’مجھے میری ماں سے پہلے مینو پاز ہوا، میرا ماں بننے کا خواب چھن گیا‘

ایما
    • مصنف, ڈیرڈری فنرٹی، ایلیس ویکر اور یزمینا گارسیا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ذرا تصور کریں کہ آپ اپنی نوعمری میں ہیں یا 20 کی دہائی میں۔ اور آپ کا مینوپاز یعنی اختتام حیض شروع ہو گیا ہے۔

یہ صرف ایما، سوئی میات اور ایلپیتھ کی قبل از وقت مینو پاز کی کہانی نہیں بلکہ ان میں اس حالت کی تشخیص کے بعد اس طویل سفر کا آغاز تھا جس میں انھوں نے زندگی میں وہ تجربات کرنے تھے جو خواتین بڑھتی عمر کے ساتھ کرتی ہیں اور جن کے بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔

یہ اگست 2013 کی صبح تھی جب ایک طبی اہلکار نے ایما ڈیلانے کی میڈیکل فائل دیکھتے ہوئے بتایا کہ وہ 25 سال کی عمر میں مینو پاز سے گزر رہی ہیں۔

ہسپتال کی سخت کرسی پر بیٹھی ایما سکتے میں آگئیں، ان کا دماغ گھوم رہا تھا۔ چند سال پہلے مانع حمل گولیاں ترک کے بعد سے انھیں ماہواری نہیں ہوئی تھی اور شاید اب کبھی نہیں ہوگی۔ اب وہ شاید قدرتی طور پر ماں بھی نہیں بن سکتیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نہیں جانتی تھی میں کیا ردعمل دوں۔ وہ بتا رہے تھے میرے بچے نہیں ہو سکتے۔‘

اس حالت کو پرائمری اویریئن اِن افیشینسی (پی او آئی) کہتے ہیں۔ اس میں 40 سال سے کم عمر میں مینو پاز ہوجاتا ہے۔

عموماً اس کی کوئی معلوم وجہ نہیں ہوتی اور ان خواتین میں 50 کی دہائی تک مینوپاز کی علامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

برطانیہ میں ہر 100 میں سے ایک عورت اس کا شکار ہے جبکہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مسئلہ آج بھی زیر بحث نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر نگہت عارف مینو پاز میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نوجوانی میں مینو پاز کے بارے میں کافی گفتگو نہیں ہوتی۔ عموماً آپ صرف ایک سفید بالوں والی بڑی عمر کی عورت کا تصور کرتے ہیں۔‘

ایما
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایما جیسی خواتین کو یہ پتا نہیں کہ ان کی اوریز (بیضہ دانی) کیوں ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔ لیکن پی او آئی خود کار قوت مدافعت، کروموسومز میں خرابی، یا بچے دانی یا بیضہ دانی کے آپریشن کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔

ایسی تشخص کے جسمانی نتائج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اثرات بھی کافی پریشان کن ہوتے ہیں۔ جب ڈاکٹر نے ایما کو یہ خبر سنائی، اس کے بعد وہ اپنی گاڑی میں تنہا بیٹھ کر ایک گھنٹے تک روتی رہیں۔

ایما مینو پاز کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جاتنی تھیں جتنا انھوں نے ایک سیلون میں بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے سنا تھا۔ ان کا مستقبل میں دو بچوں کی ماہ بننے کا خواب ان سے چھِن چکا تھا۔

اگلے چند ماہ تک ایما کی ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کی گئی۔ انھیں بتایا گیا کہ ان کی بیضہ دانی نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ ان کا جسم حیض کا سبب بننے والے اوسٹروجین اور پروجیسٹیرون نامی ہارمون نہیں بنا رہا۔ یہ عدم تناسب ان کی صحت کو برسوں سے متاثر کر رہا ہے۔

انھیں سمجھ آیا کہ چیزین بھول جانا یا الجھے ہوئے رہنا ان کی شخصیت کا حصہ نہیں تھا۔ جسم میں جلن گھنٹوں تک ہیئر ڈائز استعمال کرنے کی وجہ سے نہیں تھی، اور ان کی بے خواب راتوں کی وجہ انسومنیا بھی نہیں تھا۔ یہ ہارمونز کے عدم توازن کا ہی ایک اثر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ان کی اپنی ماں 40 کی دہائی کے اوائل میں تھیں اور ابھی تک مینوپاز تک نہیں پہنچی تھیں۔ ان کی سہیلیوں کے اپنے بچے ہورہے تھے۔ وہ کہتی ہیں ’ایسا لگا جیسے کوئی مجھے نہیں سمجھ پایا۔‘

ایما نے خود کو کام میں مصروف کرلیا اور اس تشخیص کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کو ملاقاتوں اور تفریح سے بھرنا شروع کیا۔ وہ اپنی اُن سہیلیوں سے بالکل متضاد بننا چاہتی تھیں جن کے پارٹنرز اور بچے ہیں۔

