا کہ جب پتا چلا کہ مختیار کو ڈرون لگا ہے تو آپ کیا کررہی تھیں؟
نسیمہ نے جواب دیا کہ ’میں کام کررہی تھی، کھانا پکارہی تھی۔ کھانا پکا کے اٹھی تاکہ کہ مویشیوں کو پانی دے سکوں۔ ابھی سارے مویشیوں کو پانی ڈالا بھی نہیں تھا کہ دھماکہ ہوگیا، ہم سارے بھاگے۔ ہمیں خبر ملی کہ وہ شہید ہو گیا۔‘
نسیمہ کہتی ہیں کہ وہ مختیار کو بہت یاد کرتی ہیں لیکن وقت کاٹنے کے لیے اپنے آپ کو گھر کے کام کاج اور بچوں میں مصروف رکھتی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مختیار کے بغیر بچوں کی پرورش کرنے میں انھیں مشکلات کا سامنا ہے، تو انھوں نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتایا کہ: ’بچے روتے ہیں تو میں بھی رو لیتی ہوں۔ وہ بہت اچھے آدمی تھے، بچوں سے پیار کرتے تھے، پڑھاتے تھے‘۔
’بچے پوچھتے ہیں کہ پاپا کہاں ہیں؟ میں جواب دیتی ہوں کہ پاپا شیہد ہو گئے ہیں۔‘
’کہیں دوبارہ ڈرون نہ آ جائے‘
محمد عیدن کا گاؤں میر خان وسیر پاکستان اور انڈیا کے سرحدی علاقے سے تقریباً سو کلو میٹر کی فاصلے پر ہے۔ سندھ کے بیشتر صحرائی علاقوں کی سرحد انڈیا میں گجرات اور راجھستان سے ملتی ہے۔
محمد عیدن نے ماضی میں 1965 اور 1971 کی جنگیں بھی دیکھی ہیں۔
سنہ 1965 کی جنگ کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’دو جہاز انڈیا سے آئے تھے، ادھر اُدھر بم بھی مارے لیکن کوئی انسان نہیں مارا گیا۔ سنہ 1971 والی جنگ میں تو نہ ڈرون آیا نہ جہاز آیا۔‘
ان کے بقول پچھلے سال مئی میں ڈرون گرنے اور اس میں ان کے بیٹے کی ہلاکت کے ایک سال کے بعد بھی علاقے کے لوگوں میں خوف ہے کہ کہیں دوبارہ ڈرون نہ آجائے۔
’لوگوں میں ڈر ہے کہ کہیں ڈرون دوبارہ نہ آجائے۔‘
جنگ پر بہت ہی سادہ سے الفاظ میں انھوں نے اپنا مؤقف دیا کہ ’جنگ (لڑنے) والوں کو چاہیے کہ جو سرکاری آدمی ہے، فوج ہے، ملٹری ہے، ان سے لڑائی کریں- عام شہری، عام لوگ جو کھیتوں میں کام کرتے ہیں، کھدائی کرتے ہیں انھیں کیا پتا کہ آسمان سے میزائل آتا ہے یا ڈرون آتا ہے۔ ہم غریب لوگ ہیں ہمیں تو اس بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوتا۔‘
محمد عیدن نے بتایا کہ حکومت سندھ نے ایک تقریب میں مختیار احمد کی قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا، معرکہ حق کی شیلڈ پیش کی اور مختیار احمد کے خاندان کے لیے ایک کروڑ جبکہ انھیں دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یہ ساری رقم مختیار کے بچوں کی تعلیم کے لیے رکھ دی ہے۔