آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’آپریشن فریڈم‘ روکنے پر پاکستانی وزیرِ اعظم صدر ٹرمپ کے شکرگزار: محض دو روز جاری رہنے والی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟
- مصنف, پالن کولا، برنڈ ڈبشمین
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم معطل کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں شہباز شریف نے لکھا: پاکستان، سعودی عرب اور دیگر برادر ممالک کی درخواست پر صدر ٹرمپ کا مثبت رد عمل خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘
ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے ایک ایسے دیر پا معاہدے کے لیے امید ظاہر کی جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اس آبی گزرگاہ میں پھنسنے والے تجارتی بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے شروع کیے گئے امریکی آپریشن کو ’پاکستان اور دیگر ملکوں کی درخواست‘ پر عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر، ایران کے خلاف مہم کے دوران حاصل ہونے والی بڑی فوجی کامیابیوں اور ایرانی نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت کے پیشِ نظر، ہم نے باہمی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگرچہ (ایرانی بندرگاہوں کی امریکی) ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی، تاہم ’پراجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر مختصر مدت کے لیے روک دیا جائے گا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔‘
ٹرمپ نے آپریشن فریڈم نامی اس نئے منصوبے کا اعلان گذشتہ اتوار کے روز کیا تھا جس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
منگل کے روز ایران کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اس آپریشن کو سرانجام دینے والے امریکی جنگی جہازوں پر فائرنگ کی ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے بتایا گیا کہ انھوں نے اس دوران چھوٹی ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا ہے۔
ان اقدامات نے اُس جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا جو تنازع کے خاتمے کے لیے نافذالعمل کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اب یعنی آپریشن فریڈم کے آغاز کے محض دو دن بعد ہی، ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس اقدام کو ’مختصر مدت کے لیے‘ روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔
مگر ’پراجیکٹ فریڈم‘ کیا ہے اور اس کے آغاز کے بعد یہ خدشات کیوں پیدا ہو رہے تھے کہ یہ صورتحال وسیع تر تصادم کی دوبارہ شروعات کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی فوج اس اقدام کو کس طرح نافذ کر رہی تھی؟
آبنائے ہرمز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے بڑی حد تک بند ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیج میں اس وقت 1,550 تجارتی جہاز اور اُن پر سوار تقریباً 22,500 ملاح پھنسے ہوئے ہیں، اور اس صورتحال کے باعث تیل و گیس اور دیگر تجارتی اشیا کی رسد میں کمی اور سیلرز یعنی ملاحوں کی جسمانی و ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے مطابق آپریشن فریڈم میں معاونت کے لیے درج ذیل وسائل استعمال کیے جا رہے تھے:
- گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ڈسٹرائر جنگی جہاز
- 100 سے زائد طیارے
- مختلف نوعیت کے بغیر پائلٹ کام کرنے والے نظام (یعنی ڈرون وغیرہ)
- 15,000 فوجی اہلکاروں کی تعیناتی
آپریشن کے پہلے روز بریفنگ کے دوران سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے بتایا تھا کہ خلیج میں87 ممالک کے جہاز پھنسے ہوئے ہیں، اور امریکہ نے ’درجنوں جہازوں اور شپنگ کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ بحری آمدورفت کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔‘
تاہم جب اس آپریشن کا اعلان کیا گیا تو یہ واضح نہیں تھا کہ آیا امریکہ پھنسے ہوئے جہازوں کو براہِ راست فوجی تحفظ فراہم کرے گا یا نہیں۔
سابق امریکی نائب معاون وزیرِ دفاع اور میرینز کے سابق اہلکار مک ملروئے نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے خیال میں امریکی فوج کا زیادہ تر زور فضائی تحفظ اور ڈرون یا میزائل حملوں سے دفاع پر ہو گا، نہ کہ جہازوں کو براہِ راست ہمراہ لے کر بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزروانے پر۔
انھوں نے کہا کہ ’اہم سوال یہ ہے کہ کیا جہاز چلانے والے اس بات پر اعتماد کریں گے کہ وہ بغیر کسی حملے کا سامنا کیے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم انشورنس کمپنیوں کا اعتماد ہے۔‘
دوسری جانب، ٹینکر مالکان اور آپریٹرز کی نمائندہ تنظیم انٹرٹانکو کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹم ولکنز نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس آپریشن کے لیے کوئی واضح ہم آہنگی یا رابطہ نظام قائم نہیں کیا، جس کے باعث اُن کی تنظیم کے ارکان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اپنی سلامتی پر تشویش لاحق رہی ہے۔
کیا آپریشن فریڈم کے دوران جہاز آبنائے ہرمز سے گزر پائے؟