’میں نے شراب اور جنسی تعلقات کے ساتھ اپنے جسم کا استحصال کیا۔ مجھے احساس نہیں تھا کہ مجھے کسی سے اس کے بارے میں بات کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔‘

خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں قبل از وقت مینو پاز کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب ان کا دیگر سنگین مسائل کے لیے علاج شروع ہوتا ہے۔

سوئے

لندن میں گرافک ڈیزائن کی طالبہ سوئے میات کے لیے، مینو پاز کینسر کے علاج کے ایک غیر متوقع اثر کے طور پر آیا۔ اس سال کے شروع میں صرف 23 سال کی عمر میں، انھیں سٹیج تھری آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کے پیلوک حصے میں تابکاری نے بیضہ دانی کو نقصان پہنچایا لیکن اس وقت انھیں سمجھ نہیں آئی کہ اس کا کیا مطلب ہوگا۔

وہ کہتی ہیں ’وہ (ڈاکٹر اور نرسیں) صرف میرے کینسر کے علاج پر توجہ دے رہے تھے۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ مینوپاز کی وجہ کیا ہے‘

اس کی علامات جس میں اس کے کانوں میں گھنٹی بجنا، اضطراب، تھکاوٹ شامل تھی، اچانک سامنے آئیں، اور شدید تھیں۔ جب سوئے میات بڑی ہو رہی تھیں تو ماہواری، بانجھ پن، یا مینو پاز کے بارے میں بات چیت عام نہیں تھی۔

اس لیے انھوں نے یہ نہیں سیکھا تھا کہ کس چیز کی توقع کی جانی چاہیے۔ ان کی یونیورسٹی کے دوست کے مانع حمل ادویات اور طریقوں کے متعلق خدشات ان کے معاملے میں غیر متعلقہ ہو گئے تھے۔

’میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا تھا، میں نے ہمیشہ بوڑھا کہا جاتا تھا۔۔۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ کھو دیا۔‘

اگرچہ سوئے میات معالج سے اپنی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر سکتی تھی، لیکن ان کی میوپاز کی جسمانی علامات پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ کیموتھراپی کے تھکا دینے والے عمل اور سٹوما بیگ سے نمٹنے کے دوران انھیں اپنی علامات گوگل کر کے خود کو سپورٹ دینا پڑی۔

اگرچہ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (ایچ آر ٹی) مخصوص قسم کے کینسر والی خواتین کے لیے نامناسب ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک ایسی شکل تھی جو سوئے میات کے لیے محفوظ تھی اور جب انھوں نے اسے لینا شروع کیا تو ان کی علامات میں بہتری آئی۔

اس کے بعد سے چہل قدمی کرتی ہیں اور گرم مشروبات سے پرہیز کرتی ہیں۔ ’یہ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

ڈاکٹر نگہت عارف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان خواتین کے پیغامات سے بھرے پڑے ہیں جنہیں ایسے ہی تجربات ہوئے ہیں۔ وہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد میں مینو پاز کی ’باریکیوں کی بہتر سوجھ پوجھ ‘ کا تقاضا کرتی ہیں اور چاہتی ہے کہ ہر عمر کی خواتین اسے ’ممنوعہ‘ سمجھنا چھوڑ دیں۔

’براہ کرم اپنی زندگی میں موجود خواتین سے بات کریں۔۔۔ اپنی ماں، اپنی دادی، اپنی خالہ، اپنی کزنز، اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ یہ گفتگو کریں۔ اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، وہ کس حالت سے گزر رہی ہیں اس سے سیکھیں۔‘

ڈاکٹر نگہت عارف کا کہنا ہے کہ علامات کے بارے میں زیادہ آگاہی کی وجہ سے اب مزید خواتین میں پرائمری اویریئن اِن افیشینسی ( پی او آئی) کی تشخیص ہو رہی ہے، لیکن ابھی بھی تشخیص ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اور علاج نہ کیے جانے پر، پی او آئی کے خواتین کی ہڈیوں، دل اور دماغی صحت کے لیے طویل مدتی نتائج ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’کچھ مریض مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ شاید بچے پیدا کرنا چاہتے تھے اور یہ زندگی میں وہ انتخاب ختم کر دیتا ہے جو ان کے خیال میں وہ کر سکتے تھے۔‘

ڈاکٹر نگہت عارف پی او آئی کے نتیجے میں سامنے آنے والے ایسے مسائل پر بات بات کرتی ہیں جن پر دوسرے شاذ و نادر ہی بات کرتے ہیں، جیسے تکلیف دہ سیکس اور جنسی تعلق قائم کرنی کی خواہش میں کمی۔

