زیب النسا: مغل شہزادی جن کی ’خفیہ محبت‘ کے چرچے رہے مگر انھوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی

    • مصنف, وقار مصطفی
    • عہدہ, صحافی و محقق، لاہور

’دراز قد، جسم نازک اور سڈول، آفتابی چہرہ، خوش چشم، دراز سو، نازک اندام و شیریں لب، لباس سفید ،کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اپنی عمر میں کبھی ریشمی اور رنگین لباس پہنا ہو گا، صرف موتیوں کی مالا پہنتیں، تاہم تنگ مزاج اور مردہ دل نہ تھیں۔‘

’آزاد طبعی نے جس مذہب (مسلک) کی طرف رُخ کیا اُدھر ہی جھک گئیں۔ حضرت میاں میر کی مرید بھی ہو گئی تھیں، جن کا مزار لاہور چھاؤنی میں ہے۔‘

20ویں صدی کے اوائل کے شاعر اور محقق سیماب اکبر آبادی کی زبانی یہ مختصر سا تعارف مغل شہزادی زیب النسا کا ہے۔

زیب النسا فروری 1638 میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ بادشاہ اورنگزیب کی سب سے پہلی اولاد تھیں۔

سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن

ادیب اور افسانہ نگار زاہدہ حنا لکھتی ہیں کہ زیب النسا نے اپنے پردادا شہنشاہ اکبر جیسی بے مثال یادداشت پائی تھی۔ ’شاید یہی وجہ ہے کہ تین برس کی عمر میں انھیں قرآن کی متعدد آیات یاد ہو چکی تھیں۔ چار برس، چار ماہ اور چار دن کی عمر میں رسم بسم اللہ ہوئی اور انھیں حافظہ قرآن مریم کے سپرد کر دیا گیا۔ زیب النسا نے سات برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔ اورنگ زیب نے اس موقع پر ایک شاندار تقریب منعقد کی۔ حافظہ مریم کو 30 ہزار اشرفیاں بطور انعام دی گئیں اور غریبوں میں بڑے پیمانے پر روپے تقسیم کیے گئے۔‘

زیب النسا کی صَرف و نحو کی تعلیم کے لیے ملا جیون کو مقرر کیا گیا۔ مؤرخ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ زیب النسا نے عربی اور فارسی کی تعلیم نہایت اعلیٰ درجہ کی حاصل تھی اور بڑے بڑے علما و فضَلا ان کی خدمت میں رہتے تھے، لیکن اساتذہ میں سب سے مقرب اور باریاب ملا سعید اشرف ماژندرانی تھے، زیب النسا نظم و نثر میں اُن ہی سے اصلاح لیتی تھیں۔

زاہدہ حنا کے مطابق زیب النسا نے عربی میں بھی شعر کہے لیکن پھر فارسی کا دامن تھام لیا۔ فارسی مادری اور مغل دربار کی زبان تھی اور اس میں شعر کہنے کی مشق چھ برس کی عمر سے شروع کر دی تھی۔

زیب النسا نے 1652 سے 1657 تک کا بیشتر عرصہ اپنے والد کے ساتھ دکن میں گزرا جہاں وہ صوبے دار تھے۔

پادشاہ بیگم کا خطاب

اورنگ زیب مئی 1658 میں ہندوستان کے تخت پر بیٹھے تو اپنے بچوں کو دولت آباد سے دلی طلب کیا کہ وہ بھی جشن فتح میں شامل ہوں۔

زیب النسا اپنے شیر خوار بھائی اکبر کو سینے سے لگائے ہوئے مارچ 1659 میں دلی میں داخل ہوئیں۔ باپ نے ’پادشاہ بیگم‘ کا خطاب دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب وہ مغل سلطنت کی خاتونِ اول ہیں۔ اس سے پہلے یہ منصب ان کی پھوپھی شہزادی جہاں آرا کے پاس تھا ۔

’پادشاہ بیگم‘ کے منصب کے ساتھ انھیں وسیع جاگیر عطا ہوئی۔ اس کے علاوہ چار لاکھ روپے سال کا وظیفہ بھی ملتا تھا۔ وقتاً فوقتاً ہونے والی شاہی تقریبات میں والد کی طرف سے خطیر رقم تحفے کے طور پر بھی دی جاتی تھی۔

لیکن شہزادی زیب النسا کے خمیر میں غرور اور جاہ طلبی نام کو نہ تھی۔ خبر آئی کہ چچا دارا شکوہ اپنے بیٹے شہزادہ سپہر شکوہ کے ساتھ گرفتار ہوئے اور دونوں قتل کر دیے جائیں گے۔ یہ وہی سپہر شکوہ تھے جن سے جہاں آرا کی خواہش رہی کہ زیب النسا کی شادی کر دی جائے۔

جادو ناتھ سرکار نے لکھا ہے کہ زیب النسا کے دادا شاہ جہاں نے سپہر شکوہ سے زیب النسا کی منگنی کی تھی۔

