دوحہ کی چکا چوند سے دور پاکستان سمیت دیگر ممالک سے آئے مزدوروں کے شہر میں زندگی کیسی ہے؟

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
- مصنف, ہوزے کارلوس کیٹو
- عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ، قطر
قطر کے ’الجنوب سٹیڈیم‘ سے 20 کلومیٹر دور، ہزاروں تارکین وطن مزدور ایک بڑی سکرین پر فٹبال کا میچ دیکھ رہے ہیں۔ وہ اس سٹیڈیم (الجنوب) میں نہیں جا سکتے جسے انھوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور جہاں یہ فٹبال میچ جاری ہے۔
یہ قطر کے جدید دارالحکومت دوحہ کی چکا چوند سے دور اس ملک کے سب سے عام افراد ہیں جو اپنے مخصوص ’غریبوں کے فین زون‘ میں اکھٹے ہوئے ہیں۔
اس جگہ کو یہ نام انھوں نے خود ہی دیا ہے۔
یہ سکرین ایشیئن ٹاون کے کرکٹ سٹیڈیم میں نصب ہے جو دارالحکومت کے انڈسٹریل زون کا اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں قطر کے فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے آنے والے ہزاروں تارکین وطن مزدور رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
یہاں بیٹھے ایک شخص موسیٰ نے بتایا کہ ’میں یہاں غلاموں کی طرح جیتا اور کام کرتا ہوں تاکہ یوگینڈا میں موجود میرے چھوٹے بہن بھائی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں اور دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔‘
’ہم نے ایسے حالات میں کام کیا جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ درجہ حرارت زیادہ اور دن میں چودہ سے پندرہ گھنٹے تک کام۔ ‘ ’
تاہم یہاں موجود ہر شخص کی سوچ موسیٰ جیسی نہیں ہے۔
بہت سے لوگ قطر کے شکر گزار ہیں کہ اس ملک نے انھیں کام کرنے اور پیسہ کمانے کا موقع دیا۔ اُن میں انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر افریقی ممالک کے شہری شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک پاکستانی شہری جنھوں نے بی بی سی سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی، کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والے لوگ زیادہ ہیں مگر کام یا نوکری کے مواقع اور تنخواہ انتہائی کم ہے۔ ’قطر نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں نے قطر فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے جبکہ لیبر تنظیم کے مطابق کام کے دوران متعدد مزدوروں کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔
یوگینڈا سے تعلق رکھنے والے موسیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دو ساتھی کام کے دوران ہلاک ہوئے تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک گرمی سے متاثر ہو کر گِر گیا، اُس کی موت فوراً ہی ہو گئی تھی۔ ‘
قطر کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 2014 سے 2020 کے دوران 37 مزدوروں کی موت ہوئی تاہم ان میں سے صرف تین کام کے دوران ہلاک ہوئے۔
ایک حکومتی ترجمان نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ اصلاحات کے باعث قطر میں کام کے حالات میں بہتری لائی ہے جو مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک میں سب سے بہترین ہیں۔
’انڈسٹریل فین زون میں خوش آمدید‘
یہ جمعہ کی رات ہے اور یہاں موجود بیشتر افراد کے لیے ہفتے کے دوران کام سے واحد چھٹی کا دن بھی۔
ایک گروہ اس سٹیڈیم کے مرکزی دروازے کے قریب ناچ رہا ہے جہاں لگی سکرین پر فٹبال میچ دکھایا جانا ہے۔ قریب ہی ایک بینر پر یہ عبارت درج ہے: ’سب سے بہترین فیفا ورلڈ کپ کو ممکن بنانے میں آپ کی محنت کا شکریہ۔‘
سٹیڈیم کے اندر اور باہر بڑی سکرینیں نصب ہیں۔ کھانے پینے کے سٹال بھی سجے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہاں ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک خوشگوار ماحول میں فٹ بال ورلڈ کپ کے میچ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بس قطر کے دیگر علاقوں سے یہاں جو چیز بہت مختلف ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کوئی عورت نظر نہیں آتی۔
قطر کی 30 لاکھ آبادی کا 25 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے لیکن اس انڈسٹریل علاقے کے تین لاکھ دس ہزار مکینوں میں سے صرف 0.5 فیصد ہی خواتین ہیں۔
مردوں کی اکثریت کنسٹرکشن (تعمیراتی) اور دیگر ہیوی انڈسٹریز میں کام کرتی ہے۔
جن افراد سے ہماری بات ہوئی ان کے مطابق وہ ہفتے میں چھ دن روزانہ 12 گھنٹے کام کرتے ہیں جس کے عوض ان کو تقریباً ایک ہزار قطری ریال کی ماہانہ اجرت ملتی ہے۔
ان سے تنخواہ اور کام کے حالات کے بارے میں سوال کرنا مشکل ہے۔ اکثر لوگ ایک قہقہے سے جواب دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے ان کو کسی صحافی سے بات کرنے سے منع کر رکھا ہے۔
افریقی مزدوروں کے ایک گروہ نے کہا کہ ’ہم بات نہیں کر سکتے۔ ہم کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرنا چاہتے۔‘
جن لوگوں سے ہماری بات ہوئی، ان کے مطابق سب سے زیادہ تنخواہ تقریباً سات سو امریکی ڈالر تک ہوتی ہے لیکن اکثریت قطر کی جانب سے 2021 میں منظور کردہ تنخواہ ہی حاصل کرتے ہیں جو حکومت کی جانب سے طے شدہ کم از کم تنخواہ ہے۔
کچھ لوگوں کو شاید یہ بڑی رقم لگے لیکن یہاں موجود لوگوں کے مطابق ان کے پاس بچانے اور گھر والوں کو بھیجنے کے لیے کم ہی پیسے بچتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
یہ مزدور ملک کے کسی اور فین زون میں بھی نہیں جا سکتے ہیں کیوںکہ اس کے لیے ایک خصوصی کارڈ درکار ہوتا ہے جو صرف ان لوگوں کو جاری کیا جاتا ہے جنھوں نے 60 امریکی ڈالر مالیت کا ٹکٹ خریدا ہوتا ہے۔ یہاں موجود لوگ اتنی رقم کا ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اکثریت کے مطابق وہ اس علاقے سے کم ہی باہر نکلتے ہیں۔
گھانا کے شہری جون نے کہا کہ ’میں نے کسی میچ میں جانے کا نہیں سوچا۔ اس وقت تو مجھے لگتا ہے کہ میں کسی پنجرے میں بند ہوں، شاید کبھی میں کسی حد تک آزاد ہو جاؤں۔ لیکن یہ فین زون ہم غریبوں کے لیے ہے اور میں اس کے لیے قطر کا شکر گزار ہوں۔ مجھے یہ بہت پسند ہے۔‘
ایشیئن ٹاؤن
انڈسٹریل ایریا سوق واقف سے 15 کلومیٹر دوری پر ہے۔ دارالحکومت کے بیشتر علاقوں تک پہنچنے کے لیے تیس سے چالیس منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن یہاں پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔
ورلڈ کپ کے لیے خصوصی طور پر تیار ہونے والی سب وے بھی یہاں تک نہیں آتی۔
یہاں کی خاص بات ایشیئن ٹاون ہے جہاں شاپنگ سینٹر، دکانیں، سینیما، کرکٹ کا میدان اور ایک مزدوروں کا شہر آباد ہے جس میں 70 ہزار تارکین وطن رات گزارتے ہیں۔
قطر نے اس جگہ کا افتتاح 2015 میں اس وقت کیا تھا جب اسے کنسٹرکشن مزدوروں کے کام کے حالات پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہاں داخل ہونا منع ہے۔ چار میٹر اونچی باڑ پر کیمرے نصب ہیں۔ چاروں اطراف ہائی ویز ہیں۔ باہر ریت سودا کین، پلاسٹک کی بوتلوں اور چپس کے خالی پیکٹس سے اٹی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
یہ بھی پڑھیے
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ لیبر سٹی کے حالات برے ہیں، لیکن یہ شہر کی دیگر عمارات جیسا ہرگز نہیں۔
اندر مسجد بھی ہے اور جم بھی۔ زیادہ تر کمروں میں چار لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں لیکن موسیٰ کا دعوی ہے کہ کئی کمروں میں سولہ، سولہ لوگ بھی رہتے ہیں۔
اس عجیب سے شہر کے چند رہائشیوں نے ایک کرکٹ پارٹی کا اہتمام کر رکھا تھا۔
یہ ایک سستی تفریح ہے۔
