نیوزی لینڈ کے 449 رنز کے جواب میں امام الحق کے 74 رنز، بابر اعظم کا رن آؤٹ زیرِ بحث

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنا لیے ہیں۔

اس وقت نیوزی لینڈ کو 295 رنز کی برتری حاصل ہے۔

کراچی میں کھیلے جا رہے اس ٹیسٹ کے دوسرے دن جب میچ کا آغاز ہوا تو نیوزی لینڈ نے اپنی بیٹنگ جاری رکھی اور کُل 449 رنز بنا کر کھانے کے وقفے کے کچھ دیر بعد اپنی اننگز مکمل کی۔

جب پاکستان نے اپنی اننگز کی شروعات کی تو اسے چائے کے وقفے تک دو وکٹوں کا نقصان ہو چکا تھا۔ پاکستان کی جانب سے امام الحق نے 74 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے جبکہ عبداللہ شفیق 19، شان مسعود 20، اور کپتان بابر اعظم 24 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔

اوپنر عبد اللہ شفیق میٹ ہینری کی گیند پر پُل کھیلنے کی کوشش میں سکویر لیگ پر کیچ دے بیٹھے جبکہ شان مسعود کٹ کھیلتے ہوئے اعجاز پٹیل کا شکار بنے۔

دوسری طرف نیوزی لینڈ کے خلاف محمد ابرار نے چار جبکہ نسیم شاہ اور آغا سلمان نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

آج بابر اعظم اور امام الحق کی شراکت کے دوران بابر اعظم کا رن آؤٹ ہونا بھی زیرِ بحث رہا۔ ٹوئٹر پر صارفین اس حوالے سے بحث کرتے دکھائی دیے کہ غلطی امام الحق کی تھی یا پھر بابر اعظم کی۔

کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد نے لکھا کہ بابر اعظم اپنے 47 ٹیسٹ میچز کے کریئر میں اب تک چھ مرتبہ رن آؤٹ ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ رن آؤٹ ہونے والے میانداد 17 برس میں آٹھ مرتبہ رن آؤٹ ہوئے۔

کئی لوگوں نے اس رن آؤٹ کو اپنے مبینہ دھوکے باز دوستوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دوست دوست نہ رہا۔ ‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ اُنھیں لگتا ہے کہ اگر امام کی جگہ رضوان ہوتے تو وہ خود آگے آ کر رن آؤٹ ہو جاتے لیکن اپنے کپتان کو کھیلنے دیتے کیونکہ رضوان کپتان کی اہمیت کو جانتے ہیں۔

طیبہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ معلوم ہے کہ غلطی ہوئی ہے اور اس کے لیے ہم سب نے امام الحق پر تنقید کی ہے مگر بہت ہو گیا کیونکہ اب یہ ذاتی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب ہماری ٹیم ہیں، ہمارے کھلاڑی ہیں، نفرت کرنی بند کریں۔

کھانے کے وقفے تک کا احوال: ہینری کا لاٹھی چارج

دوسرے روز کا آغاز نیوزی لینڈ نے چھ وکٹوں کے نقصان اور 309 کے سکور پر کیا۔

میر حمزہ نے پہلا اوور میڈن کرایا جس کے بعد اگلے ہی اوور میں نسیم شاہ نے اش سودھی اور ٹام بلنڈل کے درمیان 30 رنز کی شراکت توڑ دی جو گذشتہ روز کے اختتام تک پاکستان کے لیے مشکل کا باعث بن رہی تھی۔

یہ نسیم کی تیسری وکٹ تھی اور کین ولیمسن کی وکٹ کی طرح انھوں نے عمدہ آؤٹ سوئنگ ڈالی تھی جو سودھی کے بلے سے پاس سے گزر کر آف سٹمپ کی نوک سے ٹکرائی۔

سودھی کی جگہ ٹِم ساؤتھی کریز پر آئے جنھوں نے پچھلے میچ کے برعکس اس بار دفاعی حکمت عملی اپنائی اور پاکستانی بولرز کو تھکانے کی کوشش کی۔ انھوں نے بلنڈل کے ساتھ 31 رنز کی شراکت بنائی۔

