یہ لائیو پیج اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
تازہ ترین صورتحال اور لمحات بہ لمحہ پیش رفت کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج بدستور جاری ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جاسک کی بندگاہ کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔
تازہ ترین صورتحال اور لمحات بہ لمحہ پیش رفت کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج بدستور جاری ہے۔
ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس گریگ لینڈزمین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج پر حالیہ امریکی فوجی حملوں پر ردعمل دیا ہے۔
رکن کانگریس کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ کشیدگی مزید نہیں بڑھے گی، اور یہ کہ ایرانی ’حکومت کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کو اپنے اہداف سے نمٹنے کے بعد ہماری فوجی کارروائیوں کو ختم کر دینا چاہیے تھا‘ مگر ’اس کے بجائے انھوں نے ناکہ بندی کے ذریعے پوری عالمی معیشت کو آبنائے ہرمز میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔‘
یہ ایک طرح سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان چار ہفتے پرانی جنگ بندی کو مزید خطرے میں ڈال رہا ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ فائرنگ کا آغاز کس نے کیا تھا۔
پینٹاگون کے مطابق امریکی بحریہ کے بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج عمان کی طرف جا رہے تھے، ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملے کی زد میں آئے اور اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی فوجی تنصیبات، بشمول لانچ سائٹس اور کمانڈ سینٹرز، کو نشانہ بنایا۔
یہی بیان قشم جزیرے اور بندر عباس میں دھماکوں سے متعلق ایرانی اطلاعات کو واضح کرتا ہے۔
تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نیوی کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کا آغاز امریکہ نے ایک ایرانی تیل بردار اور ایک اور دوسرے جہاز کے خلاف کارروائی کر کے کیا، جس کے جواب میں ایران نے امریکی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
امریکی حکام یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ فائرنگ کا ایک محدود تبادلہ ہے جو جنگ کے دوبارہ آغاز کی علامت نہیں، لیکن تہران اسے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملہ آوروں کو ’شدید نقصان‘ پہنچایا گیا اور ان کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ کشتیاں فوری اور مؤثر طریقے سے سمندر کی تہہ میں چلی گئیں۔ ہمارے بحری جہازوں پر میزائل داغے گئے تھے لیکن انھیں آسانی سے گرا دیا گیا۔ اسی طرح ڈرون بھی آئے لیکن انھیں فضا میں ہی ختم کر دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دوسرا ’نارمل ملک (امریکی) جہازوں کو گزرنے دیتا لیکن ایران کوئی نارمل ملک نہیں ہے۔ اس کی قیادت جنونی کر رہے ہیں‘
ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع ہوتا تو وہ ’ایسا کر گزرتا۔‘
’لیکن انھیں یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔ اگر وہ جلد ہی کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتے تو پھر جس طرح آج ہم نے انھیں مارا ہے، مستقبل میں بھی ہم انھیں اس سے بھی بری طرح ماریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رہے گی اور حملے کی زد میں آنے والے تینوں امریکی بحری جہاز ایک بار پھر ’آہنی دیوار‘ میں شامل ہو جائیں گے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے، گذشتہ روز ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی مجوزہ معاہدے سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ایرانی فورسز اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے۔
انھوں نے اے بی سی نیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی برقرار اور نافذ ہے۔‘
امریکی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ بس پیار بھرا ایک دھکا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
خیال رہے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے جاسک کی بندرگاہ پر ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا اور اس نے اس کے ردِعمل میں امریکہ بحری جہازوں پر حملے کیے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس کے بحری جہازوں پر ’بلا اشتعال حملے‘ کیے، جنھیں اس نے ناکام بنایا اور جوابی کارروائی میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
بی بی سی ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک ایرانی رپورٹر کا کہنا ہے کہ بندر عباس میں امریکی حملوں کے بعد کسی ہلاکت یا کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’نظام زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے جاسک کی بندرگاہ کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی نیوی نے ’شدید دھماکا خیز وارہیڈز‘ کے ذریعے اپنا ردِعمل دیا اور ’انٹیلیجنس نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی دشمن کو نمایاں نقصان پہنچا اور دشمن کے تین حملہ آور جہاز فوری طور پر آبنائے ہرمز کے علاقے سے فرار ہو گئے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ: ’ایرانی افواج نے متعدد میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اس وقت حملے کیے جب یو ایس ایس ٹرکسٹن (ڈی ڈی جی 103)، یو ایس ایس رافیل پرالٹا (ڈی ڈی جی 115) اور یو ایس ایس میسن (ڈی ڈی جی 87) بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔ لیکن کوئی بھی امریکی اثاثہ ان کا نشانہ نہیں بنا۔‘
