تھپڑ کبڈی: کھلاڑیوں کی خوراک میں ’12 پھول‘ اور جیتنے پر نقد رقم کے علاوہ ڈرائی فروٹ کی بوریاں الگ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایک لمحے کے لیے آپ فرض کر لیں کہ آپ ایک ایسی جگہ پر موجود ہیں جہاں آپ کے اردگرد ہزاروں افراد کا مجمع صرف اس لیے موجود ہے کہ وہ آپ کو تھپڑ لگتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کے دل پر کیا گزرے گی۔
ذرا سوچیے آپ کا مخالف ان افراد کی موجودگی میں آپ کے منہ پر تھپڑوں کی بارش کر دے۔
رکیے رکیے آپ کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس جگہ پر آپ کو بھی اپنے مخالف کو تھپڑ مارنے کی اجازت ہو گی۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور انٹرنیشنل بارڈر کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں ’تھپڑ یا طمانچے دا‘ کبڈی کے نام سے یہ کھیل کھیلا جاتا ہے، جس کو دیکھنے کے لیے لوگ اپنی کھیتی باڑی اور دکانداری تک چھوڑ کر آ جاتے ہیں۔
ورکنگ باؤنڈری اور انٹرنیشنل بارڈر کے ساتھ ملحقہ علاقے جو نارووال، شکر گڑھ اور سیالکوٹ کی حدود میں آتے ہیں، وہاں پر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور اب یہ کھیل پنجاب کے مختلف دیہی حصوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔
عمومی طور پر ’تھپڑ کبڈی‘ کے ٹورنامنٹ کا انعقاد اس وقت ہوتا ہے، جب علاقے میں میلے ٹھیلے کا انعقاد ہو یا پھر کسی صوفی بزرگ کا عرس ہو۔

جیتنے والے کو نقد رقم اور ڈرائی فروٹ کی بوریاں
شکر گڑھ کی تحصیل کوٹ نیناں کے رہائشی تصور حسین کو بھی تھپڑ کبڈی کھیلنے کا شوق ان ہی میلوں میں ٹورنامنٹس دیکھنے کے بعد ہوا اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ خود اس کھیل کا حصہ بن گئے۔
12 سال پہلے اس کھیل کا حصہ بننے والے تصور حسین کو اب اس کھیل کا ماہر کھلاڑی مانا جاتا ہے اور جب بھی کوئی ٹورنامنٹ ہوتا ہے تو ان کی جیت کا امکان دوسرے کھلاڑیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے میچ کی فیس بھی دوسرے کھلاڑیوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تصور حسین تھپڑ کبڈی شوق کی خاطر کھیلتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ شوق ان کی آمدن کا ذریعہ بھی ہے تاہم اس کو مستقل آمدنی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جب میچز ہوں گے اور لوگ ان میچز کو دیکھنے کے لیے آئیں گے تو پھر ہی ٹورنامنٹ کی انتظامیہ اور شائقین سے پیسے ملتے ہیں اور یہ پیسے ہزاروں سے لے کر لاکھوں میں بھی ہوتے ہیں۔
تصور حسین کا کہنا تھا کہ بعض میچز میں انعامی رقم کے علاوہ انتظامیہ اور لوگوں کی طرف سے کھلاڑیوں کو باداموں اور ڈرائی فروٹ کی بوریاں بھی دی جاتی ہیں۔
تصور اقبال کے بقول انھیں بھی چار، پانچ مرتبہ باداموں کی بوریاں بطور انعام میں ملی ہیں۔

