آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران اور امریکہ کے باضابطہ مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کے وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایران سے مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل ایرانی وفد بھی وزیراعظم سے ملا اور ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہو گی۔

خلاصہ

  • امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقات
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد سمیت پاکستان پہنچے ہیں
  • امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے مگر اسرائیل کے ساتھ نہیں: ایرانی اوّل نائب صدر
  • ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات ’ایک کٹھن مرحلہ ہے‘ جس میں کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی
  • لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے
  • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا امریکہ، ایران مذاکرات کا خیرمقدم

لائیو کوریج

  1. ایران کے 10 نکات اور مذاکرات کاروں کی اُمیدیں

    اسلام آباد میں سنیچر کو طے شدہ مذاکرات سے قبل ایران اور امریکہ نے دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا جس میں آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کی اجازت بھی شامل تھی۔

    ایران نے امریکہ کو 10 نکاتی منصوبہ بھیجا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایک قابلِ عمل بنیاد جس پر بات چیت کی جائے‘ قرار دیا۔

    نہ تو ایرانی تجویز اور نہ ہی امریکہ کے 15 نکات کو باضابطہ طور پر سامنے رکھا گیا، حالانکہ دونوں جانب سے یہ شرائط پہلے ہی میڈیا پر آ چکی ہیں۔

    ایک ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کے 10 نکات میں دیگر چیزوں کے علاوہ ’خطے میں جنگ کا مکمل خاتمہ، ایران پر سے پابندیاں کے خاتمے کا مکمل عزم، ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا اور ایران کی تعمیر نو کے اخراجات کی ادائیگی جیسے مطالبات شامل ہیں۔‘

  2. بریکنگ, پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات

    پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں امریکی نائب صدر کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی موجود تھے۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں وفود کی تعمیری انداز میں بات چیت کے عزم کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

    بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں فریقوں کی پیش رفت میں اپنی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

  3. اگر ایران کی شرائط پوری نہ ہوئیں تو وہ اب بھی مذاکرات منسوخ کر سکتا ہے: ایرانی ٹی وی

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ پر اسلام آباد سے براہ راست رپورٹنگ کرنے والی ایک نامہ گار یہ کہتے ہوئے سنی گئی کہ اگر ایران کی پیشگی شرائط پوری نہ کی گئیں تو بات چیت اب بھی منسوخ ہو سکتی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ایران کے ’مفادات، مطالبات اور سرخ لکیروں‘ کا احترام کرنے میں ناکام ہونے والے مذاکرات سے دستبرداری کو بذات خود ایک ’کامیابی‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جسے حکام ’جارحانہ سفارت کاری‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

    اس سے قبل آج صبح، نامہ نگار نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد کی پہلے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات م کے بعد مذاکرات کی تفصیلات، بشمول امریکی وفد سے بات چیت کا وقت، ممکنہ طور پر واضح ہو جائے گا۔

    ایران کا سرکاری ٹی وی شرائط اور ایران کے لیے ریڈ لائنز کی بار بار تکرار کر رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات سے پہلے ایران کا پلڑا بھاری ہے اور اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو وہ مذاکرات سے نکل سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ایران نے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

  4. امریکہ، نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے: ایرانی ذرائع کا دعویٰ

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ، قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق ایرانی ذرائع نے اس امریکی اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ’سنجیدگی‘ کی علامت قرار دیا ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    ایرانی ذریعے نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ اثاثے غیر منجمد کرنے کا تعلق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت سے ہے جو ممکنہ طور پر ان مذاکرات کا سب سے بنیادی نقطہ ہے۔

    ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ضروری ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان آمد سے قبل ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور امریکہ میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کی شرائط پوری ہونا لازمی ہے۔

  5. پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیرِ خارجہ کے علاوہ 71 رُکنی ایرانی وفد میں کون کون شامل ہے؟

    امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والے ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ دیگر اعلی حکام بھی اُن کے ساتھ پاکستان آئے ہیں۔