سینٹکام کے مطابق اس کی فورسز نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایااور ان ’ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو امریکی افواج پر حملوں کی ذمہ دار تھیں‘، جن میں اس کے مطابق میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول مقامات اور انٹیلی جنس اور نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سینٹکام کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مستعد اور تیار ہے۔‘
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری ایران کی فوج کے ترجمان سے منسوب ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے بالمقابل آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے امریکہ کی طرف سے بندر خمیر، سیریک اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقوں میں بھی ’فضائی حملے‘ کیے گئے ہیں۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جواب دیا‘ اور امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں ’نقصان‘ پہنچا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے، جسے اس نے ایرانی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان ’فائرنگ کا تبادلہ‘ قرار دیا ہے۔
ایک اسرائیلی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کی شام آبنائے ہرمز میں ہونے والے مبینہ حملوں میں ’اسرائیل ملوث نہیں‘ ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ واقعہ امریکی فوج کی جانب سے ایک ایرانی ٹینکر پر حملے کے بعد پیش آیا اور اس دوران آبنائے ہرمز میں ’دشمن یونٹس‘ ایرانی میزائلوں کی زد میں آئے۔
امریکہ نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ایران پاکستان کے ذریعے آنے والے پیغامات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس نے ’اب تک امریکہ کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘
اس سے قبل پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ وہ نئی امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کے منتظر ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو اس امید کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ جلد ہی طے پا جائے گا۔
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں ایک ٹریفک حادثے میں کم ازکم چار افراد ہلاک اور 22 سے زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ حادثہ ایک مسافر بس کو پیش آیا جو بلوچستان کے شہر خاران سے جھل مگسی کے راستے سندھ کے شہر لاڑکانہ جارہی تھی۔
جھل مگسی میں ایک پولیس اہلکار صدام گھوٹیا نے بی بی سی بتایا کہ بس جب ایم 8 کے راستے ضلع خضدار سے جھل مگسی میں داخل ہوئی تو وانگو کے علاقے میں حادثے کا شکار ہوگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے میں کم ازکم چار افراد ہلاک جبکہ 22 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی صحافی عبدالحمید لاشاری کے مطابق چونکہ حادثے کے قریب واقع علاقے میں علاج معالجے کی سہولت نہیں تھی اس لیے زخمیوں کو باریجہ کے سرکاری طبی مرکز پہنچایا گیا، جو کہ حادثے کی جگہ سے خاصے فاصلے پر ہے۔
جھل مگسی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر علی خان مگسی کا کہنا ہے کہ 22 سے زیادہ زخمی مسافروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے باریجہ کے طبی مرکز لایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے سات کی حالت تشویشناک تھی، جنھیں طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے سندھ کے شہر لاڑکانہ منتقل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب صدر سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعرات کو ٹیلی فون پر گفتگو میں سفار کاری کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات چیت میں خطے کی تازہ صورتحال اور موجودہ رجحانات کا جائزہ لیا اور مذاکرات اور سفارتکاری کے عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ارنا کے مطابق فریقین نے خطے میں استحکام برقرار رکھنے، کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے دوران رابطے کی تصدیق کی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اس گفتگو کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ کو چین کے حالیہ دورے اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے پہلے ضبط کیے گئے جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی امداد کو سراہا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہمیں توقع ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ دیر کے بجائے جلد ہو جائے گا۔ امید ہے کہ فریقین ایک پُرامن اور پائیدار حل تک پہنچیں گے اور نہ صرف ہمارے خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن قائم ہو گا۔‘
یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں سوالات کے جوابات میں کہی۔
اس بریفنگ میں صحافیوں کی جانب سے ایران اور امریکہ تنازعے کے حل کے حوالے سے سوالات کیے گئے تو ترجمان نے بتایا کہ ’ ان مذاکرات کے مواد پر بات کرنا یا تفصیلات ظاہر کرنا ہمارا کام نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک دیانت دار سہولت کار اور ثالث کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ ہم فریقین کے اعتماد کو برقرار رکھیں۔ ہم اس اعتماد کو برقرار رکھیں گے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔‘
متوقع معاہدے کے مقام کے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ ’معاہدہ جہاں بھی طے پاتا ہے ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ اگر یہ اسلام آباد میں ہوتا ہے تو ہمارے لیے یہ اعزاز اور باعثِ فخر ہو گا کہ ہم اس کی میزبانی کریں۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق ’ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان تحمل، بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی تمام کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’موجودہ پیش رفت ایک دیرپا معاہدے میں تبدیل ہو گی جو خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنائے گی۔‘
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ کے آغاز میں ’معرکۂ حق‘ کے ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے کہا کہ ’یہ ہمارے قومی سفر کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جو صرف ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ مستقبل کی تشکیل کا بھی موقع ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو جنوبی ایشیاء میں امن اور سلامتی پر تشویش ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا ، سندھ طاس معاہدہ سے متعلق تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران مارٹر گولے آبادی کے قریب گرنے سے چھ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ضلع ہنگو اور ضلع اورکزئی کے سرحدی علاقوں زرگری، شناوری اور دورڑی بانڈہ میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر دو روز سے آپریشن کیا جا رہا تھا۔
ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان وزیر کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران مسلح افراد کی جانب سے مارٹر گولے آبادی میں گرے ہیں جس سے چھ افراد کی جان چلی گئی جبکہ 13 افراد زخمی ہیں۔
ڈپٹی کشنر گوہر زمان وزیر نے بتایا ہے کہ مارٹر گولے دورڑی بانڈہ بازار میں گرنے سے سول آبادی کو شدید نقصان پہنچا۔
ہنگو سے ایک نوجوان مختیار نے بتایا کہ ایک گولہ ان کے علاقے میں گرنے سے ان کے چچا کی جان چلی گئی۔
ڈپٹی کمشنر ہنگو نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلع کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات کب ہوئی، اس حوالے سے ایرانی صدر نے کوئی تفصیلات تو نہیں بتائی تاہم انھوں نے کہا ہے کہ یہ ملاقات ’ڈھائی گھنٹے‘ تک جاری رہی۔
تہران کی وزارت صنعت کی ایک تقریب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ’اس ملاقات میں جو چیز میرے لیے نمایاں رہی وہ رہبر اعلیٰ کا تصادم کا انداز، نقطہ نظر اور ان کا عاجزانہ اور گہرا مخلصانہ رویہ تھا۔‘
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا سپریم لیڈر بنایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی آڈیو یا ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا گیا اور ایرانی میڈیا نے صرف ان کے تحریری پیغامات شائع کیے ہیں۔
بعض اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’جس طرح سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے خطرہ ہے ایسے ہی سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔‘
یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کی مستقبل میں کسی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کیا پاکستان کی مدد کر سکے گا؟
اس پر پاکستانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ تھا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کئی جہتیں ہیں جو دہائیوں سے قائم ہیں۔‘
ان کے مطابق ’محافظین حرمین شریفین کا اعزاز پاکستان کے ہر شخص کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان اور اس کی فوج کو چنا اور سعودی عرب کی قومی سلامتی بھی حرمین شریفین سے جڑی ہے۔‘
ان کے مطابق ’جس طرح ہمیں سعودی عرب کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے بالکل ایسے ہی پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی سعودی عرب کو بھی عزیز ہے۔ ‘
پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنا عہد پورا کرنے والے لوگ ہیں اور جو وعدہ ہم نے کیا اس کو پورا کرنے والے لوگ ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں پاکستانی افواج کی ممکنہ طاقت کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’معرکہ حق میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہمارا مجموعی طاقت کا 10 سے 15 فیصد تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کو شک ہے تو جان لیں کہ اپنی طاقت کی ایک قسط ہم نے دکھائی ہے۔ اس بار 14اگست پر عظیم الشان پریڈ ہوگی، اپنی پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ’انڈیا کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کریں، چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی، ہم یہیں کھڑے ہیں، پوری بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔‘
ان کے مطابق ’یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کوئی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، پاکستان کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ’معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے ہیں اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سکور 8-0 ہے۔‘
انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ معرکہ حق میں ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک معراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون مار گرایا گیا۔
انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’مار گرائے 29 اپریل کو چار رافیل طیاروں نے کشمیر ریجن میں داخلے کی کوشش کی۔ ہم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کیا۔‘
انڈیا پاکستان کے درمیان گزشتہ سال شدید جھڑپوں کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ڈی جی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ میں انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انڈیا اپنے لوگوں پر دہشت گردی کرواتا ہے اور اس کا الزام دوسروں پرعائد کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’افواج پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔‘
’ہم پہلے بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ انڈیا خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے، انڈیا بتائے کہ اس نے کس دہشت گردی کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنھوں نے یہ کروایا اور انڈیا بتائے اس نے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر شدت پسند حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے پر ڈرون، میزائل حملوں اور فضائی جھڑپوں کی ابتدا کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
جہاں انڈیا نے اس چار روزہ لڑائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا وہیں پاکستان میں اس کے لیے ’معرکہ حق‘ اور ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی آرمی پروفیشنل تھی جو آج سیاست ذدہ ہو گئی ہے۔ پاکستان اور اس کی قیادت خطے میں امن کے قیام کی کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی پولیٹیکوملٹری ڈپلومیسی(سیاسی ملٹری سفارتکاری) آج دنیا دیکھ رہی ہے۔‘
انھوں نے انڈیا کے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کا نیوز میڈیا اچھی خاصی تفریح فراہم کر دیتا ہے اور یہی کام معرکہ حق کے دوران انھوں نے کیا۔ انڈیا کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچ بولنا سیکھے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’انڈیا نے پہلے بھی پراکسیز لانچ کیں اور اب بھی وہ یہی کام کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’دشمن کو پاکستانی افواج نے ملٹی ڈومین وار میں شسکت دی، یہ بات انڈیا کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ جنگ ہوا میں بھی ہے، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں بھی، ہم نے انڈیا کی جارحیت کا چند گھنٹوں میں مؤثر جواب دیا، دو جوہری طاقتوں میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان جنگ پاگل پن ہے۔‘
مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ دہشت گردی وہ ہے جو انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں کروا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر تک پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھتے رہے اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آرمی نے آپریشنز کیے اور دہشت گردی کا راستہ روکا اور اس دوران اس میں 1800دہشت گرد مارے ۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب انڈیا کو شکست دی تو سب سے پہلے ان کے پاس’اسلام کے نام نہاد افغانستان کے وزیر خارجہ گئے۔ انڈیا اور افغانستان بری طرح ایکسپوز ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم انڈیا کے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کو فخر سے دکھاتے بھی ہیں۔
اس موقع پر ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے کہا کہ ’انڈیا نے گزشتہ سال مئی میں اپنا بیڑا تعینات کرنے کی کوشش کی جو ہر طرح سے لیس تھا۔ انڈیا کو اپنی بحری طاقر ہر ناز تھا تاہم اس کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ جارحیت کر سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بحری اثاثے مسلسل سمندر میں موجود ہیں۔ امن ہو یا جنگ اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