حنا لکھتی ہیں ’اورنگ زیب نے دیوانِ حافظ کو لڑکوں کے لیے مدارس میں اور محلات میں بیگمات کے لیے ممنوع قرار دیا تھا لیکن زیب النسا پر یہ پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ اورنگ زیب کو شاعری اور وہ بھی شہزادیوں کی شاعری سخت ناپسند تھی۔ اس کے باوجود زیب النسا کو اورنگ زیب نے شعر کہنے سے روکنے کی کوشش نہ کی اور زیب النسا نے بھی باپ کے احترام میں اپنی شاعری کو پس پردہ رکھا۔ شاید ’مخفی‘ کا تخلص بھی اسی لیے اختیار کیا۔‘

مؤرخ جادو ناتھ سرکار کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب جیسے سخت گیر اور کٹر پنتھی شہنشاہ کی موجودگی میں شہزادی کی شخصیت کھلے ذہن کے شاعروں، عالموں اور دانشوروں کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی تھی۔

شبلی نعمانی کہتے ہیں کہ زیب النسا کے حسن مذاق سے بڑا نفع یہ ہوا کہ عالم گیر کی خشک مزاجی نے جو نقصان پہنچایا تھا اس کی تلافی ہوگئی۔

سنہ 1724 میں ان کی بکھری ہوئی اور موجودہ تحریروں کو ’دیوان مخفی‘ کے نام سے جمع کیا گیا جس میں 421 غزلیں اور کئی رباعیاں تھیں۔ اس کے بعد 1730 کے مخطوطہ میں دیگر غزلیں شامل کی گئیں۔

زیب النسا نے اپنی نگرانی میں اہل فن سے بہت سی عمدہ کتابیں تصنیف کرائیں۔ ان میں زیادہ قابل ذکر امام رازی کی ’تفسیر کبیر‘ کا ترجمہ ہے۔

دارا اور زیب النسا کی پھوپھیوں جہاں آرا اور روشن آرا نے انھیں صوفیا سے متعارف کرایا۔ یہ آگرہ اور دلی کے شب و روز تھے جہاں رقص وموسیقی کی محفلوں میں شرکت کی اور یہیں ان کے سامنے تصوف، شاعری اور میناطوری مصوری کے نئے اسرار آشکار ہوئے۔

فرانسیسی مستشرق خاتون اینی کری نیکی لکھتی ہیں کہ تصوف میں وہ فرید الدین عطار اورجلال الدین رومی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی تھیں۔ ’وہ حساب، جغرافیہ ، شہسواری، نیزہ بازی اور شمشیر زنی میں اپنے بھائیوں اور کسی بھی ہم عمر عم زاد سے کم نہ تھیں۔'

شادی نہیں کی

زیب النسا نے پوری زندگی شادی نہیں کی۔ ڈیبرا ہٹن لکھتی ہیں کہ زیب النسا نے شادی نہیں کی اور ساری زندگی کنواری رہیں، باوجود اس کے کہ رشتے بہت تھے۔ شادی نہ ہونے کی وجہ سے خفیہ محبت کے بارے میں قیاس آرائی پر مبنی محلاتی گپ شپ کو فروغ ملا۔

شبلی نعمانی اور بہت سے دیگر محققین کے مطابق زیب النسا کے متعلق متعدد جھوٹے قصے مشہور ہوگئے جن کو یورپین مصنفوں نے اور زیادہ آب و رنگ دیا ہے۔ ان میں سے ایک زیب النسا اور عاقل خاں رازی کے عشق کا ہے۔

اورنگ زیب زیب النسا کی نہایت عزت کرتے تھے۔ جب وہ کہیں باہر سے آتیں تو ان کے استقبال کے لیے شہزادوں کو بھیجتے۔ سفر و حضر میں ان کو ساتھ رکھتے تھے۔ کشمیر کے دشوار سفر میں بھی وہ ساتھ تھیں۔ کشمیر میں جا بجا خوشگوار اورخوش منظر چشموں میں سے ایک چشمہ، احول، زیب النسا کی جاگیر میں تھا۔

زیب النسا نے اس کے متصل ایک نہایت پر تکلف باغ اور شاہانہ عمارتیں تیار کرائی تھیں۔ چنانچہ عالم گیر جب کشمیر کے سفر کو گئے تو اس مقام پر ایک دن قیام کیا اور زیب النسا نے قاعدے کے موافق نذر پیش کی اور روپے نچھاور کیے۔ ابرک کا ایک بڑا خیمہ تیار کرایا تھا جو تمام تر شیشہ معلوم ہوتا تھا۔

بھائیوں سے محبت اور قید

زیب النسا بھائیوں سے نہایت محبت رکھتی تھیں۔ ’ماثرالامرا‘ میں لکھا ہے کہ جب بھائی اعظم شاہ سخت بیمار ہوئے تو زیب النسا نے تیمارداری اس محبت سے کی کہ تمام ایام مرض تک اس پرہیزی غذا کے سوا جو خود شہزادہ کھاتا تھا، کوئی اور غذا نہیں کھائی۔

محمد اکبر جس زمانے میں عالم گیر سے باغی ہو کر راجپوتوں سے مل گئے، اس زمانے میں بھی زیب النسا نے ان سے برادرانہ راہ و رسم اور خط لکھنا ترک نہ کیا۔