ایک پاکستانی مزدور نے بتایا کہ ’کبھی کبھی ہم 10 گھنٹے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ہمیں کرکٹ سے پیار ہے۔ ‘
اسی جگہ پر ہمیں ایسے لوگ ملے جو اپنی زندگی سے مطمئن تھے۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
ایک نیپالی شہری نے بتایا کہ ’ہم جن کمپنیوں کے لیے کام کرتے ہیں وہ ہماری رہائش کا خرچ اٹھاتی ہیں اور ہمیں کھانے کے لیے الگ پیسے ملتے ہیں۔ لیبر سٹی میں ہسپتال بھی ہے اور سپر مارکیٹ بھی۔ ہم بہت شکر گزار ہیں۔‘
تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ نہیں کما پاتے۔
’چھٹی کے دن ہم یہاں سے باہر نہیں جاتے۔ قطر بہت مہنگا ہے اور ہم پیسہ ضائع نہیں کر سکتے۔ ہم نے اپنے گھر والوں کو پیسے بھجوانے ہوتے ہیں۔‘
کئی افراد نے صرف اس شرط پر بی بی سی سے بات کی کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔
’قطر پیسہ کمائیں اور گھر بھیجیں‘
گھانا سے تعلق رکھنے والے شہری جون کہتے ہیں کہ وہ چھ لوگوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’قطر میں پیسہ کما کر گھر بھجواتا ہوں۔ میں تو دس سال تک یہاں رہ سکتا ہوں لیکن میرا کنٹریکٹ دو سال کا ہے۔ مجھے قطر پسند ہے۔ بس جب پولیس نظر آتی ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ ان کے قریب جانا ہے یا دور بھاگنا ہے، اُن سے ڈر لگتا ہے۔‘
یہاں کے لوگ قطر کے علاوہ بھی دیگر بیرونی ممالک میں کام کر چکے ہیں جہاں حالات اس سے بھی بہت ابتر ہیں۔
موسیٰ کہتے ہیں کہ ’میرے جاننے والے سعودی عرب میں کام کرتے ہیں جن کے مالکان ان کو اپنے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔‘

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
قطر پہلا عرب ملک ہے جس نے کفالہ کے متنازع نظام کو ختم کیا ہے۔ کویت کے بعد کم از کم تنخواہ طے کرنے والا قطر دوسرا عرب ملک ہے۔
کفالہ کے نظام میں اگر کوئی ملازم نوکری بدلتا ہے تو اس کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ ان کے پاسپورٹ اکثر قبضے میں لے لیے جاتے ہیں تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے قطر کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کا اعتراف کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن مزدور اب بھی اپنے مالکان پر انحصار کرتے ہیں۔ ملک میں داخلے سے لے کر ملازمت حاصل کرنے تک جس کا مطلب ہے کہ مالکان کسی بھی وقت ان کا پرمٹ منسوخ کروا سکتے ہیں۔
2020 کی رپورٹ کے مطابق جب مالکان ملازمین کی دستاویزات مکمل نہیں کرواتے تو ان کا نقصان ہوتا ہے۔
گذشتہ سال انسانی حقوق تنظیم کے مطابق غیر ملکی افراد کو اب تک غیر قانونی طور پر تنخواہ میں کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی ماہ تک طویل اور مشقت طلب کام کی تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔
دوسری جانب قطر کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے غیر ضروری طور پر ایسے مسائل پر توجہ مرکوز کی جبکہ جن معاملات میں بہتری لائی گئی ان کو نظر انداز کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہJOSE CARLOS CUETO/BBC WORLD
انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ورلڈ کپ کام کرنے کے بہتر حالات اور حقوق کا باعث بنے گا۔
یہاں زیادہ تر افراد کو یہی امید تھی سوائے موسیٰ کے، جن کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی کمپنی کے لیے اتنا کام کرتے ہیں لیکن بدلے میں ہمیں بہت کم ملتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ میری نوکری بدل جائے۔ ‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ورلڈ کپ کے بعد کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔ میرا خیال ہے حالات زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ ‘













