آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ہم پہلے گولی نہیں چلائیں گے‘: سابق انڈین آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کا اقتباس جسے پارلیمان میں پڑھنے سے روکا گیا
انڈیا کی پارلیمان میں ایک ایسی کتاب پر ہنگامہ کھڑا ہوا جو ابھی شائع بھی نہیں ہوئی ہے۔ لوک سبھا میں یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اپنی تقریر شروع کی۔
راہل گاندھی کا کہنا تھا: ’میں کچھ اقتباس پڑھنے سے اپنی بات کا آغاز کروں گا۔ یہ اقتباس انڈین فوج کے (سابق) سربراہ نروانے کی یادداشتوں سے ہے۔ میں چاہوں گا کہ آپ اچھے طریقے سے سنیں تاکہ آپ کو سمجھ آ سکے کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔‘
انڈین حزب اختلاف جس کتاب سے کچھ حصے پڑھ کر سنانا چاہتے تھے وہ انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مُکند نروانے نے ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی ہے مگر یہ اب تک شائع نہیں ہو سکی۔
اس کے کچھ حصے انڈیا کے جریدے کاروان میں شائع ہوئے جن میں سنہ 2020 کی چین انڈیا جھڑپوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لداخ کی وادی گلوان کے سبب ہونے والی ان جھڑپوں میں ایک کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
انڈیا نے چین پر وادی گلوان میں ہزاروں فوجی بھیجنے اور 14,700 مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا جبکہ چین کا الزام تھا کہ انڈیا وادی گلوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔
انڈین پارلیمان میں جھگڑا شروع کیسے ہوا؟
راہل گاندھی نے بتایا کہ کتاب کے جو اقتباس وہ پڑھنے جا رہے ہیں وہ ایک جریدے میں شائع کیے گئے ہیں۔
اُنھوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذوں سے پڑھتے ہوئے کہا: ’یہ اُس وقت کی بات ہے جب چار چینی ٹینک انڈیا کی حدود میں داخل ہو کر ڈوکلام کی ایک پہاڑی پر قبضہ کر رہے تھے۔ اس بارے میں آرمی چیف لکھتے ہیں کہ چینی ٹینک کیلاش رینج کی بھارتی چوکیوں سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے۔‘
ابھی راہل گاندھی نے یہاں تک ہی پڑھا تھا کہ انڈین پارلیمان میں ’نو سر، نو سر‘ کی آوازیں گونجنے لگیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر پارلیمانی امور نے راہل گاندھی کی گفتگو پر اعتراض کیا۔ ایک ہنگامہ آرائی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ جب یہ سب ہو رہا تھا اُس وقت انڈین وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔
راج ناتھ سنگھ نے پوچھا: ’راہل گاندھی پہلے یہ بتائیں کہ کیا کتاب شائع ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر کتاب شائع ہو گئی ہے تو اس کا اقتباس پڑھیں، اور اگر شائع نہیں ہوئی تو اقتباس پڑھنے کا کوئی مقصد نہیں۔‘
یہ ہنگامہ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہا جس کے بعد ایوان کی کارروائی معطل کر دی گئی۔