    ایرانی وفد میں ایرانی دفاعی کونسل کے رُکن علی اکبر احمدیان، خارجہ اُمور کونسل کے رُکن علی باقری کنی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر اسماعیل احمدی مقدم، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اسسٹنٹ سکریٹری محمد جعفری، مرکزی بینک کے صدر ناصر ہمتی، معاون وزرا برائے اُمور خارجہ کاظم غریب آبادی، مجید تخت روانچی، ولی الله نوری شامل ہیں۔

    وفد میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، ارکان پارلیمان ابوالفضل عموی، محمود نبویان اور پارلیمنٹ کے سپیکر کے مشیر مہدی محمدی بھی شامل ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وفد مجموعی طور پر 71 ارکان پر مشتمل ہے جس میں مرکزی مذاکراتی ٹیم کے علاوہ ماہرین، صحافی، سکیورٹی اور پروٹوکول کے افراد شامل ہیں۔

  6. بریکنگ, ایرانی وفد کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    پاکستانی حکومت کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کے لیے آنے والے ایرانی وفد کے ارکان نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔

    ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

  7. یہ نہیں ہو سکتا کہ خطے کا ایک حصہ خون میں ڈوبا ہو اور دوسرے میں مذاکرات جاری ہوں: احسن اقبال, کیرولین ڈیوس، بی بی سی نیوز، اسلام آباد

    پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔‘

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ ’پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس پیکیج میں یعنی مذاکرات کے دور میں ’مکمل جنگ بندی‘ ہونی چاہیے اور پاکستان کو امید ہے کہ اسرائیل اس تاریخی موقع کو سبوتاژ نہیں کرے گا۔‘

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں کر سکتے کہ خطے کا ایک حصہ خون میں ڈوبا رہے اور دوسرے حصے میں مذاکرات جاری ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور ان مذاکرات کے آگے بڑھنے سے پہلے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان فریقوں کو معاہدے تک لانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا، اور ان کے بقول اگر فریقین جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے ایک اور دور پر متفق ہو جاتے ہیں تو وہ ان بات چیت کو کامیاب سمجھیں گے۔

  8. امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے مگر اسرائیل کے ساتھ نہیں: ایرانی اوّل نائب صدر

    ایران کے اوّل نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ’اگر اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں تو ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان ہے جو دونوں فریقین اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔‘

    ایرانی اوّل نائب صدر کی جاب سے ایکس پر اب سے کُچھ دیر قبل جاری ہونے والے ایک بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر مذاکرات میں اسرائیل کے نمائندوں کا سامنا ہوا تو کسی معاہدے کا امکان نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسی صورت میں دفاعی اقدامات پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے، جس کے نتیجے میں دنیا کو مزید بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

  9. جنگ میں ہلاک ہونے والے اساتذہ اور طلبہ کی تعداد 344 تک پہنچ گئی: ایرانی وزارتِ تعلیم

    ایران کی وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے اساتذہ اور طلبہ کی تعداد 344 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزارت کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ میں 277 طلبہ اور 67 اساتذہ ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک 857 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے یا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ تعلیم نے بتایا کہ میناب میں واقع ’گُڈ ٹری سکول‘ پر سنیچر 29 مارچ کی صبح حملہ کیا گیا، جو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے تقریباً چار گھنٹے بعد ہوا۔ یہ واقعہ جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ متنازع موضوعات میں شامل رہا، جس کے بعد شدید اور وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔

    حملے میں ہلاک ہونے والے طلبہ کی عمریں سات سے 12 سال کے درمیان تھیں، جبکہ اس واقعے میں متعدد اساتذہ اور طلبہ کے والدین بھی ہلاک ہوئے۔

  10. جناح کنونشن سینٹر میں حکام کا ’فیک نیوز سے بچنے‘ کا مشورہ, روحان احمد، بی بی سی اُردو، جناح کنونشن سینٹر

    ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے صحافی وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں۔

    امریکہ نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کچھ دیر قبل ہی اسلام آباد پہنچے ہیں، جبکہ ایران کا 14 رُکنی وفد گذشتہ رات پاکستان پہنچا تھا۔

