انڈیا کا شہر کوٹا طالب علموں کے لیے ’موت کی فیکٹری‘ کیوں بن رہا ہے؟

- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, بی بی سی، کوٹا
ایک خاتون ایمبولینس میں رکھے ڈیپ فریزر کو تھامے مسلسل رو رہی ہیں۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
وہ ’میرا بھائی، میرا بھائی‘ کہہ کر رو رہی ہیں۔
یہ ایمبولینس راجستھان کے شہر کوٹا میں ایم بی ایس ہسپتال کے مردہ خانے کے سامنے کھڑی ہے۔ مردہ خانے کے باہر پولیس اہلکار کاغذی کارروائی کر رہے ہیں۔ اردگرد کچھ طالب علم بھی ہیں۔
ایک طالب علم سے پوچھنے پر پتا چلا کہ ڈیپ فریزر میں 17 سالہ انکش کی لاش ہے اور رونے والی عورت انکش کی بڑی بہن ہیں۔
پولیس کے مطابق انکش بھی ان تین طالب علموں میں سے ایک تھے، جنھوں نے کوٹا میں ایک ہی دن میں خودکشی کی تھی۔
انکش اپنی دو بڑی بہنوں کے چھوٹے بھائی تھے۔ انکش کی بہن، بہنوئی امریش اور کچھ رشتہ دار انکش کی لاش لینے مردہ خانے پہنچے تھے۔ وہ ہم سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
بہار کے علاقے سپول سے تعلق رکھنے والے انکش اور گیا کے اجول نے کوٹا کے تلونڈی علاقے میں دو منزلہ عمارت کی اوپری منزل پر الگ الگ کمروں میں ’خود کشی‘ کر لی۔
اس گھر کے مکینوں سے بات کرنے کی کئی کوششوں کے بعد 50 سال کی ایک خاتون باہر نکلیں اور کہا کہ ہم نے پولیس کو سب کچھ بتا دیا ہے، آپ پولیس سے پوچھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوٹا کے کلکٹر او پی بنکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک طالب علم کے افیئر کا معاملہ سامنے آیا ہے، جب اس کے گھر پر پتا چلا تو ممکن ہے کہ طالب علم کی سرزنش کی گئی ہو جس کے بعد اس نے یہ قدم اٹھایا ہو۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کلکٹر بنکر نے کہا کہ ’ایک طالب علم تقریباً ایک ماہ سے کوچنگ نہیں جا رہا تھا۔ اس کا حاضری کارڈ دوسرے طالب علم کے ذریعے پنچ کیا جا رہا تھا۔ جس طالب علم نے کارڈ کو پنچ کیا، اس نے اسے قبول کر لیا ہے۔‘
کوٹا شہر کے پولیس سپریٹنڈنٹ کیسر سنگھ شیخاوت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابتدائی تحقیقات میں پڑھائی کے دباؤ کی وجہ سامنے آئی ہے۔ ہم تحقیقات کر رہے ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
تینوں طلبا کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
کوٹا میں زیادہ تر طالب علم یوپی بہار سے ہیں۔ کوٹا میں تقریباً 1.5 لاکھ طلبا تلونڈی، جواہر نگر، وگیان وہار، دادا باری، وسنت وہار اور راجیو گاندھی نگر علاقے کے آس پاس کے علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ تاریخی علاقے میں 60 ہزار تک طلبا رہائش پذیر ہیں۔
بی ایس ہاڈا، جو چار دہائیوں سے یہاں صحافت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ کوٹا میں تقریباً ڈھائی لاکھ طالب علم رہتے ہیں۔’ان میں سے زیادہ تر اتر پردیش اور بہار سے آتے ہیں‘۔
کوٹا میں سات مشہور کوچنگ سینٹر ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے دوسرے کوچنگ سنٹر بھی یہاں ہیں۔ شہر میں تقریباً ساڑھے تین ہزار ہاسٹل اور پی جی ہیں۔ ان میں بہار اور اتر پردیش کے طلبہ کی بڑی تعداد ہے۔

طلبا کی بڑی تعداد سڑکوں پر
آپ جس بھی سڑک سے گزرتے ہیں، 16 سے 20 سال کی عمر کے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کندھوں پر بیگ لٹکائے کوچنگ اور ہاسٹلز کی طرف بھاگتی ہوئی نظر آتی ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک کوچنگ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایک شخص نے بتایا کہ ’سکول میں بچوں کا داخلہ بھی کوچنگ انسٹیٹیوٹ اپنی سطح پر کرتے ہیں۔ سکول میں ڈمی طالب علم کی طرح داخلہ لیا جاتا ہے اور تیاری کی جاتی ہے۔ اس سے بچوں میں پڑھائی کا دباؤ اور بھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔‘
ہم ہاسٹل کے ڈائریکٹر کنج بہاری نگر سے ملے۔ وہ یہاں نو ہاسٹل چلاتے ہیں جن میں 500 طلبا رہتے ہیں۔
کنج بہاری کہتے ہیں کہ ’والدین چھ ماہ سے ایک سال تک بچے سے ملنے نہیں آتے، ہم بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اگر ان کے گھر پر کسی بچے کی شکایت کی جائے تو والدین بھی نہیں مانیں گے۔‘
راجیو گاندھی نگر کے آس پاس کے علاقے میں ہزاروں طلبا کی سائیکلیں کوچنگ انسٹیٹیوٹ کے باہر کھڑی نظر آتی ہیں۔ شام کے وقت سڑک پر طلبا کا ہجوم نظر آتا ہے۔
خودکشی کا ذمہ دار کون؟
طلبا کی خودکشی کی خبریں لگاتار منظر عام پر آ رہی ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں، پڑھائی کے دباؤ کو وجہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
لیکن کیا طلبہ خود اس کے ذمہ دار ہیں؟ اس پر سینیئر صحافی کے بی ایس ہاڈا نے کوچنگ اداروں میں باہمی مقابلہ بازی، ہاسٹل، پی جی کا ماحول اور میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرایا جو اشتہارات کے لالچ میں خامیوں کو اجاگر نہیں کرتا۔
ان کا خیال ہے کہ پولیس انتظامیہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتی ہے۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ کوچنگ انسٹیٹیوٹ اپنے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے طلبہ کو تناؤ دیتے ہیں۔

کوٹا سٹی کے ایس پی کیسر سنگھ شیخاوت کے مطابق 2011 سے اب تک کوٹا میں 135 کوچنگ طلبا خودکشی کر چکے ہیں۔ اس سال 14 طلبا نے خودکشی کی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق 2017 میں ایک ماہ میں 24 طلبا نے خودکشی کی۔ اس دوران دلی کی سینیئر صحافی نیلم گپتا نے کوٹا سے رپورٹ کیا تھا۔
اپنی رپورٹ میں انھوں نے ممبئی کے ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سائنسز کی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں طالب علموں کی خودکشی کی وجوہات بیان کی گئیں۔
نیلم گپتا بی بی سی ہندی کو بتاتی ہیں کہ ’طلبہ کے درمیان سٹڈی گروپ کا دباؤ ہے۔ والدین کا دباؤ ہے جو سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں اور کوٹا میں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’کوچنگ ادارے تعلیمی لحاظ سے روشن بچوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں تاکہ ان کے نتائج کو بہتر ثابت کیا جا سکے۔ دوسرے بچوں یا کمزور بچوں کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ یہ بھی بچوں میں تناؤ کی ایک وجہ ہے۔‘
کوچنگ انسٹیٹیوٹ کی کلاس ٹائمنگ اور شیڈول بھی ایک بڑا عنصر ہے۔
طلبا کیا سمجھتے ہیں؟
چیتن سنگھ تنور 19سال کے ہیں اور وہ لینڈ مارک کے علاقے میں ایک ہاسٹل میں رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خاندان کا دباؤ ضرور ہے لیکن طلبا تہواروں پر بھی گھر نہیں جا سکتےاور کوچنگ میں انھیں ہفتے میں ساتوں دن کلاس میں جانا پڑتا ہے اور پھر ہاسٹل میں پڑھنا پڑتا ہے۔
نیٹ (میڈیکل میں داخلے کا ٹیسٹ) کی تیاری کرنے والے 19 سالہ شکیب خان کہتے ہیں کہ ’میرے والد ایک استاد اور بہت دوستانہ مزاج ہیں۔ اگر مجھے کوئی پریشانی ہوتی ہے تو وہ میری رہنمائی کرتے ہیں۔‘
2012 میں یہاں کوچنگ کے لیے آنے والے کلام کہتے ہیں کہ ’میں نے یہاں NEET کی کوچنگ لی لیکن سلیکشن نہیں ہوا۔ اب میں یہاں ہاسٹل چلاتا ہوں۔‘
13 دسمبر کو کوٹا پولیس انتظامیہ نے کوچنگ اداروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ میٹنگ میں کوٹا رینج کے آئی جی، کلکٹر اور ایس پی نے کوچنگ اداروں کو 11 نومبر کو جاری کردہ حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
کلکٹر او پی بنکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے کوچنگ اداروں سے کہا ہے کہ وہ یوگا کلاس، تحریکی تقریر، ہفتے میں ایک چھٹی سمیت حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

طلبا سے کوٹا میں روزگار کے مواقعے
مدھیہ پردیش کے علاقے مندسور سے آنے والی چمبل ندی کوٹا شہر سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی کوٹا سمیت آس پاس کے اضلاع میں کاشتکاری سے پیداوار اچھی ہوتی ہے۔
کوٹا کو صنعتی شہر بھی کہا جاتا ہے تاہم، 1980 کی دہائی سے، صنعتی کاروبار میں کمی آئی ہے اور تعلیمی اداروں کی تعداد میں تیزی آئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صنعتی شہر کوٹا کو اب تعلیم کا شہر کہا جاتا ہے۔ کوٹا شہر کے باشندے ان طلبا کے بغیر کوٹا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
ہاسٹل آپریٹر روہت کمار کا کہنا ہے کہ ’شہر میں لوگ اپنے گھروں کو پی جی بنا کر کما رہے ہیں۔ تقریباً ساڑھے تین ہزار ہاسٹل، پی جی ہیں، سینکڑوں میس، ریستوران ہیں اور شہر کی آبادی کو روزگار ملا ہے۔‘
طلبا کے ذریعے کوچنگ اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کو روزگار بھی ملا ہے۔
ہاسٹل آپریٹر کنج بہاری کہتے ہیں کہ ’ایک بچے پر سالانہ اوسطاً چار لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ کوٹا میں تقریباً ڈھائی لاکھ طالب علم رہتے ہیں۔ کچھ طالب علموں کے ساتھ ان کے رشتہ دار بھی یہاں رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوٹا طلبا کے لیے معاشی ریڑھ کی ہڈی سے کم نہیں۔‘