انڈین آرمی چیف کی مذکورہ کتاب کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے ایکس ہینڈل سے ایک پوسٹ بھی شیئر کی گئی جس میں راہل گاندھی کی پارلیمان میں تقریر کے دوران لی گئی تصویر ہے، ساتھ ہی جنرل منوج مُکند نروانے کی کتاب کا عکس ہے۔ پوسٹ میں لکھا ہے ’اس بُک میں کیا ہے جو مودی سرکار کو ڈر لگتا ہے۔‘ جریدے میں شائع تحریر کا پی ڈی ایف لنک بھی پوسٹ میں فراہم کیا گیا ہے۔
جنرل نروانے سنہ 2019 کے آخر میں انڈین فوج کے سربراہ بنائے گئے۔ اُس وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت مختلف معاملات پر تناؤ تھا۔ سنہ 2020 میں بھی وہی آرمی چیف تھے جب انڈیا چین کی سرحدی وادی گلوان وادی میں دونوں ملکوں کی جھڑپیں ہوئیں۔
اُن کی کتاب کا عنوان ہے ’فور سٹارز آف ڈیسٹنی‘ یعنی مقدر کے چار ستارے۔ لیکن ’فور سٹارز‘ ایک استعارہ بھی ہے کیونکہ عسکری اصطلاح میں جنرل کے عہدے کو بھی فور سٹارز کہا جاتا ہے۔
یہ کتاب لکھی تو جا چکی ہے لیکن ابھی شائع نہیں کی گئی۔
اس کتاب کے بارے میں انڈین میڈیا نے جنرل ریٹائرڈ نروانے کا اکتوبر 2025 میں دیا گیا بیان شائع کیا تھا۔ اس بیان میں سابق آرمی چیف کہتے ہیں کہ ’میرا کام تھا کہ کتاب لکھ کر ناشر کے حوالے کر دوں۔ وزارت دفاع سے (کتاب چھاپنے کی) اجازت لینا ناشر کی ذمہ داری تھی۔ ناشر نے کتاب وزارت دفاع کے حوالے کر دی اور وہ ابھی تک زیر جائزہ ہے۔ ایک سال سے اوپر کا عرصہ گزر گیا اور ابھی تک کتاب کا جائزہ ہی لیا جا رہا ہے۔‘
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی وزارت دفاع نے اس کے شائع ہونے کی اجازت تاحال نہیں دی ہے۔ آن لائن کتابیں فروخت کرنے والے ادارے ایمازون کی ویب سائٹ پر اس کتاب کا صفحہ بھی موجود ہے جس پر 31 مئی 2024 کی تاریخ درج ہے۔ لیکن اس صفحے پر لکھا ہے ’کتاب ابھی دستیاب نہیں۔‘
راہل گاندھی کو جو اقتباس پڑھنے سے روکا گیا، اس میں کیا لکھا ہے؟
کانگریس کی ایکس پوسٹ میں دیے گئے لنک پر کلک کریں تو کاروان جریدے پر شائع ہونے والی 39 صفحات کی ایک تحریر کھلتی ہے۔ انڈین جریدے کے مطابق تحریر میں جنرل منوج مُکند نروانے کی کتاب سے اقتباس شامل کیے گئے ہیں۔
تحریر کا عنوان ’نروانے کا سچ سامنے آنے کا وقت‘ ہے۔ ذیلی سرخی میں لکھا ہے ’ایک فوجی سربراہ کی غیر شائع شدہ یاد داشتیں ظاہر کرتی ہیں کہ چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو مودی حکومت نے اپنی مرضی کا رنگ کیسے دیا۔‘
تحریر کا آغاز اُس لمحے سے ہوتا ہے جب انڈیا کے آرمی چیف کو شمالی کمانڈر سے ایک کال موصول ہوئی کہ چینی ٹینک مشرقی لداخ میں پیش قدمی کر رہے تھے۔
راہل گاندھی نے پارلیمان میں تحریر کا اتنا حصہ ہی پڑھا تھا جب اُنھیں روک دیا گیا۔
جریدے کے مطابق آگے جنرل نروانے نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ چینی ٹینکوں کو انڈین فوج نے خبردار کیا، اس کے باوجود وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔
پروٹوکول کے مطابق جنرل نروانے کے لیے واضح احکامات یہ تھے کہ جب تک اعلیٰ سطح سے اجازت نہ ملے، فائر نہ کھولا جائے۔
انڈین آرمی چیف نے اپنے ملک کی قیادت سے رابطوں کی کوشش کی اور پوچھا کہ ’اُن کے لیے کیا حکم ہے؟‘
