امریکہ-ایران مذاکرات: اب آگے کیا ہو گا؟

    • مصنف, نک ایرکسن
    • مقام, بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے حصول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

مذاکرات سے قبل پاکستانی حکام کے بیانات پُر امید تھے، ان بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان کو ایران اور امریکہ، دونوں ممالک کا اعتماد حاصل ہے۔

مذاکرات کے لیے آئے امریکی وفد کے سربراہ، نائب صدر جے ڈی وینس بھی پُرامید نظر آ رہے تھے، تاہم اتوار کی صبح اعلان کیا گیا کہ رات بھر جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی بنیادی اختلافات کے باعث مذاکرات ناکام ہو گئے۔

تو اب یہ تنازع کہاں کھڑا ہے اور جنگ کے مرکزی فریقوں کے پاس کیا راستے باقی ہیں؟

کچھ پس منظر

بی بی سی کی عالمی امور کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بات چیت تھے۔

ڈوسیٹ کہتی ہیں: ’اس نوعیت کی سفارت کاری ایک دن میں نہیں ہو سکتی۔‘

ان کے بقول مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ عمل اتنی جلدی تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔

ڈوسیٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل سخت زبان اختیار کرتے رہے ہیں، جیسے کہ ’ایران کو شکست ہو چکی ہے، ایران کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔‘

جے ڈی وینس نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ تہران کو امریکی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کو بھاری فوجی نقصان اٹھانے پڑے ہیں اور اس کے اعلیٰ سطح کے کئی قائدین کو ہدف بنا کر مارا گیا ہے۔

تاہم ڈوسیٹ کے مطابق یہ امکان کم ہے کہ ایران ایسے الٹی میٹم کے سامنے جھکے گا، وہ ہتھیار ڈالنے کے ارادے سے اسلام آباد نہیں آیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’ایران اس سوچ کے ساتھ اسلام آباد آیا تھا کہ اس نے یہ جنگ نہیں ہاری، بلکہ ایران سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اسے لگتا ہے کہ اسے برتری حاصل ہے، وہ اب بھی جواب دے رہا ہے اور آبنائے ہرمز کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔‘

اب آگے کیا؟

جب جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے واپسی کے لیے طیارے پر سوار ہوتے ہوئے ہاتھ ہلائے، تو بعض تجزیہ کاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کو بھی الوداع کہہ دیا گیا ہے؟

کیا دونوں فریق اپنے اپنے دارالحکومت لوٹ کر سفارت کاری کو مزید وقت دیں گے؟ یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اب کشیدگی بڑھانے کا وقت آ گیا ہے؟

ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر نکولس ہوپٹن کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات میں کچھ مثبت اشارے بھی موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’دونوں فریقوں نے اس عمل کو مثبت انداز میں لیا۔ انہوں نے دن کا غیر معمولی حد تک طویل وقت بات چیت میں گزارا۔ اور مذاکرات کا انداز ایسا تھا کہ عمومی مؤقف کے ساتھ ساتھ تکنیکی تفصیلات پر بھی گفتگو ہو سکی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں طرف سے ’انتہائی سخت‘ مطالبات سامنے آئے اور ان کے درمیان خلیج بدستور وسیع ہے لیکن اس کے باوجود دونوں فریق مزید مذاکرات کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔

’یہ معاہدہ، اگر ہوا، تو ممکنہ طور پر اس میں نئے عناصر شامل ہوں گے اور یہ سنہ 2015 کے معاہدے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو گا۔‘

نکولس ہوپٹن اُس امریکہ ایران معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے جو باراک اوباما کے دور میں ہوا۔

بی بی سی نیوز فارسی کے خصوصی نمائندے قیصرا ناجی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ’ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔‘

ناجی کے مطابق مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر پوسٹ کیا اور ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار امریکی فریق کو ٹھہرایا، تاہم انھوں نے ’مزید بات چیت کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔‘

اس بات کی تصدیق بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات سی بھی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق باضابطہ مذاکرات کے خاتمے کے باوجود پاکستان کے ذریعے امریکی اور ایرانی مندوبین کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔

اسلام آباد میں موجود بی بی سی کی آزادہ مشیری کہتی ہیں: ’اس بات کی باضابطہ تصدیق امریکہ نے کی ہے اور نہ ہی ایران نے، ماضی کی طرح اس بار بھی، ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھنا مشکل رہا ہے۔‘

’تاہم اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ثالثی اور خفیہ سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔‘

کیا واشنگٹن کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ، کم از کم فی الحال، خارج از امکان ہے؟

کچھ ماہرین کے مطابق ہاں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے، خاص طور پر عالمی تجارت میں طویل خلل، ایرانی قیادت اور اس کے اتحادی گروہوں کے برقرار رہنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے باعث۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا: ’ایران کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔‘

جیسا کہ بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی نمائندہ آزادہ مشیری کہتی ہیں: ’سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سخت طاقت کا استعمال ایران کو اس مقام تک نہیں لا سکا، جہاں ایران سمجھے کہ اب اسے رعایتیں دینا پڑیں گی۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر اب گہری نظر رکھی جا رہی ہے، یہ امکان بھی ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

دیگر رپورٹس کے مطابق ٹرمپ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران کی بحری ناکہ بندی پر غور کر رہے ہیں۔ جنوری میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے سے پہلے بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔

شاید اسی سے اشارہ پا کر ایک اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک محفوظ بحری راہداری قائم کرنے سے متعلق بیان جاری کیا۔ یہ بیان ہفتے کے آخر میں اس وقت جاری کیا گیا جب دونوں ممالک کے مذاکرات جاری تھے۔

ابھی واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس اقدام کے ساتھ ہی امریکی بمباری دوبارہ شروع کر دی جائے گی یا نہیں۔

بی بی سی کی عالمی امور کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کہتی ہیں کہ بالآخر امریکی صدر کو دو باتوں کا خیال رکھنا ہوگا، ’ایک (دوبارہ جنگ) اندرون ملک انتہائی غیر مقبول ہو گی۔‘

ٹرمپ آگاہ ہوں گے کہ کسی بھی طویل عالمی تنازع کے ان کے ملک میں کیا اثرات ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہو اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہوں۔

اشیا اور خدمات کی قیمتیں بتانے والا تازہ ترین کنزیومر پرائس انڈیکس تقریباً دو سال کی سب سے بلند سطح پر ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ کیا حالات درپیش ہوں گے۔

لیز ڈوسیٹ کے مطابق جس دوسری بات کا امریکی صدر کو خیال رکھنا ہو گا وہ یہ ہے کہ ’اس سے مقصد پورا نہیں ہو گا، ایران جوابی کارروائی کرے گا۔‘