آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مذاکرات کی شرط: ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟
پاکستان کی ثالثی میں گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات سے قبل سینیئر ایرانی رہنماؤں نے اپنے ملک کے ضبط شدہ اثاثوں کی بحالی کا پیشگی مطالبہ کیا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ ایرانی حکام یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ اس جنگ کے دوران ہونے والے ایران میں ہونے والی مادی نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے۔
منگل کے روز اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مختلف ممالک سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اگرچہ ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں تاہم اب تک امریکہ یا دیگر ممالک کی جانب سے ان پر کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔
تو پہلے ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ ایران نے اپنے نقصانات کا تخمینہ کیا لگا رکھا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ہرجانے کے معاملے کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔
روسی میڈیا سے گفتگو میں ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ 'ابتدائی اور محتاط اندازے کے مطابق اب تک ہونے والا نقصان تقریباً 270 ارب ڈالر بنتا ہے تاہم اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔‘
تسنیم کے مطابق روسی میڈیا سے گفتگو میں فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ 'ایرانی حکام نقصانات کے اس جائزے میں عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان اور صنعتی سرگرمیوں کی بندش سے ہونے والے مالی خسارے کا حساب بھی شامل ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فاطمہ مہاجرانی نے دعویٰ بھی کیا کہ ہرجانے کی ادائیگی کا معاملہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی زیرِ بحث آیا تھا۔ بی بی سی فاطمہ مہاجرانی کے اس دعوے کی آزادنہ تصدیق نہیں سکتا ہے۔
اور اگر بات کی جائے ایران کے منجمد اثاثوں کی، تو اس ضمن میں بی بی سی اُردو نے چند تفصیلات ایران کے نیم سرکاری اداروں، پریس ٹی وی اور بی بی سی نیوز میں شائع ہونے والی سابقہ رپورٹس سے یکجا کی ہیں۔
اثاثوں کا انجماد
سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد صدر جمی کارٹر کی جانب سے ایرانی اثاثوں کے انجماد سے لے کر آج 2026 تک، ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے مختلف شکلوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں منجمد ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، حالیہ جنگ بندی کے بعد منجمد اثاثوں کا معاملہ ایک بار پھر مذاکرات میں امریکی سنجیدگی کے لیے بنیادی امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق گذشتہ 47 برسوں کے دوران امریکہ ایران کی قومی دولت کے اربوں ڈالر روکے ہوئے ہے، جن میں تیل کی آمدن، مرکزی بینک کے ذخائر اور تجارتی اثاثے شامل ہیں۔ یہ اثاثے صدارتی احکامات کے ذریعے مختلف اوقات میں ضبط کیے گئے اور ’سیاسی دباؤ کے تحت‘ مسلسل منجمد رکھے گئے ہیں۔
ایرانی اثاثوں کے سب سے پہلے اور بڑے پیمانے پر انجماد کا فیصلہ 14 نومبر 1979 کو کیا گیا تھا، جب صدر جمی کارٹر نے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں امریکی بینکوں میں موجود تقریباً آٹھ ارب ڈالر مالیت کے ایرانی سرکاری اثاثے منجمد کر دیے گئے۔
یہ حکم صرف ایرانی حکومتی اکاؤنٹس تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں مرکزی بینک آف ایران اور وہ تمام ایرانی ادارے شامل تھے جو امریکی مالیاتی نظام سے وابستہ تھے۔
پریس ٹی وی کے مطابق اس فیصلے کے بعد بڑے امریکی اور بین الاقوامی بینکوں، سٹی بینک، چیس مین ہیٹن، بینک آف امریکہ، ایچ ایس بی سی، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، بی این پی پیریباس، ڈوئچے بینک، کومرز بینک، کریڈٹ سوئس اور بارکلیز، نے ایران کے ساتھ اپنے مالی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔
یہ معاشی پابندیاں بینکاری نظام تک محدود نہ رہیں بلکہ صنعتی اور توانائی کے شعبوں تک پھیل گئیں۔ شیل، ٹوٹل، ای این آئی، زیمنز، جنرل الیکٹرک اور بوئنگ جیسی عالمی کمپنیوں نے ایران میں اپنے منصوبے ترک کر دیے، جس کے نتیجے میں کئی منصوبے ادھورے رہ گئے اور ایرانی سرمایہ پھنسا رہ گیا۔
سنہ 1981 کے الجزائر معاہدوں کے تحت منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ ایران کو واپس کیا گیا، تاہم یہ بحالی نامکمل تھی اور سخت شرائط کے ساتھ کی گئی۔ ایران کو تقریباً 3.6 ارب ڈالر ملے، جو اصل منجمد شدہ رقم سے کم تھے۔ باقی رقم امریکی کمپنیوں اور شہریوں کی جانب سے دائر کردہ دعوؤں کی ادائیگی کے لیے روک لی گئی۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسی معاہدے کے تحت دی ہیگ میں ایران، امریکہ کلیمز ٹربیونل قائم کیا گیا، جو آج بھی دونوں ممالک کے درمیان مالی اور تجارتی تنازعات کی سماعت کر رہا ہے۔