    جناح کنونشن سینٹر سے صحافی اپنے اداروں کے لیے تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آرہے ہیں، لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی نوعیت کیا ہوگی؟

    میں نے ایک غیر ملکی صحافی سے پوچھا کہ اُن کے پاس ان مذاکرات سے متعلق کویی معلومات ہے تو اُن کا کہنا تھا ’شاید یہاں (کنونشن سینٹر) سے باہر موجود لوگوں کے پاس کوئی معلومات ہوں، کیونکہ یہاں تو کسی کو نہیں معلوم کہ مذاکرات کب، کہاں اور کیسے ہو رہے ہیں۔‘

    گذشتہ روز پاکستان کے مقامی میڈیا کے صحافیوں کو حکام کی جانب سے یہ پیغامات دیے گئے تھے کہ وہ ’قیاس آرائیوں سے بچنے کے لیے‘ نامعلوم حکام سے بات کرنے سے گریز کریں۔

    جب میں نے ایک عہدیدار سے پوچھا کہ اِس کا مقصد کیا ہے تو اُن کا کہنا تھا ’ہم بس یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ فیک نیوز سے بچا جائے۔‘

    اس وقت دونوں وفود اسلام آباد میں موجود ہیں، جن سے پاکستانی حکام ملاقاتیں کریں گے اور اس کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو سکے گا۔

    فی الحال اسلام آباد میں ماحول دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ صرف سرکاری طور پر تصدیق شدہ تفصیلات ہی میڈیا کو موصول ہوں۔

  11. مذاکرات کے لیے ایرانی و امریکی وفود اسلام آباد میں

    امریکہ اور ایران کے وفود دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور آج متوقع ہے۔ اسلام آباد سے شہزاد ملک کی رپورٹ

  12. امریکہ اور ایران کو اسلام آباد لانا پہلا مرحلہ تھا، یہ آخری رکاوٹ نہیں, کیری ڈیوس، بی بی سی نیوز، اسلام آباد

    کئی ہفتوں کی قیاس آرائیوں کے بعد، اسلام آباد میں مذاکرات کے آغاز کے آثار واضح ہو گئے ہیں۔

    آدھی رات کے کچھ ہی دیر بعد پاکستانی جنگی طیاروں کی گرج دار آوازیں شہر کی فضا میں گونجتی رہیں، جب وہ ایرانی وفد کے طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد اُن کے ہمراہ اسلام آباد تک آئے۔

    ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی موجود ہیں۔ وفد کا ایئرپورٹ پر استقبال پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے کیا۔

    محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر طیارے کے اندر کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں نشستوں پر رکھے ہوئے سکول بیگ اور ان طالبات کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جو جنگ کے پہلے روز فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں۔

    دوسری جانب امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جے ڈی وینس بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

    مذاکرات کی اہمیت غیر معمولی ہے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ دونوں فریقوں کو اسلام آباد لانا پہلا بڑا مرحلہ تھا، تاہم یہ آخری رکاوٹ نہیں ہوگی۔

  13. امریکی نائب صدر کے اسلام آباد پہنچنے کی چند تازہ تصاویر

    اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر آمد کے موقع پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کا استقبال کیا۔

    امریکی صدر کی آسلام آباد آمد کے موقع پر سامنے آنے ولی چند تازہ تصاویر:

  14. امریکی نائب صدر کی اسلام آباد آمد کے مناظر

    جمعے کی شب ایرانی وفد کی آمد کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

    ایئرپورٹ پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کا استقبال کیا۔

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد اسلام آباد میں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس امریکی وفد میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شام ہیں۔

    ایئرپورٹ پر امریکی وفد کا استقبال پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔

    وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق امریکی نائب صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی سطح پر دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے امریکا کے عزم کو سراہا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر انھوں نے تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کو سہولت فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

  15. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا امریکہ، ایران مذاکرات کا خیرمقدم: فریقین ’نیک نیتی کے ساتھ‘ اس عمل میں حصہ لیں، گوتریس

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ امن مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا ہیا کہ وہ ’نیک نیتی کے ساتھ‘ میں شامل ہوں۔

    جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ گوتریس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پائیدار اور جامع معاہدے کی جانب نیک نیتی سے کام کریں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ گوتریس کے ایلچی سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے خطے میں موجود ہیں۔

  16. عالمی میڈیا، وفود کی آمد اور سخت ترین سکیورٹی کے درمیان پاکستان کا دارالحکومت کیا منظر پیش کر رہا ہے؟, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو, اسلام آباد

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آج (11 اپریل) اُس تقریب کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس میں لگ بھگ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں ایک جانب امریکہ جبکہ دوسری طرف ایران ہوں گے۔

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایرانی مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا جہاں اِس کا استقبال پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔

    پاکستان کی ثالثی پر امریکہ اور ایران باہمی طور پر دو ہفتے کے لیے جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں اور پاکستانی وزیراعظم کی دعوت پر اب ان دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

    ایک طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کی میزبانی کرنے والا اسلام آباد معمول سے ایک بہت مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  17. مذاکراتی وفود کے طیاروں کی براہ راست ٹریکنگ اور ’میناب 168‘ کی نشستوں پر رکھے سکول بیگ اور بچوں کی وائرل تصاویر

    جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں شیڈول مذاکرات کے لیے تہران کا وفد سنیچر کی علی الصبح پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر پہنچا تو وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں کہ آیا تہران مذاکرات کا حصہ بنے گا بھی یا نہیں۔

    اس قیاس آرائیوں کی بنیادی وجہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے دی گئی چند ’پیشگی شرائط‘ تھیں۔

    پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ان مذاکرات میں ایران کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر شیئر کی جو کافی وائرل ہوئی۔

    یہ تصویر اس طیارے میں لی گئی ہے جو ایرانی وفد کو لے کر رالپنڈی کے نور خان ایئربیس پہنچا تھا۔

    اس تصویر میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ کے اوپر رکھی گئی ہے اور ساتھ ہی ہر سیٹ پر سفید رنگ کا ایک پھول بھی رکھا ہوا ہے۔

  18. وینس اور قالیباف نے بداعتمادی پر قابو پا لیا تو نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے, لز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، اسلام آباد

    اگر دنیا کو یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایک ساتھ کھڑے ہوئے کوئی تصویر لی گئی، تو یہ منظر ایک نئی تاریخ رقم کر دے گا۔

    یہ لمحہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔

    ایران میں اسلامی انقلاب نے ان دونوں ممالک کے مضبوط سٹریٹجک تعلق کو ناصرف توڑ دیا تھا بلکہ اِن تعلقات پر ایک ایسا مہیب سایہ ڈالا تھا جو آج تک چھایا ہوا ہے۔

    ممکن ہے کہ یہ دونوں افراد (جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف) اُس ممکنہ تصویر میں مسکراتے نظر نہ آئیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاید وہ مصافحہ بھی نہ کریں۔

    اور شاید اس سے ان دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلق نہ تو زیادہ آسان ہو جائے گا اور نہ ہی کم معاندانہ۔

    لیکن یہ ممکنہ تصویر اس بات کا اشارہ ضرور دے گی کہ دونوں فریق دنیا بھر کو متاثر کرنے والی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، مزید اور خطرناک کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

    بی بی سی کی مرکزی بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈوسیٹ کا مکمل کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  19. بریکنگ, امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے

    اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    ایوی ایشن ذرائع نے بی بی سی اردو کے عُمر دراز کو بتایا ہے کہ جے ڈی وینس کو لانے والا ایئر فورس ٹو طیارہ اسلام آباد میں اُتر چُکا ہے۔

    واضح رہے کہ 15 سال کے طویل وقفے کے بعد یہ کسی امریکی نائب صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ اس سے قبل سنہ 2011 میں اُس وقت کے امریکی نائب صدرجو بائیڈن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    امریکہ کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ اُن کی ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

  20. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔

    امریکی نائب صدر کے وفد میں شامل دونوں طیارے ایس اے ایم 091 اور ایس اے ایم 095 پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