’طبّ، تعمیرات اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں کارکنان کی ضرورت‘: سپین تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت کیوں دے رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اتھواپلا ایمیریس
- عہدہ, بی بی سی منڈو
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایک ایسے وقت میں جب ترقی یافتہ دنیا بڑھتی ہوئی امیگریشن کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے سپین اس پالیسی کے خلاف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے پیڈرو سانشیز کی حکومت نے غیر متوقع طور پر اُن غیر دستاویزی تارکینِ وطن یا پناہ گزینوں کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا، جو ملک میں کم از کم پانچ ماہ اپنے قیام کا ثبوت دے سکیں اور جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔
اس حوالے سے حکمران سوشلسٹ پارٹی اور بائیں بازو کی پوڈیموس پارٹی ایک معاہدے پر پہنچی تھیں جسے بعد میں ملک کی انتظامی شاخ نے شاہی فرمان کے ذریعے منظور کیا، جس سے انھیں پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے کی اجازت مل گئی، جہاں سوشلسٹ پارٹی کے پاس اکثریت نہیں۔
یہ اقدام ایک ایسی تجویز سے سامنے آیا جس پر تقریباً 7 لاکھ افراد نے دستخط کیے تھے اور جسے مختلف سول سوسائٹی گروہوں، امیگریشن کی حامی تنظیموں سے لے کر کیتھولک چرچ تک کی حمایت حاصل تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سپین کی 4 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی میں سے 98 لاکھ سے زیادہ افراد کی پیدائش کسی دوسرے ملک میں ہوئی، جن میں 34 لاکھ وہ غیر ملکی بھی شامل ہیں جن کے پاس رہائشی اجازت نامے موجود ہیں۔
محتاط اندازوں کے مطابق اس وقت سپین میں 8 لاکھ 50 ہزار تارکینِ وطن آباد ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ، یعنی پانچ لاکھ سے زائد، اس نئی پالیسی کے تحت ملک میں قانونی حیثیت حاصل کر سکیں گے۔
یہ اقدام اوپن امیگریشن پالیسی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی امیگریشن پالیسی کو مزید سخت کر دیا۔
یورپ میں جرمنی نے ملک بدری اور گرفتاریوں کو آسان بنانے کے لیے قانونی اصلاحات منظور کی ہیں، فرانس نے تارکینِ وطن کے لیے سماجی فوائد کو محدود کیا اور بے دخلی کے عمل کو تیز کیا، اٹلی بھی تارکینِ وطن کی حوصلہ شکنی والے قوانین نافذ کر رہا ہے اور برطانیہ نے پناہ کے حصول تک رسائی کو سخت حد تک محدود کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سرحدوں کی بندش، گرفتاریوں اور ملک بدری کی جارحانہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ روایتی طور پر امیگریشن دوست سمجھے جانے والے ملک کینیڈا نے عارضی کارکنوں اور طلبہ کی آمد میں کمی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین کی معیشت
کم اجرت، بے روزگاری، قوت خریداری میں کمی اور رہائش کی قلت جیسے سنگین مسائل کے باوجود بھی سپین کی معیشت نے حالیہ برسوں میں مضبوطی اختیار کی۔
سپین نے حال ہی میں دنیا کی بارہویں بڑی معیشت کا درجہ دوبارہ حاصل کر لیا اور میکسیکو، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑ دیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق اس کا جی ڈی پی اب 2 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے۔