شبلی نعمانی کے مطابق راجپوتوں نے جب عام بغاوت کی اور عالم گیر نے ان کے دبانے کے لیے شہزادہ اکبر کو فوج دے کر جودھ پور کی طرف روانہ کیا تو راجپوتوں کے بہکانے سے شہزادہ خود باغی ہو گیا اور عالم گیر کے مقابلے کو بڑھا۔

’زیب النسا اور شہزادہ اکبر حقیقی بھائی بہن تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو خط بھی لکھتے تھے، یہ خطوط پکڑے گئے اور عالمگیر نے انتقام میں زیب النسا کی تنخواہ جو چار لاکھ سالانہ تھی بند کر دی، تمام مال و متاع ضبط کر لیا گیا اور قلعہ سلیم گڑھ میں رہنے کا حکم ہوا۔‘

 اُس وقت اُن کی عمر 43 سال تھی۔ وہ یتیم خانے، لنگر خانے جو زیب النسا کی داد و دہش سے چلتے تھے سب بند ہوئے۔ منوچی نے لکھا ہے کہ سب سے زیادہ صدمہ ان سینکڑوں لوگوں کو ہوا جو ہر سال شہزادی کے خرچ پر عازم مکہ ہوتے اور حج کرتے تھے۔

بعض کتابوں میں زیب النسا کی قید طویل ہونے اور قید ہی میں وفات کا لکھا گیا ہے۔

لیکن نعمانی لکھتے ہیں کہ ’معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد ان کی بے گناہی ثابت ہوئی اور عفو قصور کر دیا گیا (غلطی کی معافی دے دی گئی) کیونکہ جب حمیدہ بانو بیگم (والدہ روح اللہ خاں) نے انتقال کیا، تو رسم تعزیت ادا کرنے کے لیے عالمگیر نے زیب النسا کو روح اللہ کے گھر بھیجا۔ اسی سن میں جب شہزادہ کام بخش (عالمگیر کا سب سے چھوٹا بیٹا) کی شادی ہوئی تو تقریب کی رسمیں زیب النسا ہی کے محل میں ہوئیں اور عالمگیر کے حکم سے تمام ارکان دربار زیب النسا کی ڈیوڑھی تک پا پیادہ گئے۔‘

زیب النسا نے عالم گیر کی حکومت کے 48ویں سال دلی میں انتقال کیا۔عالمگیر اس زمانے میں دکن کی فتوحات میں مصروف تھے، یہ خبر سُن کر سخت غمزدہ ہوئے۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

مآثر عالمگیر میں لکھا ہے کہ ’معلوم ہوا کہ نواب تقدیس زیب النسا بیگم اللہ سے پیوست ہوگئیں۔ بادشاہ کا دل اس خبر سے بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ بے طاقتی کی وجہ سے بے قرار تھے۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بادشاہ نے سید امجد خان، شیخ عطااللہ، حافظ خان کو حکم دیا کہ وہ غریبوں میں شہزادی کے نام پر صدقات اور خیرات تقسیم کریں اور بیگم کا مقبرہ تیس ہزاری میں بنائیں جو ان کا متروکہ بھی ہے۔‘

زیب النسا کی تدفین کے بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ مولوی نور احمد چشتی (مصنف تحقیقات چشتی)، مرزا حیرت دہلوی، رائے بہادر کنہیا لال ہندی، شمس علماء خان بہادر اور سید محمد لطیف کے مطابق شہزادی کو لاہور میں دفن کیا گیا۔

مختلف تحقیقی حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیب النسا کی قبر لاہور میں نہیں سلیم گڑھ دلی میں تھی۔ مرزا سنگین بیگ نے اپنی کتاب ’سیر المنازل‘ میں لکھا کہ ’کابلی دروازے کے باہر شارع عام پر تکیہ بھولو شاہ کے شمال کی جانب زیب النسا کا مقبرہ اور لال پتھر کی مسجد ہے۔

سر سید احمد خان کی کتاب ’آثار الصنادید‘سے بھی زیب النسا کے مقبرے کی دلی میں موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے، تاہم 1875 میں راجپوتانہ ریلوے تعمیر ہوئی تو یہ مقبرہ مسمار کر دیا گیا۔ مزار کی مسماری کے بعد زیب النسا کی قبر کو آگرہ میں شہنشاہ اکبر کے مزار کے قریب منتقل کیا گیا تھا۔

سو زیب النسا کے مزارکی لاہور میں موجودگی تاریخی حوالوں سے ثابت نہیں ہوتی۔ لاہور کے علاقے نواں کوٹ میں ان کے نام سے منسوب مزار میں کوئی اور دفن ہے۔ مگر کون، یہ تحقیق طلب ہے۔

ہاں لاہور، زیب النسا سے جس تعلق کا دعویٰ یقین کے ساتھ کر سکتا ہے وہ یہاں موجود چوبرجی ہے جو اس باغ کا دروازہ تھا جو پھوپھی جہاں آرا کے بعد زیب النسا کو ملا تھا۔