آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کو امریکی تجویز پر ایران کا جواب آج موصول ہونے کی توقع: ’معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے اور اب کی بار پراجیکٹ فریڈم پلس ہو گا۔

خلاصہ

  • قطری وزیرِ اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور
  • ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ
  • آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر قرض کی قسط کی منظور دے دی
  • ٹرمپ کا یوکرین اور روس کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان
  • پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں قریب 15 روپے کا اضافہ، نئی قیمت 414.78 فی لیٹر مقرر
  • لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے واشنگٹن میں
  • ایران اور امریکی بحریہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات
  • امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کا انتظار ہے، امید ہے کہ جواب ایسا ہو گا جو سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے: مارکو روبیو

لائیو کوریج

  1. ’دُشمن کے ساتھ تعاون کا الزام،‘ ایران میں 262 افراد کی جائیدادیں ضبط

    ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 262 جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں۔

    یہ جائیدادیں اُن افراد کی ہیں جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے جنگ کے دوران’ دُشمن کے ساتھ تعاون کیا۔‘ ان میں صحافی، سیاست دان، فنکار اور اداکار شامل ہیں۔

    اصغر جہانگیر کے مطابق ان مقدمات کو عدالت میں حتمی شکل دینے کے بعد ایرانی قوم کے فائدے کے لیے ضبط کر لیا جائے گا۔‘

    ان افراد کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے قانونی عمل کی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔

    اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران، اسلامی جمہوریہ کی حمایت کرنے والے کارکنوں نے سائبر سپیس پر اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کی شناخت کی اپیل کی تھی اور انھیں ’جنگ کے حامی‘ کہا تھا۔

  2. جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس اتوار کو طلب

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے کے بعد پہلی مرتبہ ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان عباس کودرزی نے اعلان کیا کہ جنگ کے بعد پہلی بار کونسل اپنا پہلا اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کرے گی۔

    کودرزی نے کہا کہ اجلاس کل اتوار کو ’اعلان کردہ اقدامات کی تعمیل اور موجودہ حالات کی بنیاد پر، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ جنگ کے باعث معاشی معاملات اور شہریوں کے ذریعہ معاش کے خدشات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کا آخری عوامی اجلاس 16 فروری کو منعقد ہوا تھا اور اس کا اختتام نئے ایرانی سال کے بجٹ کے مسودہ قانون میں ترمیم پر بحث کے ساتھ ہوا۔

  3. اسرائیلی فوج کا لبنانی شہریوں کو جنوبی لبنان کے متعدد دیہات خالی کرنے کا حکم

    آسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں کے رہائشیوں کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے پیشِ نظر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث اسرائیلی فوج اس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔

    انھوں نے رہائشیوں کو دیہاتوں اور قصبوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور جانے کا کہا ہے۔

    لبنان میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی جاری ہے۔

    بیروت اور جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیل حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  4. چین میں تعینات ایرانی سفارتکار کی چینی تیل بردار جہاز پر حملے کی تردید

    چین میں تعینات ایرانی سفارتکار نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ایرانی فورسز نے مارشل آئی لینڈ کے ایک تیل بردار ٹینکر پر حملہ کیا ہے جس پر چینی ملاح بھی سوار تھے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اس خبر کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں کو پھیلانے کا مقصد وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ بیجنگ سے حاصل ہونے والے نتائج کی اہمیت کو کم کرنا ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی تھی کہ آبنائے ہرمز میں تیل مصنوعات سے لدے ایک ٹینکر، جس پر چینی عملہ سوار تھا، حملے کا نشانہ بنا ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ جہاز پر چینی شہری بھی موجود تھے، تاہم اب تک عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ چینی خبر رساں ادارے شیامن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک چینی ملکیت کا تیل بردار جہاز پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا ہے۔

  5. ایران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے، سی آئی اے کا تجزیہ

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق تہران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔

    سی آئی اے کی رپورٹ سے باخبر ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے اندازے کے مطابق تہران کم از کم مزید چار ماہ تک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال پا رہا۔

    اس رپورٹ کے متعلق سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی۔

    تاہم ایک سینیئر انٹیلیجنس عہدیدار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کی رپورٹ کے متعلق دعوے ’درست‘ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا تھا اور اس کی معیشت تیزی سے گر رہی تھی۔

  6. تنازع کے خاتمے کی امریکی تجویز پر ایران کا جواب آج متوقع ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔

    وہ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ان کے ایک نمائندے نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا انھیں ایران کی جانب سے کوئی جواب موصول ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ آج ایران کی جانب سے کوئی جواب موصول ہو۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں لگتا ہے کہ ایران جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جلد ہی پتہ لگ جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکہ کو آج ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب موصول ہو جانا چاہیے۔

    اٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’(ایران سے جواب موصول ہونے پر) ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا جو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے۔‘

  7. ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے نزدیک تیل کے پھیلاؤ کی سیٹلائٹ تصاویر

    سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے نزدیک تیل کے پھیلاؤ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ممکنہ رساؤ کی وجہ کیا ہے۔ یہ تیل مغربی ساحل کے قریب خلیجِ فارس میں واقع اس چھوٹے سے جزیرے کے پاس دیکھا گیا جو ایران میں تیل کی برآمد کا اہم مرکز ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تیل کے رساؤ کی نگرانی کرنے والی کمپنی اوربیٹل ای او ایس نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ جمعرات تک اس پھیلاؤ کا رقبہ تقریباً 52 مربع کلومیٹر (20 مربع میل) تھا۔

    غیر سرکاری ادارے ’کانفلکٹ اینڈ انوائرنمنٹ آبزرویٹری‘ نے بھی ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے کہ تاحال یہ پتا نہیں چل سکا کہ رساؤ کہاں سے شروع ہوا ہے تاہم یہ جنوب کی جانب پھیل رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ایرانی پارلیمان میں صوبہ بوشہر کے رکن جعفر پورکبگانی نے ’سمندر میں تیل چھوڑے جانے‘ کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھبے یورپی ٹینکر کی جانب سے سمندر میں چھوڑے گئے بیلسٹ پانی میں موجود تیل اور فضلے کی وجہ سے ہیں اور ان کی وجہ سے ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    جزیرہ خارگ جو کہ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکز ہے خلیجِ فارس کے ساحل پر آبنائے ہرمز سے چند سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

    جزیرہ خارگ میں ایران کی سب سے بڑی تیل برداری تنصیب، پائپ لائنیں، ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور تیل کی برآمدات سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔

  8. قطری وزیرِ اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور

    قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آلثانی نے جمعے کے روز واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران فریقین نے خطے کی تازہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی، خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ثالثی کی ان کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

    بیان کے مطابق قطری وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق جاری ثالثی کی کوششوں میں بھرپور طور پر شریک ہوں، تاکہ پُرامن ذرائع اور بات چیت کے ذریعے بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی راہ ہموار ہو سکے، اور اس کے نتیجے میں ایک جامع معاہدہ طے پائے اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو۔

    بی بی سی عربی کے مطابق، قطر طویل عرصے سے امریکہ کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ حماس سے روابط میں بھی شامل رہا ہے، تاکہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی قائم کی جا سکے۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایران نے متعدد مرتبہ قطر میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کی وجہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈے کو قرار دیا ہے۔

  9. ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو پراجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جا سکتا ہے۔

    جمعہ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معاملات طے نہ پائے تو ہم مختلف طریقہ کار اپنائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم ملتوی کیا ہے تاہم اگر معاملات حل نہ ہوئے تو اسے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اب کی بار پراجیکٹ فریڈم پلس ہو گا۔ ’پراجیکٹ فریڈم کے ساتھ دیگر چیزیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں کیا انھیں لگتا ہے کہ ایران جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جلد ہی پتہ لگ جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ نامی اس کارروائی کا اعلان امریکی صدر نے اتوار کو کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خلیج میں پھنسے جہاز رانوں کی مدد کے لیے ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت اٹھایا جانے والا قدم ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا تھا کہ یہ علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے ’انتہائی ضروری‘ ہے۔

    منگل کے روز ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

    اسی روز بعد میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی ’قلیل وقت کے لیے‘ معطل کر دی جائے گی اور کہا کہ یہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ہونے والی ’بڑی پیش رفت‘ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق خلیج میں 1550 تجارتی جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران پھنسے ہوئے ہیں۔

  10. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر قرض کی قسط کی منظور دے دی

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق اس کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعے کے روز پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر قرض کی قسط کی منظوری دی ہے۔

    ایک بیان میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت پاکستان کو فوری طور پر تقریباً 1.1 ارب ڈالر جبکہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تقریباً 22 کروڑ ڈالر جاری کیے جا سکیں گے۔

  11. ٹرمپ کا یوکرین اور روس کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 9 مئی سے 11 مئی تک تین روزہ جنگ بندی ہوگی۔ ان کے بقول اس کا مقصد روس میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی یاد منانا ہے۔

    ٹرمپ نے 29 اپریل کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کہا تھا کہ عارضی جنگ بندی پر کام جاری ہے۔ پوتن نے گذشتہ سال بھی تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر کیؤ کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس وقفے کے دوران ہر قسم کی فوجی کارروائی معطل رہے گی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ یہ ایک طویل، مہلک اور سخت لڑائی پر مشتمل جنگ کے خاتمے کی شروعات ہوگی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔

    روس نے 8 اور 9 مئی کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو سوویت یونین کی نازی جرمنی کے خلاف دوسری عالمی جنگ میں فتح کی تقریبات اور ماسکو کے ریڈ سکوائر میں فوجی پریڈ کے موقع سے ہم آہنگ ہے۔

    یوکرین نے بھی اپنی جانب سے غیر معینہ مدت کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جو منگل کی رات سے شروع ہوئی۔

  12. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں قریب 15 روپے کا اضافہ، نئی قیمت 414.78 فی لیٹر مقرر

    پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول یعنی موٹر سپیرٹ کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414.58 ہو چکی ہے۔

    مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران دو مرتبہ قیمتوں میں کمی بھی کی گئی تھی۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی، یعنی دو ماہ میں پیٹرول 60 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعے کو آبنائے ہرمز پر امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر تقریباً تین فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد میں یہ کم ہو کر لگ بھگ 100 ڈالر پر آ گئی تھی۔

    جھڑپ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال اب ’معمول پر واپس آ گئی ہے۔‘

    دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہے۔ تنازع شروع ہونے سے قبل عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

  13. لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے واشنگٹن میں

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے جن کا مقصد ’دیرپا امن اور سلامتی کے لیے انتظامات‘ کو حتمی شکل دینا ہے۔

    یہ دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا۔ اس سے قبل 14 اور 23 اپریل کو بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

    محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں وفود تفصیلی بات چیت کریں گے جن کا مقصد ایک ایسے جامع امن اور سلامتی کے معاہدے کو آگے بڑھانا ہے جو دونوں ممالک کے بنیادی تحفظات کو عملی طور پر حل کرے۔ اس سے قبل مذاکراتی دور کی قیادت صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر کی تھی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ان مذاکرات کا مقصد گذشتہ دو دہائیوں کے اس ناکام طریقہ کار سے فیصلہ کن طور پر علیحدگی اختیار کرنا ہے جس کے تحت دہشت گرد گروہوں کو جڑیں پکڑنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع ملا، لبنانی ریاست کی عملداری کمزور ہوئی اور اسرائیل کی شمالی سرحد کو خطرات لاحق ہوئے۔

    14 اپریل کو کئی دہائیوں بعد پہلی بار دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 10 روزہ جنگ بندی طے پائی۔ یہ جنگ بندی 23 اپریل کی ملاقات میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔

    تاہم جنگ بندی بڑی حد تک صرف نام کی رہی ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں۔ جنوبی لبنان میں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف محدود نوعیت کے حملے کرتے رہے ہیں۔ بدھ کے روز اسرائیل نے کئی ہفتوں کے بعد بیروت پر اپنا پہلا بڑا حملہ کیا تھا۔

  14. بلوچستان میں دو ٹریفک حادثات میں نو افغان شہریوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات میں نو افغان شہریوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔

    افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا واقعہ سرحدی ضلع چاغی میں دالبندین کے قریب پیش آیا۔ دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر لونگ خان عیسیٰ زئی نے بتایا کہ حادثہ شدید ہونے کے باعث نو افراد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو چکے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نو لاشوں کے علاوہ سات شدید زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی چھ افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد افغان شہری تھے۔

    دالبندین سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ دالبندین سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر یہ حادثہ ڈھڈر کے مقام پر ایک فیلڈر کار اور ٹرالر کے درمیان تصادم کے باعث پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ حادثے کی وجہ سے فیلڈر گاڑی بُری طرح سے تباہ ہو گئی جس میں سوار زیادہ تر افراد ہلاک ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کا ڈرائیور مقامی تھا جبکہ باقی تمام افراد افغان شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ افغان شہری کوئٹہ کی جانب جا رہے تھے۔

    دوسرا حادثہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے متصل ضلع پشین میں کاریزات کے علاقے میں نانا صاحب کے قریب پیش آیا۔ پشین پولیس کے ایک اہلکار انور علی نے فون پر بتایا کہ اس علاقے میں ایک زرنج رکشہ کھائی میں گر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی وجہ سے زرنج رکشے میں سوار خاتون سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں بھی خواتین اور بچے شامل ہیں جنھیں طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک کا یہ تیسرا بڑا حادثہ تھا۔ گذشتہ روز ضلع جھل مگسی کے علاقے باریجہ میں ایک بس کو حادثہ پیش آنے کی وجہ سے چار افراد ہلاک اور 22 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

  15. ایران اور امریکی بحریہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات

    ایران اور امریکی بحریہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی مسلح افواج اور امریکی نیوی کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی پرچم والے خالی ٹینکرز پر گولہ باری کر کے انھیں ناکارہ کر دیا گیا ہے۔

  16. آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں سے 10 ملاح زخمی جبکہ پانچ لاپتہ ہیں: ایرانی اہلکار

    ایک ایرانی اہلکار نے جمعے کے روز بتایا کہ آبنائے ہرمز میں رات بھر ہونے والے امریکی حملوں نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا جس سے 10 ملاح زخمی اور پانچ دیگر لاپتہ ہو گئے۔

    خبررساں ایجنسی مہر نے صوبہ ہرمزگان کے ایک عہدیدار محمد رازمہر کے حوالے سے بتایا کیا کہ ’امریکیوں کی جانب سے گذشتہ رات آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے پانیوں میں کی گئی معاندانہ کارروائیوں کے دوران ایک مال بردار جہاز مناب کے پانیوں کے قریب ٹکرا گیا اور اسے آگ لگ گئی۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’10 زخمی ملاحوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے، اور مقامی گروپس اور سرچ ٹیمیں دیگر (پانچ) ملاحوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کارگو جہاز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔

  17. مغربی بنگال میں انتخابات کے نتائج کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک

    انڈین ریاست مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد سے ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں اب تک کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ریاستی پولیس کے مطابق دارالحکومت کولکتہ سمیت مختلف اضلاع میں مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد شروع ہو گئی تھیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک اہم رہنما سویندو ادھیکاری کے قریبی ساتھی چندر ناتھ رتھ بھی شامل ہیں۔ رتھ، ادھیکاری کے ذاتی معاون تھے اور ادھیکاری کو بی جے پی کی کامیابی کے بعد ریاست کا ممکنہ نیا وزیرِ اعلیٰ تصور کیا جا رہا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ چندر ناتھ رتھ بدھ کی رات اپنے گھر جا رہے تھے جب نامعلوم افراد نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

    ریاستی پولیس کے مطابق پیر کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے اب تک تشدد اور دھمکی آمیز واقعات کے سلسلے میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات میں ان کے دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھی دو کارکنوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    بی جے پی کے ریاستی رہنما سامک بھٹاچاریہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’پیر کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہمارے دو کارکنوں کو قتل کیا گیا۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت ’امن کے حق میں ہے۔‘

    پیر کو بی جے پی نے مغربی بنگال میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ خیال رہے کہ پہلی مرتبہ بی جے پی نے ریاست میں اقتدار حاصل کیا ہے، جس کے ساتھ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

    ممتا بنرجی، جو اب تک ریاست کی وزیرِ اعلیٰ تھیں، انتخابات میں صرف 81 نشستیں حاصل کر سکیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ریاست میں کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ترنمول کانگریس نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی تطہیر کے نام پر لاکھوں افراد کو ووٹنگ لسٹ سے خارج کیا گیا۔

  18. آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے 70 بحری جہازوں کو روکا گیا: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک 70 سے زائد آئل ٹینکرز کو روکا گیا جن کی اصل منزل ایرانی بندر گاہیں تھیں۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ تجارتی جہاز 166 ملین بیرل سے زیادہ ایرانی تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کا تخمینہ 13 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس کے کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جا رہا ہے۔

  19. امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کا انتظار ہے، امید ہے کہ جواب ایسا ہو گا جو سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے: مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو جمعہ کے روز (یعنی آج) ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب موصول ہو جانا چاہیے۔

    اٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’(ایران سے جواب موصول ہونے پر) ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا جو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے۔‘

  20. ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے اور ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کے لیے بحری اتھارٹی کا قیام

    ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جو تجارتی جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے گی اور اس کے عوض ٹرانزٹ فیس وصول کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شپنگ اور بحری تجارت سے متعلق خبروں اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی۔

    لائیڈز لسٹ نے یہ رپورٹ اس نمونہ فارم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو اس اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی کمپنیوں کو بھیجا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس فارم میں جہازوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات اس اتھارٹی کو فراہم کریں۔

    ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے نفاذ کے لیے ایک نظام‘ قائم کر لیا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے اس ضمن میں ’قواعد و ضوابط‘ بھیج دیے ہیں۔

    ایران نے 28 فروری کو اس پر ہونے والے امریکی، اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی پر عائد پابندیوں کے تسلسل سے جوڑا گیا ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے سابقہ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت تہران کو اس آبنائے پر کنٹرول حاصل ہو گا اور تجارتی فیس وصول کی جائے گی۔ ان محصولات کو عمان کے ساتھ بھی تقسیم کیا جائے گا، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔

    اپریل میں ایران کی پارلیمان کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران کو آبنائے ہرمز میں عائد کردہ ٹرانزٹ فیس سے پہلی آمدن موصول ہو گئی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ٹرانزٹ فیس کے اعلان سے قبل ایران کی پارلیمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک پر یہ فیس عائد کرنے پر غور کر رہی تھی، جبکہ حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے جہازرانی ’جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