آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: کیرالہ کا نوجوان جسے اپنے دانتوں کی وجہ سے سرکاری نوکری نہ مل سکی
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک قبائلی نوجوان نے الزام لگایا ہے کہ سٹیٹ پبلک سروس کمیشن (پی اے سی) نے انھیں اس لیے نوکری دینے سے انکار کر دیا کہ ان کے دانت خراب ہیں۔
پالاکڈ ضلع کے رہنے والے وی موٹھو نامی اس شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ محکمہ جنگلات میں ’بیٹ آفیسر‘ کے عہدے کے لیے تحریری امتحان اور جسمانی تندرستی کی جانچ کا مرحلہ پاس کر چکے تھے لیکن جب انھیں انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا تو انھوں نے پی ایس سی کے ضلعی دفتر سے دریافت کیا۔
موٹھو نے اخبار ’نیو انڈین ایکسپریس‘کو بتایا کہ ’پی اے سی والوں نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میرے دانت آگے کی طرف نکلے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے، قانون کی بنا پر، وہ مجھے اس عہدے کے لیے مقرر نہیں کر سکتے۔‘
افسران نے انھیں مزید بتایا کہ ’اگر (ریاستی دارالحکومت) تروننت پورم کے دفتر سے میری فائل پاس ہو جائے، تب وہ مجھے اس پوسٹ پر مقرر کریں گے۔‘
ادھر ریاستی وزرا نے اس معاملے میں ضروری کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔
کئی برس پرانے قوانین مگر ایک ڈاکٹر کی دانت ٹھیک کرنے کی پیشکش
موٹھو کرومبا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے قبائلیوں کے لیے مخصوص سیٹ پر نوکری کی درخواست دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ان قبائلی لوگوں کے لیے محفوظ نسشتیں ہیں جو زندگی گزارنے کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ موٹھو شہر سے تقریبا 15 کلو میٹر دور جنگل میں رہتے ہیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان کے والدین نے بتایا کہ ان کے دانت بچپن میں گرنے کی وجہ سے خراب ہوئے تھے لیکن کمزور مالی حالت کی وجہ سے وہ اسے ٹھیک نہیں کرا سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دانتوں کو ٹھیک کرانے میں کم از کم 18000 روپے درکار ہیں اور غریب ہونے کی وجہ سے یہ رقم جمع کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔
کیرالہ پی اے سی کے اس فیصلے کے خلاف غم و غصے کے بعد پسماندہ طبقے کی بہبود اور نوجوانوں کے امور کے وزیر کے رادھا کرشنن اور وزیر جنگلات اے کے سسیندرن نے اس معاملے میں ضروری کارروائی کرنے کا یقین دلایا ہے۔
کیرالہ سٹیٹ شیڈیولڈ کاسٹ اینڈ شیڈیول ٹرائب کمیشن نے، جو قبائلی لوگوں کی فلاح بہبود کے لیے کام کرتی ہے، خبروں کی بنیاد پر خود ایک کیس درج کیا ہے۔
کمیشن نے محکمہ جنگلات کے پرنسپل سکریٹری اور کیرالہ پی ایس سی سے ایک ہفتہ کے اندر اس معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے پسماندہ طبقے کی بہبود اور نوجوانوں کے امور کے وزیر کے رادھا کرشنن نے کہا کہ حکومت کے لیے قانونی اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔
انھوں نے مزید کہا ’چپٹے پاؤں، سوجی ہوئی نسیں، ٹیڑھی ٹانگیں اور نکلے ہوئے دانت جیسے حالات کی وجہ سے درخواست کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ یہ قوانین کئی برسوں سے موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق وردی والے اہلکاروں کی تمام پوسٹنگ کے لیے کم از کم ایک اسسٹنٹ سرجن کے درجے کے ڈاکٹر کے ذریعے بنایا ہوا میڈیکل سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ موٹھو کے دانت نکلے ہوئے ہیں، اس لیے پی اے سی اس درخواست کو مسترد کرنے کے علاوہ بہت کچھ نہیں کر سکتا۔‘
’کمیشن کو قانونی حیثیت پر مبنی مؤقف اختیار کرنا ہوگا نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔ جب تک ان خصوصی قوانین میں ترمیم نہیں کی جاتی، پی اے سی اس معاملے میں بہت کچھ نہیں کر سکتا۔‘
ملیالم زبان کے اخبار ماتربھومی کی رپورٹ کے مطابق مقامی رکن اسمبلی شمس الدین نے پی ایس سی کے ذریعے نوکری نہ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔
موٹھو کو نوکری دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کوئی خوبصورتی کا مقابلہ تو نہیں چل رہا۔ اس معاملے پر پی ایس سی اور حکومت سے بات کی جائے گی۔‘
دریں اثنا، مٹھو کی کہانی سننے کے بعد ایک مقامی نجی ہسپتال اور ایک ڈاکٹر نے ان کے دانتوں کو ’درست‘ کرنے کی پیشکش کی ہے۔