پونٹیفیکل یونیورسٹی آف کومیاس سے منسلک بین الاقوامی مائیگریشن میں پی ایچ ڈی کرنے والی سیسیلیا ایسٹرادا ویاسینیور کہتی ہیں کہ ’سپین کی معیشت میں طبّ، تعمیرات اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں کارکنان کی ضرورت ہے، جو براہِ راست امیگریشن یا تارکین وطن پر منحصر ہیں۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیسیلیا کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے سے قلیل مدت میں غیر رسمی معیشت میں کمی کے ذریعے روزگار کی باضابطہ شکل اور سرکاری آمدنی میں اضافہ ہو گا جبکہ کچھ عرصے بعد وہ ملک میں پینشن کے نظام کے زیادہ پائیدار ہونے کی پیشگوئی بھی کرتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’مالی اثرات کے حوالے سے ایلکانو رائل انسٹی ٹیوٹ، او ای سی ڈی اور یورپی کمیشن کے مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسطاً تارکینِ وطن سماجی خدمات سے جتنے فوائد حاصل کرتے ہیں، اس سے زیادہ ہی اس میں حصہ بھی ڈالتے ہیں۔‘
میڈرڈ کی کومپلوتینسے یونیورسٹی میں سماجیات کے اعزازی پروفیسر اور بین الاقوامی امیگریشن کے مطالعاتی گروپ کے شریک ڈائریکٹر جوآکین آرانگو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ غیر ملکی کارکنان کی طلب ’فرانس، اٹلی یا جرمنی میں بھی موجود ہے لیکن سپین وہ ملک ہے جو اس عدم توازن کو زیادہ پُرعزم طریقے سے حل کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’دیگر ممالک یہ کام چھوٹے پیمانے اور زیادہ خاموشی سے کر رہے ہیں: اٹلی غیر ملکی کارکنوں، حتیٰ کہ قانونی حیثیت نہ رکھنے والوں، کے لیے بھی کوٹا بڑھا رہا ہے مگر زیادہ پوشیدہ انداز میں۔ جرمنی تسلیم کرتا ہے کہ اس کی لیبر مارکیٹ میں تقریباً دس لاکھ افراد کی کمی ہے لیکن اسے رکاوٹوں کا سامنا ہے اور وہ فیصلہ کن رویہ اختیار نہیں کرتا۔‘
سپین نے سال 2025 کا اختتام 6 لاکھ 5 ہزار 400 نئی ملازمتوں کے ساتھ کیا اور اس دوران اس کے مختلف شعبوں میں 2 کروڑ 24 لاکھ 60 ہزار کارکنوں کی ریکارڈ تعداد کام کر رہی تھی۔ وہاں بے روزگار افراد کی تعداد میں 1 لاکھ 18 ہزار 400 کی کمی واقع ہوئی۔
رہائش اور بے روزگاری اب بھی مسئلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ 17 برس کی بہترین کارکردگی حاصل کرنے کے باوجود سپین میں اب بھی بے روزگاری کی شرح بلند ہے۔ یورپی یونین کی چھ فیصد اوسط کے مقابلے میں یہ شرح تقریباً 10 فیصد سے ذرا کم ہے۔ لہٰذا اس اقدام کے ناقدین کا ماننا ہے کہ لاکھوں افراد کو ملک میں جگہ دینا آسان نہیں ہو گا جتنا بظاہر لگتا ہے۔
سیفاس ڈیموگرافک آبزرویٹری کے کوآرڈینیٹر اور آبادیاتی تجزیہ کار الیخاندرو ماکارّون کہتے ہیں ’سپین میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور ایسے میں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اقدام ملک کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا، کیونکہ اس اقدام کے تحت ضرورت سے زیادہ امیگریشن کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔‘
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ امیگریشن کے حوالے سے کھلی پالیسی اور اس کے نتیجے میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ بھی صورتحال کو سنگین بنا دیتا ہے، متعدد سرویز کے مطابق ہسپانوی باشندوں کی سب سے بڑی تشویش رہائش تک رسائی کی کمی ہے۔
الیخاندرو ماکارّون کہتے ہیں کہ ’جو لوگ اپنے گھر کے مالک ہیں، جو اب بھی اکثریت میں ہیں، انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں ان کے گھروں کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جن پر اس کا اثر پڑتا ہے، یعنی نوجوان اور خود تارکینِ وطن، ان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘













