شہزادہ رحیم الحسینی: اسماعیلی برادری کے 50ویں امام کون ہیں اور روحانی پیشوا کا تقرر کیسے کیا جاتا ہے؟

شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50واں روحانی پیشوا مقرر کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50واں امام مقرر کر دیا گیا ہے

شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50واں امام اور روحانی پیشوا مقرر کر دیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کی جانب سے جاری بیان میں اس تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50 واں امام مقرر کر دیا گیا ہے۔‘

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تقرری شہزادہ کریم آغا خان کی وصیت کے مطابق کی گئی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

یاد رہے کہ اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور دنیا بھر میں فلاحی کاموں کے لیے جانے جانے والے ارب پتی کریم آغا خان گذشتہ روز 88 برس کی عمر میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں وفات پا گئے تھے۔

شہزادہ کریم آغا خان تقریباً سات دہائیوں تک اسماعیلی شیعہ برادری کے امام رہے۔ اسماعیلی ایک مسلم فرقہ ہے جس کی دنیا بھر میں آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ ان میں پاکستان میں مقیم پانچ لاکھ سے زائد افراد بھی شامل ہیں جبکہ انڈیا، افغانستان اور افریقہ میں بھی اس فرقے کی بڑی آبادی موجود ہے۔

اس برادری کا ماننا ہے کہ اُن کے امام کا شجرۂ نسب براہ راست پیغمبرِ اسلام سے ملتا ہے تاہم اسماعیلی مسلمانوں کی امامت کا سلسلہ امام جعفر صادق (چھٹے امام) کے بعد شیعہ اثنا عشری مسلمانوں سے مختلف ہو جاتا ہے۔

شیعہ اثنا عشری جعفر صادق کے بعد اُن کے فرزند موسیٰ کاظم اور ان کی اولاد کی امامت کے قائل ہیں جبکہ اسماعیلی مسلمان جعفر صادق کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (جن کی وفات امام جعفر صادق ؑکی زندگی میں ہی ہو گئی تھی) کو اپنے ساتویں امام کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی اولاد کو سلسلہ وار اپنا امام مانتے ہیں۔

شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان کون ہیں؟

شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50ویں روحانی پیشوا مقرر کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہX/Aga Khan Development Network

،تصویر کا کیپشنشہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو اسماعیلی برادری کا 50واں روحانی پیشوا مقرر کر دیا گیا ہے

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان 12 اکتوبر 1971 کو پیدا ہوئے۔ وہ شہزادہ کریم آغا خان چہارم اور اُن کی اہلیہ شہزادی سلیمہ کے بڑے بیٹے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 1969 میں پرنس کریم آغا خان نے ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی جن کا اسلامی نام سلیمہ رکھا گیا تھا۔ سلیمہ سے شہزادہ کریم آغا خان کے تین بچے زہرہ آغا خان، رحیم آغا خان اور حسین آغا خان پیدا ہوئے۔ شادی کے 26 سال بعد سنہ 1995 میں پرنس کریم اور سلیمہ کے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔

شہزادہ رحیم آغا خان نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ شہزادہ رحیم آغا خان نے سابق امریکی فیشن ماڈل کینڈرا سپیئرز سے شادی کی، جن سے اُن کے دو بیٹے ہیں۔

شہزادہ رحیم کا اپنے والد کی جانب سے قائم کردہ فلاحی اداروں اور تنظیموں سے گہرا تعلق ہے۔

رحیم آغا خان

،تصویر کا ذریعہX/Aga Khan Development Network

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ شہزادہ کریم آغا خان نے منصب امامت سنبھالنے کے بعد آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا اور رفاحی کاموں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ ادارہ دنیا کے تقریباً 35 ممالک میں غربت اور انسانی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ذیلی اداروں میں آغا خان فاؤنڈیشن، آغا خان ہیلتھ سروسز، آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروسز، آغا خان اکنامک سروسز اور آغا خان ایجنسی فار مائیکرو فنانس شامل ہیں جن کی نگرانی شہزادہ کریم آغا خان خود کرتے تھے۔

آغا خان ڈویلمپنٹ نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق شہزادہ رحیم نیٹ ورک کی مختلف تنظمیوں کے بورڈز میں شامل ہیں اور اس وقت وہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ماحولیات اور موسمیاتی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق ’شہزادہ رحیم ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں نیٹ ورک کے اقدامات میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

آغا خان نیٹ ورک کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ان کی توجہ ’انتہائی غربت میں رہنے والوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام‘ کرنے پر بھی مرکوز ہے۔

اسماعیلی برادری میں امام کا تقرر کیسے کیا جاتا ہے؟

اسماعیلی برادری کی روایات کے مطابق ہر اسماعیلی امام اپنی زندگی کے دوران ہی اپنا جانشین یعنی اسماعیلی برادری کا اگلا امام نامزد کرتا ہے۔ اور نئے روحانی پیشوا کی تقرری امام کی وفات کے فوراً بعد ہی ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ کریم آغا خان کو اُن کے دادا سر سلطان محمد آغا خان سوم نے روایات کے برعکس وصیت میں اپنے بیٹے شہزادہ علی خان کی جگہ اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

سنہ 1957 میں آغا خان سوم کی وفات کے بعد کریم آغا خان نے 20 سال کی عمر میں اسماعیلی برادری کے روحانی سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ آغا خانی یا اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام تھے اور آغا خان چہارم کے لقب سے پہچانے گئے تھے۔

تاہم اسماعیلی برادری کے 50ویں امام شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان کی تقرری ان کے والد کریم آغا خان کی وصیت کے مطابق کی گئی ہے۔

اسماعیلی برادری کی ویب سائٹ کے مطابق ’یہ اعلان پانچ فروری 2025 کو لزبن میں کریم آغا خان کی وصیت کے بعد امام کے اہل خانہ اور سینیئر جماعتی رہنماؤں کی موجودگی میں کیا گیا۔‘