ٹام بلنڈل 108 گیندوں پر 51 رنز بنا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب ابرار احمد کی کیرم بال بلے کے نیچے سے کھسک کر انھیں بولڈ کر گئی۔ یہ گیند کافی حد تک نیچے بیٹھی تھی اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی بلے بازوں کو بھی اپنی اننگز میں گیند کے ان ایون باؤنس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگلے اوور میں ابرار نے سلو لیگ سپن ڈالی جس پر ساؤتھی نے قدم بڑھا کر چھکا لگانا چاہا تاہم گیند کی اچھی سپن سے وہ چوک گئے اور اسی کے ساتھ وکٹ کیپر سرفراز نے انھیں سٹمپ کر دیا۔ ساؤتھی نے 37 گیندوں پر 10 رنز بنائے تھے۔

آخری کیوی بلے اعجاز پٹیل میٹ ہنری کے ساتھ کریز پر پہنچے۔ حسن علی کے اوور میں ہنری نے ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا جس سے نیوزی لینڈ کا سکور 350 سے آگے چلا گیا۔

ہنری کی بیٹنگ دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہر گیند ان کے بلے کے ٹھیک بیچ میں لگ رہی ہے۔ انھوں نے حسن کے بعد نسیم کے اوور میں بھی چھکا لگایا اور اعجاز پٹیل کے ساتھ ایک برق رفتار نصف سنچری شراکت مکمل کی۔

ہنری نے 42 گیندوں پر اپنے کیریئر کی پہلی نصف سنچری بھی مکمل کی جس میں چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

نیوزی لینڈ نے پہلے سیشن میں 124 رنز بنائے اور تین وکٹیں گنوائیں جس میں میٹ ہنری اور اعجاز پٹیل کے درمیان آخری وکٹ کی شراکت کے 88 رنز شامل ہیں۔

ابرار احمد پہلے چار ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستانی بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے اب تک 26 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس فہرست میں دانش کنیریا کی 25، شبیر احمد اور یاسر شاہ کی 23، 23 وکٹیں شامل ہیں۔

ابرار احمد کی کارکردگی اور ہنری کی اننگز سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کرتی رہی۔

صنان نے اپنی رائے دی کہ دانش کنیریا کی طرح وکٹیں لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر ’اس دوران وہ بہت زیادہ رنز دیتے ہیں۔ امید ہے شاہین کی واپسی سے یہ تبدیل ہو گا۔‘

جاکس نامی صارف نے کہا کہ کیوی بلے بازوں کی آخری وکٹ کی شراکت نے پاکستان کو کافی نقصان پہنچایا جبکہ فرحان نے تبصرہ کیا کہ ’حسن علی کی اچھی دھلائی ہو رہی ہے۔‘

حسین مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خراب بولنگ کے باعث آخری وکٹ کے لیے 50 رنز لیک کیے۔

گذشتہ روز آئس لینڈ کرکٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کی گئی تھی کہ کراچی کی فلیٹ وکٹ کسی روڈ کی طرح ہے جس پر ’ٹول ٹیکس‘ ہونا چاہیے۔ اسی طرح تنزیل نے کہا کہ ’مسئلہ پچ میں نہیں۔۔۔ پاکستان نے صبح جو برتری حاصل کی تھی، نیوزی لینڈ نے اسے حذف کر دیا۔‘

یاسر نے کہا کہ پاکستانی شائقین کو یہ امید تھی کہ نیوزی لینڈ کا سکور 350 رنز تک ہوگا مگر بلے بازوں کے لیے برتری لینا مشکل ہوگا۔ ’بات صرف پچ کی نہیں، یہ بھی اہم ہے کہ آپ کیسی بولنگ اور بیٹنگ کرتے ہو۔‘

ادھر فرشتہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’ولیمسن کے بجائے ہنری ہمیں ٹارچر کرنے آ گیا۔‘

عائشہ نے ردعمل دیا کہ ’میٹ ہنری کو 50 کراؤ شاباش، سب کو ہیرو بنانے کا ٹھیکہ ہم نے ہی تو لیا ہے۔‘

فاطمہ نامی صارف نے ہنری اور پٹیل کو فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کا میم تجویز کیا جس میں نوری نت کہتا ہے: ’بس کر سوہنیا، بس کر۔‘

جبکہ ایک انڈین صارف نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ٹیل اینڈرز کی وکٹیں لینے میں پاکستانی بولرز ہمارے انڈین بولرز کی کاپی کیوں کر رہے ہیں؟‘

کاشف منگول نے لکھا کہ ہم سیریز کی میزبانی کر رہے ہیں مگر نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اسی پچ پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی بیٹنگ ٹیم مشکلات کی شکار تھی۔