جریدے میں شائع شدہ حصے کے مطابق چینی ٹینکوں نے 31 اگست 2020 کی رات سوا آٹھ بجے مشرقی لداخ کے علاقے میں اپنی پیش قدمی شروع کی، اُنھیں روکنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ توپ خانے سے اُن پر گولے داغے جائیں۔ اس کے لیے تیاری بھی کر لی گئی تھی۔
مگر تحریر کے مطابق انڈیا کی اعلیٰ سطحی اجازت کے بغیر ایسا کیا نہیں جا سکتا تھا۔
رات سوا آٹھ بجے شروع ہونے والی چینی ٹینکوں کی پیش قدمی کے بعد اعلیٰ سطح قیادت سے رابطوں کی بار بار کوشش کی گئی، لیکن ’جواب تقریباً سوا دو گھنٹے بعد رات 10 بج کر 30 منٹ پر آیا۔‘
جنرل نروانے کے مطابق انھیں کہا گیا کہ ’جو مناسب سمجھیں، وہ کریں۔‘
جنرل نروانے کا ’پہلے گولی نہ چلانے کا فیصلہ‘
جریدے کے مطابق کتاب میں جنرل نروانے نے لکھا: ’مجھے ایک گرم آلو (مشکل معاملہ) تھما دیا گیا تھا۔ جواب دینے کا اختیار میرے حوالے ہونے کے بعد تمام ذمہ داری بھی مجھ پر آ گئی تھی۔‘
جریدے میں شائع تحریر کے مطابق جنرل نروانے کہتے ہیں کہ اُن کے ذہن میں سینکڑوں خیال آئے۔
’ملک کورونا کی لپیٹ میں تھا۔ معیشت لڑکھڑا رہی تھی۔ عالمی سپلائی چین ٹوٹ چکی تھیں۔ ایسی صورتحال میں اگر کارروائی نے طول کھینچا تو کیا ہم پرزہ جات وغیرہ کی مسلسل فراہمی یقینی بنا سکتے تھے؟ عالمی سطح پر ہمارے حمایتی کون تھے؟ اور چین اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ خطرے کا کیا ہو گا؟‘
جنرل نروانے کے مطابق اُنھوں نے نتیجہ نکالا کہ مطلوبہ وسائل موجود تھے۔ ’ہم ہر لحاظ سے تیار تھے لیکن کیا میں واقعی جنگ شروع کرنا چاہتا تھا؟‘
جریدے میں جنرل نروانے کے حوالے سے لکھا گیا: ’اس طرح کے کسی لمحے کے لیے تیاریاں جون سے ہی کر لی گئی تھیں۔ مطلوبہ سامان فراہم کر دیا گیا تھا، دستوں کو تربیت دے دی گئی تھی، لیکن یہ ہزاروں فوجیوں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ تھا۔‘
کاروان جریدے میں تحریر ہے کہ جنرل نروانے نے اپنے بقول یہ فیصلہ کیا تھا کہ ’ہم پہلے گولی نہیں چلائیں گے۔‘
اس کے بجائے جنرل نروانے نے شمالی کمانڈر جنرل جوشی سے کہا کہ وہ ٹینکوں کو ’دَرّے کی اگلی ڈھلوانوں تک‘ لے جائیں تاکہ اُن کی توپوں کا رخ سیدھا چینی فوج کے ٹینکوں کی طرف ہو۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اگر چین نے مزید پیش قدمی کی تو اُسے براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
جنرل نروانے کے خیال میں گولیاں چلائے بغیر چینی پیش قدمی کو روکنے کا یہی طریقہ تھا۔ یعنی فائر روکنے کا ارادہ رکھتے ہوئے یہ ظاہر کرنا کہ وہ لڑائی کے لیے تیار تھے۔
جریدے کے مطابق کتاب میں جنرل نروانے نے لکھا ہے کہ چینی ٹینک چند سو میٹر کی دوری پر پہنچ چکے تھے، لیکن وہ وہیں رُک گئے۔ ’ان کے ہلکے ٹینکوں کا ہمارے ٹینکوں سے کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔‘
کاروان جریدے میں جنرل نروانے سے منسوب جملہ درج ہے: ’یہ چال بازی کی جنگ تھی اور چینی فوج داؤ میں آ گئی۔‘
مزید لکھا ہے کہ اس سے بحران تو ختم نہ ہوا لیکن سب سے خطرناک مرحلہ گزر چکا تھا اور صورت حال ’سنبھال لی گئی تھی۔‘