کھلاڑی کی خوراک ’بارہ پھول‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تصور حسین نے بتایا کہ اس کھیل کے لیے محض طاقت نہیں بلکہ ذہانت کا بھی مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔
تصور حسین کا کہنا تھا کہ تھپڑ کبڈی کے کھلاڑیوں کو پورا سال اپنی خوراک کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔
اس خوراک کو کھلاڑی ’بارہ پھول‘ کے نام پکارتے ہیں یعنی سال کے بارہ مہینوں میں خوراک کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرد موسم میں ٹھنڈی چیزیں نہیں کھا سکتے اور گرم موسم میں زیادہ گرم چیزوں سے پرہیز کرنا ہوتا ہے جبکہ برسات کے مہینوں میں ورزش میں کمی کے ساتھ خوراک میں سبزیوں کا استعمال زیادہ کرنا ہوتا ہے۔
تھپڑ کبڈی کے ایک اور کھلاڑی محمد اویس جٹ کے مطابق اس کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ملک کے دوسرے علاقوں کے بااثر اور صاحب حیثیت لوگ بھی اپنے اپنے علاقے میں تھپڑ کبڈی کے میچوں کو انعقاد کرواتے ہیں۔
کھلاڑیوں کو لانے لے جانے، ان کے قیام و طعام اور میچ فیس کے علاوہ نقد انعام دینے کی ذمہ داری میچ انتظامیہ کی ہوتی ہے۔
اویس جٹ نے بتایا کہ میچ کے دوران کسی کھلاڑی کی بہتر کارکردگی پر تماشائیوں کی طرف سے ملنے والا انعام، جو نقد رقم کی صورت میں ہوتا ہے، وہ اس کے علاوہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ جس تیزی سے یہ کھیل مقبول ہو رہا ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے سرکل کبڈی کھیلنے والے کھلاڑی بھی تھپڑ کبڈی کا حصہ بن رہے ہیں۔
اویس جٹ کا کہنا تھا کہ ایک عمومی سطح کا کھلاڑی اس کھیل سے ماہانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک کما لیتا ہے۔

تھپڑ کبڈی کے اصول
یہ کھیل سرکل کبڈی سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ اس میں ایک ٹیم دس کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہےاور میچ کے دوران مخالف ٹیموں کا ایک ایک کھلاڑی ایک دوسرے کے سامنے آتا ہے جبکہ سرکل کبڈی میں ایک کھلاڑی، جس کو ’ریڈر‘ کہتے ہیں مخالف ٹیم کے پول میں جاتا ہے اور اس کو پکڑنے والے چار کھلاڑی ہوتے ہیں، جن کو ’ڈیفینڈر‘ کہا جاتا ہے۔
اس کھلاڑی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ان چار کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کھلاڑی کو چھو کر واپس اپنے پول میں آ جائے جبکہ جس کھلاڑی کو ہاتھ لگایا گیا ہو، اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ریڈر کو کراسنگ لائن تک نہ پہنچنے دیا جائے۔
تھپڑ کبڈی میں ریفری کی سٹی بجنے کے بعد دونوں کھلاڑی ایک دوسرے پر تھپڑوں کی بارش کر دیتے ہیں۔ اس کھیل میں مکا مارنے کی اجازت نہیں اور کوئی وقت بھی مقرر نہیں کہ اتنے وقت میں ایک دوسرے کو تھپڑ مارنے ہیں۔
جب تک کوئی کھلاڑی تھپڑ کھا کر گر نہیں جاتا یا تھپڑ مارنے والا اپنے مخالف کو تھپڑ مارتے مارتے وہ لائن کراس نہیں کر جاتا، جو کہ دونوں ٹیموں کو تقسیم کرتی ہے۔
تھپڑ کبڈی کے میچ کا دورانیہ ایک گھنٹے سے زیادہ کا ہوتا ہے اور میچ کا فیصلہ پوائنٹس کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اس کبڈی میچ میں ہر کھلاڑی کو کم از کم تین مرتبہ مخالف ٹیم کے پول میں جا کر اپنے مخالف کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔
ورکنگ باؤنڈری کے علاقے چن مان سنگھ کے نوے سالہ رہائشی محمد صدیق کا کہنا ہے کہ یہ کھیل پاکستان اور انڈیا کی آزادی سے پہلے سے ان علاقوں میں کھیلا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تقسیم کے بعد بھی جب ورکنگ باؤنڈری پر باڑ نہیں لگائی گئی تھی اس وقت بھی انڈیا کے علاقے گرداس پور سے پہلوان اور کھلاڑی پاکستان میں آ جاتے تھے اور میچ کھیلتے تھے تاہم باڑ لگنے کے بعد ان کا آنا جانا بند ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے تھپڑ کبڈی کے ٹورنامنٹ نہیں ہو سکے تھے کیونکہ میچز کا زیادہ مزا پاکستانی اور انڈین پنجاب کے سکھ پہلوانوں کے درمیان ہونے والے میچ میں آتا تھا۔










