آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی کشتیوں پر امریکی حملے اور متحدہ عرب امارات میں تہران کی کارروائی جو کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں
- مصنف, پالن کولا، جارج رائٹ اور جیمز چیٹر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو امریکہ کی ’رہنمائی میں آبی گزر گاہ سے بحفاظت باہر نکالنے‘ کے صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں جھڑپوں اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی اطلاعات آئی ہیں۔
پیر کے روز متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں موجود اپنے جہازوں پر حملوں کی اطلاع دی، متحدہ عرب امارات نے یہ بھی کہا کہ ایرانی نے فجیرہ کی آئل پورٹ پر حملہ کیا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی سات ’تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’ہم نے سات چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا، جنھیں وہ ’تیز رفتار‘ کشتیاں کہتے ہیں۔ ان کے پاس یہی کچھ باقی بچا ہے۔‘
امریکی فوج نے کہا کہ اس نے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہوئے ان کشتیوں پر حملہ کیا۔
بعد میں ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے اس اعلان کو مسترد کیا کہ امریکہ نے تیز رفتار کشتیاں نشانہ بنائی ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کشتیوں کے بجائے دو چھوٹے کارگو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک ہو گئے۔
امریکہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر جہاز اور امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز پیر کے روز آبنائے سے گزرے۔
ایران نے ان دعوؤں کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دیا اور اس کی فوج نے کہا کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز پر انتباہی فائر کیے، جبکہ امریکی فوج نے اس کی تردید کی۔
پیر کے روز بعد ازاں شپنگ کمپنی مرسک نے کہا کہ اس کا امریکی پرچم بردار جہاز، الائنس فیئر فیکس، جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سے خلیج میں پھنسا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے باہر نکل گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی نے کہا کہ اس سے امریکہ نے رابطہ کیا اور ’امریکی فوجی تحفظ کے تحت جہاز کو خلیج سے باہر نکالا۔‘
اسی دوران متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اطلاع دی کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک سے منسلک ایک ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا۔ جنوبی کوریا نے بھی متحدہ عرب امارات کے قریب لنگر انداز اپنے ایک جہاز پر دھماکے کی رپورٹ دی۔
عمان میں سرکاری میڈیا کے مطابق، پیر کے روز آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے بخاء میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے سے دو افراد زخمی ہوئے۔
یو اے ای حکام نے یہ بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ مقامی حکام کے مطابق ایک حملے کے نتیجے میں فجیرہ کی اہم آئل پورٹ پر شدید آگ بھڑک اٹھی اور تین افراد زخمی ہوئے۔
ابوظہبی نے ان حملوں کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کا ’متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘
عالمی رہنماؤں نے متحدہ عرب امارات کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ یہ حملے ’بلاجواز اور ناقابل قبول‘ ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے کہا
کہ برطانیہ ’خلیج میں اپنے شراکت داروں کے دفاع کی حمایت‘ جاری رکھے گا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے آبنائے کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور خطے اور دنیا کو یرغمال بنانا بند کرنا چاہیے۔‘
ایکس پر ایک پوسٹ میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کرے۔‘
فجیرہ پر حملے کی اطلاعات کے فوراً بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو دن بھر میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ تھا۔
فجیرہ خلیج عمان پر متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے آگے واقع ہے۔ ابو ظہبی کی آئل فیلڈز سے ایک پائپ لائن فجیرہ تک جاتی ہے، جس کے ذریعے محدود مقدار میں خام تیل ٹینکروں پر لادا جا سکتا ہے اور آبنائے کے مؤثر طور پر بند ہونے کے باوجود عالمی منڈیوں کو بھیجا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے امریکہ کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے جہازوں اور عملے کو نکالنے کی کارروائی کو ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’پراجیکٹ فریڈم دراصل پراجیکٹ ڈیڈ لاک ہے۔‘ ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ آبنائے میں پیش آنے والے واقعات 'یہ واضح کرتے ہیں کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں۔'
امریکی پراجیکٹ فریڈم کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی فوج نے کہا کہ ’ایرانی بحریہ کی سخت اور فوری وارننگ کے باعث امریکی اور صہیونی دشمن ڈسٹرائرز‘ کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
اس کے فوراً بعد سینٹ کام نے ایران کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
پیر کی دوپہر سینٹ کام نے کہا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز ’پراجیکٹ فریڈم کی حمایت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد خلیج میں کارروائی کر رہے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج ’تجارتی شپنگ کی بحالی کے لیے بھرپور معاونت کر رہی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت محدود کر دی۔ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا 20 فیصد اسی اہم آبی گزر گاہ سے گزرتا ہے۔
اپریل کے اوائل میں امریکہ اور ایران نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے تو ختم کر دیے تھے لیکن آبنائے ہرمز سے بہت ہی کم بحری جہاز گزر سکے ہیں۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی جانب سے بھی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