پیر کی دوپہر، امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر جہاز خلیج میں 'پراجیکٹ فریڈم' کی حمایت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد کارروائی کر رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج تجارتی بحری نقل و حرکت بحال کرنے کی کوششوں میں فعال معاونت فراہم کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’پہلے مرحلے کے طور پر، دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور محفوظ طریقے سے اپنے سفر پر گامزن ہیں۔‘
تاہم ان جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
عالمی شپنگ کمپنی ’مارسک‘ نے بھی تصدیق کی کہ اس کا ایک جہاز امریکی فوج کی نگرانی میں خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر پایا ہے۔
اس وقت، چونکہ جہازوں کی رہنمائی کے لیے شروع کیا گیا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ آیا مزید جہاز اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔
کیا ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہاز اور تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی گئی؟
پیر کے روز امریکی آپریشن کے آغاز کے چند گھنٹوں بعد، ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ’امریکی اور صہیونی دشمن کے جنگی جہازوں‘ پر فائرنگ کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے فوری طور پر ایران کے اس دعوے کی تردید کی کہ اُن کی کسی جنگی جہاز پر دو میزائل لگے ہیں۔ تاہم امریکہ کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی کہ ایران نے واقعی امریکی جنگی جہازوں اور امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں پر کروز میزائل فائر کیے، جبکہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، جو امریکہ کا علاقائی حلیف ہے اور جنگ کے دوران کئی بار ایرانی حملوں کی زد میں آ چکا ہے، نے بتایا کہ اس کی سرکاری آئل کمپنی ادنوک سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
امارات کی وزارت خارجہ کے جاری بیان کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ کم از کم تین میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اسی دوران ایک حملے میں متحدہ عرب امارات کے قریب آبنائے ہرمز میں لنگر انداز ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے بتایا کہ مشن میں اعانت کرنے والے امریکی اٹیک ہیلی کاپٹروں نے اس دورانیے میں چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا کیونکہ یہ کشتیاں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
ایران نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ ان جہازوں کے خلاف ’فیصلہ کن اقدام‘ کرے گا جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اس کے منظور شدہ روٹس استعمال نہیں کریں گے۔
ملک کے اعلیٰ مذاکرات کار نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر کے سمندری تجارت کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہا ہے، اور کہا کہ ’موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔‘
کیا ایران جنگ کا دوبارہ آغاز ہونے والا ہے؟
منگل کے روز جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن فریڈم کی معطلی کا اعلان کیا تو انھوں نے ساتھ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے ساتھ ’مکمل اور حتمی معاہدے‘ کی جانب ’نمایاں پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس عارضی وقفے کے دوران آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر کے اس بیان کے حوالے سے اس کے پاس مزید کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اس پیش رفت کو ٹرمپ کی ’پسپائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی جہاز رانی کے لیے نہایت اہم اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اپنی کوششوں میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے ماہر گرانٹ رملے، جو 2018 سے 2021 کے درمیان بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کے مشیر رہے، کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ’انتہائی مشکل‘ کام ہو گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کو معطل کیے جانے سے پہلے ہی واضح تھا کہ اس نوعیت کے آپریشن کے لیے کہیں زیادہ سخت اور براہِ راست فوجی اقدامات درکار ہو سکتے تھے۔
لندن کے چیتھم ہاؤس کے انٹرنیشنل سکیورٹی پروگرام سے وابستہ ماہر نتیا لابھ نے اس امریکی کارروائی کو ’انتہائی خطرناک‘ اور کشیدگی میں اضافہ کرنے والا قدم قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ کا ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے میں کامیاب بھی ہو جاتا تو یہ زیادہ سے زیادہ عارضی ریلیف ثابت ہوتا، کیونکہ اس اہم آبی راستے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے مستقل اور وسیع پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے۔
اسی دوران منگل کو ایک بریفنگ میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا گیا کہ آیا آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے؟
اس پر انھوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور اس دوران یہ ایک ’الگ نوعیت کا منصوبہ‘ ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے ایران نے تجارتی جہازوں پر نو بار فائرنگ کی ہے، دو کنٹینر جہاز قبضے میں لیے ہیں اور امریکی افواج پر دس حملے کیے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ اقدامات فی الحال بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کی حد تک نہیں پہنچے ہیں۔