ایلسپتھ

ایلسپتھ ولسن 23 سال کی ہیں وہ یہ ​​سب اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ ان میں پی او آئی کی تشخیص اس وقت ہوئی جب وہ صرف 15 سال کی تھی، جنسی تعلقات میں دشواری ایک رکاوٹ ہے جو انھوں نے اپنی پوری ڈیٹنگ کی زندگی میں گزاری ہے۔

وہ کہتی ہیں ’کسی کے ساتھ تعلق میں رہنا اور یہ ظاہر کرنا کہ آپ ان سے پیار کرتے ہیں، بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں جب آپ کا جسم اس پر راضی نہیں ہوتا، کچھ چیزیں تکلیف دہ ہوجاتی ہیں۔‘

’جو چیز مجھے مایوس کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ایک مسئلہ ہوسکتا ہے۔‘

ایلسپتھ نے نیو کیسل میں مارکیٹ ریسرچر کے طور پر یونیورسٹی کے بعد اپنی پہلی نوکری ابھی شروع کی ہے۔ اگرچہ وہ اپنے آجر کی تعریف کرتی ہیں کہ وہ بہت مہربان ہیں۔ تاہم پی او آئی کے ساتھ اس بڑی ذمہ داری کو لے کر چلنا مشکل ہو سکتا ہے۔

’یہ امپوسٹر سنڈروم (اپنی صلاحتیوں پر شک کرنے کی کیفیت) میں اضافہ کرتا ہے۔ میرے ایسے لمحات کا سامنا ہوگا جب میرے دماغ پر دھند پڑ جائے گی، اور یہ بالکل بدترین وقت پر ہو جائے گا۔‘

انھیں ایسی ہی صورتحال سے دوچار خواتین کے واٹس ایپ گروپ میں اطمینان ملا ہے۔ ان کے گروپ چیٹ میں، کچھ بھی حد سے باہر نہیں ہے۔

’ایک ایسی جگہ جہاں آپ اس کے بارے میں اس انداز میں بات کر سکیں جس پر آپ کو شرم نہ آئے، تو یہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔‘

سوئے میات نے کینسر کی وجہ سے مینو پاز کا شکار نوجوان خواتین کے لیے ایک آن لائن سپورٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

یہ ایک سبق ہے جو ایما نے بھی وقت کے ساتھ سیکھا ہے۔

ایما

کئی برسوں سے اپنی تشخیص کے درد کو روکنے کی کوشش کرنے کے بعد، ایما نے بالآخر اپنے تجربات کے بارے میں مزید کھل کر بات کرنا شروع کی۔ اس نے ایک کاؤنسلر کو اپنے جذبات کی وضاحت کرتے ہوئے شروعات کی، جس نے انھیں پہلے کی طرح محسوس کرنے میں مدد کی۔

’اس تشخیص سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں اب بھی میں تھی۔۔۔ میں اس تشخیص سے کہیں زیادہ تھی۔۔۔ یہ سیکھنے کا ایک بڑا سبق تھا۔‘

کچھ سال پہلے، ان کی ملاقات ایک ساتھی سے ہوئی جو اس کی حالت کو سمجھتا ہے اور اب وہ ایک ساتھ رہتے ہیں۔

انسٹاگرام پر، انھوں نے مینوپاز کے حوالے سے ہیش ٹیگز کو فالو کیا اور ڈیزی نیٹ ورک کا پتا چلا، جو پی او آئی والی خواتین کو معلومات اور مدد فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ پہلی بار، انھوں نے دوسرے لوگوں سے بات کی جو سمجھتے تھے کہ وہ کس وتحال سے گزر رہی ہیں۔

وہ اب 34 سال کی ہیں۔ وہ سوچتی ہیں کہ ان کے مستقبل میں بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بیضہ کا عطیہ اور آئی وی ایف بہت پریشان کن ہو گا۔ اس لیے وہ اگلے چند برسوں میں بچوں کی کفالت کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

ہر تھوڑے عرصے بعد وہ ایک کالی ٹی شرٹ پہن کر سیلون جاتی ہیں جس پر سرخ رنگ میں لکھا ہے ’مینوپاز معنی رکھتا ہے۔‘ اگرچہ یہ بلیچ کے داغوں سے ڈھک گیا ہے۔

وہ بیوٹیشن ہیں اور ان کے گاہک کہتے ہیں کہ وہ مینوپاز کے لیے بہت چھوٹی ہیں اور ان کے بال رنگتے ہوئے وہ اپنی صورت حال انھیں بتاتیں ہیں۔

’وہ مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے مینو پاز کے بارے میں ان 30 منٹوں میں زیادہ سیکھا ہے جو انھوں نے اپنی پوری زندگی کے مقابلے میں میرے ساتھ گزارے ہیں۔‘

’مجھے اس پر فخر ہوتا ہے کہ میں ہر عورت تک اپنی بات پہنچا رہی ہوں۔‘