جوہری معاہدہ اور پابندیوں میں مختصر نرمی کا دور
ایران کے منجمد اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں۔ تاہم مختلف ذرائع کے مطابق 1979 میں اثاثوں کے پہلے بڑے انجماد کی مالیت تقریباً آٹھ سے 11 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ (جے سی پی اور اے) طے پانے کے بعد 1979 کے بعد پہلی مرتبہ پابندیوں میں حقیقی نرمی کی امید پیدا ہوئی۔ اس موقع پر ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کے حجم کے بارے میں متعدد اور متضاد اندازے سامنے آئے۔
اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے ایک انٹرویو میں منجمد ایرانی اثاثوں کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر بتائی، تاہم بعد ازاں انھوں نے یہ تخمینہ کم کرتے ہوئے اسے 50 سے 60 ارب ڈالر کے قریب قرار دیا۔
اسی سال اگست 2015 میں اس وقت کے گورنر سنٹرل بینک آف ایران، ولی عاصف نے کہا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثے تقریباً 29 ارب ڈالر ہیں، جن میں سے 23 ارب ڈالر جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے مرکزی بینکوں میں رکھے گئے تھے، جبکہ تقریباً 6 ارب ڈالر انڈیا کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن پر مشتمل تھے۔
جوہری معاہدے کے تحت اثاثوں کی بحالی نمایاں مگر نامکمل ثابت ہوئی۔ ایران کو تقریباً 50 سے 60 ارب ڈالر تک کے منجمد فنڈز تک رسائی ملی، جو زیادہ تر ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھے گئے تھے، لیکن یہ ریلیف عارضی ثابت ہوا۔
مئی 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں، جن کے نتیجے میں وہ اثاثے بھی دوبارہ منجمد ہو گئے جو صرف تین سال پہلے بحال کیے گئے تھے۔
قطر: قیدیوں کا تبادلہ اور دوبارہ انجماد
ستمبر 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے نے ایک بار پھر منجمد ایرانی اثاثوں کے معاملے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا تھا۔
قطر کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت امریکہ نے اجازت دی کہ جنوبی کوریا کے بینکوں میں موجود ایران کی منجمد تیل آمدنی میں سے تقریباً چھ ارب ڈالر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم ’رسٹرکٹڈ اکاؤنٹس‘ میں منتقل کیے جائیں۔
یہ رقوم جنوبی کوریا کو ایران کے تیل کی فروخت سے حاصل ہوئیں تھیں، جو سنہ 2018 میں پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے سے پہلے جمع ہوئیں۔
ان فنڈز کو قطری بینکوں میں ایک سخت شرط کے ساتھ رکھا گیا: انھیں صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیا، جیسے خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، اور ہر ادائیگی کے لیے امریکی وزارتِ خزانہ کی منظوری لازم تھی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ رقوم کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔
بی بی سی نیوز کی 2023 کی ایک خبر کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کانگریس کو بتایا کہ یہ رقم ایران کو صرف ’محدود فائدہ‘ دے گی، کیونکہ اسے صرف انسانی بنیادوں پر تجارت کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ اس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت امریکہ میں زیرِ حراست پانچ ایرانی شہریوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
جب قطر کے امیر نے تہران میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی تو ایرانی رہبر اعلیٰ نے مطالبہ کیا تھا کہ قطر دوحہ میں رکھے گئے ایران کے چھ ارب ڈالر کے تیل محصولات جاری کرے۔
تاہم اکتوبر 2024 میں ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد صورتِحال ایک بار پھر بدل گئی۔ امریکہ نے قطر کو ہدایت کی کہ وہ ایران کی ان فنڈز تک رسائی روک دے، جس کے نتیجے میں چھ ارب ڈالر بدستور ناقابلِ رسائی رہے۔
حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کا اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں، کیونکہ برسوں سے امریکہ کے اقدامات کے باعث ایرانی فنڈز مختلف ممالک میں منجمد ہیں۔ ان کے مطابق، ایران نے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، جبکہ امریکہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اور اعتماد سازی کے لیے اسے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کے بلاک شدہ فنڈز کی بحالی ایک ناقابلِ گفت و شنید شرط ہے، اور اس کے بغیر کسی بھی مذاکرات سے کسی خاطر خواہ پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