قطر کرین حادثے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی: ’چھٹی ملنا مشکل ہے، فٹبال ورلڈ کپ کے بعد آنے کی کوشش کروں گا‘

رسم تعزیت
،تصویر کا کیپشنیوسف میاندار کی موت پر تعزیت کے لیے لوگ جمع ہوئے
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

کلیم اللہ کی والدہ ابھی تک سکتے کی حالت میں ہے۔ جوان بیٹے کی اچانک موت نے اُن کو بے حال کر دیا ہے۔ پورا علاقہ غم زدہ ہے۔ کلیم اللہ چند ماہ قبل چھٹیوں پر آئے تھے اور انھوں نے بتایا تھا کہ قطر ورلڈ کپ کے بعد وہ دوبارہ چھٹیوں پر آئیں گے۔

یہ قطر میں کرین حادثہ میں ہلاک ہونے والے صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل شبقدر کے رہائشی کلیم اللہ کے کزن محمد وقار کا کہنا ہے۔

محمد وقار بتاتے ہیں کہ دوحہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ضلع ہنگو کے رہائشی محمد جلیل کی لاش بھی جمعہ کے روز پاکستان لائی گئی۔ دونوں کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقوں میں جمعہ کو ادا کر کے ان کی تدفیق کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ کرین حادثہ میں تین پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے دو کی میتیں پاکستان لائی گئی ہیں جبکہ یوسف میاندار نامی شخص کی نماز جنازہ اور تدفین قطر ہی میں کی گئی ہے۔ ان کا تعلق ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے ہے۔

تینوں قطر میں گذشتہ کئی عرصے سے فائر فائٹرز کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فٹ بال ورلڈ کپ سے پہلے کسی بھی حادثے سے نمٹنے کی ریہرسل کی جا رہی تھی۔

حادثے کا شکار کرین

،تصویر کا ذریعہsocial media

حادثہ کیسے پیش آیا؟

قطر میں حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کرین کے حادثے میں تین پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام نے واقعہ کے بارے میں گذشتہ روز دوحہ میں میڈیا کو بتایا کہ حادثہ کیسے پیش آیا مگر اس بارے میں زیادہ تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

دوحہ حادثہ میں ہلاک ہونے والے ضلع ہنگو کے محمد جلیل کے کزن محمد خلیل کہتے ہیں کہ ’ہمیں دوحہ سے بتایا گیا ہے کہ حادثہ 26 اکتوبر کو اس وقت پیش آیا تھا جب فائر فائٹرز ایک کرین پر ریہرسل کررہے تھے۔‘

محمد خلیل کہتے ہیں کہ ’ہم تک پہچنے والی اطلاعات کے مطابق محمد جلیل سمیت دیگر دو پاکستانیوں سے پہلے دیگر فائر فائٹرز نے کرین پر سوار ہو کر کسی بھی حادثے سے نمٹنے کی کامیاب ریہرسل کی تھی۔ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں سے پہلے تقریباً تین تین افراد پر مشتمل چار کے دستے نے یہ ریہرسل کامیابی سے انجام دی تھی۔ ‘

محمد خلیل کہتے ہیں کہ ’جب ان تینوں کی ریہرسل کی نمبر آیا اور یہ اونچائی پر ریہرسل میں مصروف تھے تو اچانک کرین درمیان سے ٹوٹ گئی اور یہ تینوں بلندی سے نیچے گر کر ہلاک ہو گئے۔‘

یوسف میاندار، جن کی تدفین قطر ہی میں ہوئی ہے، کی آخری رسومات کل جمعہ کے روز قطر ہی میں ادا کی گئی، جس میں قطر کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

رسم میں شرکت کرنے والے ایک پاکستانی نے بی بی سی کو بتایا کہ تعزیت کے لیے آنے والے حکام نے یوسف میاندار کے لواحقین اور والد کو بتایا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں

’یہ ایک نا قابل یقین حادثہ ہے۔ کرین جو حادثہ کا شکار ہوئی ہے بالکل نئی تھی۔ اس کرین پر نہ صرف یہ کہ ریہرسل بھی کی جا رہی تھی بلکہ اس کی کارگردگی کو بھی جانچا جا رہا تھا۔‘

کلیم اللہ

،تصویر کا ذریعہMUHAMMAD WAQAR

،تصویر کا کیپشنکلیم اللہ ایک عرصے سے دوحہ میں کام کر رہے تھے

ہلاک ہونے والے پاکستانی کون تھے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یوسف میاندار کی عمر تقریبا 25 سال بتائی جا رہی ہے۔ ان کے سوگواروں میں بیوہ اور دو کم عمر بچے شامل ہیں۔ یوسف میاندار کے والد ملازمت کے سلسلے میں کئی سال پہلے قطر گئے تھے۔ یوسف میاندار کی پیدائش قطر ہی میں ہوئی تھی۔ ان کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔

محمد وقار کے مطابق تقریبا 34 سالہ کلیم اللہ 20 سال کی عمر سے قطر میں فائر فائڑ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور تین کم عمر بچے چھوڑے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی کی عمر چھ سال ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر تقریبا ایک سال ہے۔

کلیم اللہ کے والد گدشتہ سال فوت ہوگے تھے جبکہ ان کی والدہ حیات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

محمد خلیل کہتے ہیں کہ محمد جلیل گذشتہ کئی برسوں سے قطر میں فائر فائٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے سوگواروں میں پانچ کم عمر بچے جن میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑے ہیں۔

محمد خلیل کے والد بھی گذشتہ سال فوت ہو گئے تھے جبکہ ان کی والدہ حیات ہیں۔

محمد خلیل کہتے ہیں کہ ان کی موت نے سارے علاقے کو غم زدہ کررکھا ہے۔ بیوہ اور والدہ کی حالت غیر ہے۔ چند ماہ پہلے چھٹیوں پر آئے تھے تو کہتے تھے کہ دوبارہ آئیں گے۔

کلیم اللہ

،تصویر کا ذریعہMUHAMMAD WAQAR

’ورلڈ کپ کے بعد آنے کا کہا تھا‘

محمد وقار کہتے ہیں کہ ’کلیم اللہ ہر سال چھٹیوں پر آتے تھے۔ چند ماہ قبل بھی چھٹیوں پر آئے تھے۔ وہ سال میں ایک مرتبہ 40 دن کی چھٹیوں پر گھر آتے تھے۔ آخری مرتبہ آئے تو بتا رہے تھے کہ ورلڈ کپ کی تیاری زور وشور سے ہو رہی ہے جس میں اب ہر کوئی مصروف ہو گا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب ورلڈ کپ سے پہلے چھٹی ملنا مشکل ہے اور ورلڈ کپ کے بعد آنے کی کوشش کروں گا۔‘

محمد وقار کا کہنا تھا کہ کلیم اللہ جب آخری مرتبہ پاکستان آئے تھے تو انھوں نے زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارا تھا۔ اپنے بچوں کو انھوں نے تفریح بھی کروائی تھی۔ مختلف مقامات پر لے کر گے تھے۔ بچوں کے حوالے سے وہ بہت حساس تھے اور بچوں سے بہت پیار بھی کرتے تھے۔

محمد خلیل کہتے ہیں کہ ’محمد جلیل تقریباً دو ماہ پہلے چند دن کے لیے آئے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ورلڈ کپ کی وجہ سے بڑی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملی ہیں۔ ورلڈ کپ کے بعد زیادہ دنوں کے لیے پاکستان آئیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد جلیل بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بہت فکر مند رہتے تھے۔ اکثر کہتے تھے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ بچوں کے قریب رہ سکیں اور بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکیں جس کے لیے وہ ہر ممکنہ اقدامات کرتے تھے۔

فیفا ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفیفا ورلڈ کپ دوحہ قطر میں منعقد ہو رہا ہے

’والدہ کے بارے میں فکر مند رہتے تھے‘

محمد وقار کہتے ہیں کہ کلیم اللہ کے والد تقریباً ایک سال پہلے وفات پا گئے تھے۔ ان کے والد بھی قطر میں ملازمت کرتے رہے تھے اورکافی عرصے سے ریٹائر ہونے کے بعد آبائی علاقے میں رہتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد جب کلیم اللہ آخری مرتبہ پاکستان آئے تھے تو والدہ کے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے والدہ کی بہت دلجوئی کی تھی۔ والدہ کو تسلی دی تھی اور کچھ ایسا سوچ رہے تھے کہ وہ کسی طرح والدہ کے قریب ہی رہیں اس کے لیے انھیں ورلڈ کپ کے ختم ہونے کا انتظار تھا مگر اس سے پہلے ہی اجل نے آ لیا۔ اس وقت ان کی والدہ سکتے کی سی حالت میں ہے۔

محمد خلیل کہتے ہیں ’محمد جلیل کی والدہ کی حالت غیر ہوچکی ہے۔ انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بیوہ کی حالت بھی غیر ہے۔ وہ لوگ تو اس انتظار میں تھے کہ ورلڈ کپ کے بعد وہ دوبارہ آئیں گے۔‘