انڈیا کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی یاسین ملک کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کی جانب سے کالعدم اور علیحدگی پسند قرار دی گئی جماعت ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ کے رہنما یاسین ملک کو گذشتہ برس انڈین عدالت نے انڈیا مخالف مسلح گروپوں کی فنڈنگ میں ملوث قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی تاہم اس معاملے کی تفتیش کرنے والی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اب دلی کی عدالت میں یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی اپیل کی ہے۔
عدالت میں جمع کروائی گئی اپنی مختصر اپیل میں نینشل انوسٹیگیشن ایجنسی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انڈیا مخالف مسلح گروپوں کی فنڈنگ کے کیس میں یاسین ملک کو سُنائی گئی سزا (دو بار عمر قید) ناکافی ہے، جسے بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کی اس درخواست پر یاسین ملک کو ایک ماہ کے اندر ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔
اسی کے ساتھ ہی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی نے 36 برس قبل ایک کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں بھی دوبارہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تفتیش کے سلسلے میں ایجنسی کے اہلکاروں نے گذشتہ دنوں سرینگر میں یاسین ملک کی رہائش گاہ اور دیگر آٹھ ایسے مقامات پر چھاپے مارے گئے جو مبینہ طور پر ماضی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں موجود یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اُن کے شوہر کو پھانسی دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یاسین ملک کو نہ توعدالت میں پیش کیا جاتا ہے نہ دیگر قانونی حقوق دیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کی حمیرا کنول سے گفتگو میں مشعال ملک نے بتایا کہ ’میری یاسین سے 22 فروری 2019 کی بعد کبھی بات نہیں ہوئی، اور پہلگام حملے کے بعد سے یاسین ملک کا اُن کی والدہ اور بہن سے بھی رابطہ نہیں ہو پایا۔‘
انھوں نے کہا کہ یاسین ملک پر سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں۔
’اب عدالت نے یاسین ملک کو ایک ماہ کے اندر اندر نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کی اپیل پر ردعمل دینے کو کہا ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ ایسا ہو پائے گا یا نہیں۔ امکان یہی ہے کہ انھیں پھانسی دے دی جائے گی کیونکہ یہ سیاسی کیسز ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اُن کا الزام ہے کہ یسین ملک کو آن لائن سماعت کے دوران بھی مکمل طور پر نہیں سُنا جاتا اور اُن کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔
’جموں کورٹ نے یاسین ملک کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم سکیورٹی کا بہانہ بنا کر انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔، انھیں قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں۔‘
انڈین حکام نے سنہ 1990 کے ایک اور کیس پر بھی دوبارہ تفتیش کا آغاز کیا ہے، یہ وہ کیس ہے جس میں ماضی یاسین ملک کو بارہا قید اور رہا کیا جاتا رہا ہے۔
یاسین ملک پر الزام ہے کہ انھوں نے 1990 میں انڈین فضائیہ کے اہلکاروں پر اُس وقت فائرنگ کی تھی جب وہ سرینگر کے مضافاتی علاقے راولپورہ میں بس کا انتظار کر رہے تھے۔ اس واقعے میں چار اہلکار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
اس حملے کی تفتیش انڈین نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی نے کی اور حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ ’25 جنوری 1990 کی صبح موٹرسائکل پر سوار جن تین افراد نے ایئرفورس کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی، اُن میں لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک، جاوید میر اور مشتاق لون شامل تھے۔‘
اس رپورٹ کے مطابق اس حملے کی منصوبہ سازی میں لبریشن فرنٹ کے پانچ دیگر کارکن بھی شامل تھے۔
یاسین سمیت سمیت ان آٹھوں افراد کو گذشتہ تین دہائیوں کے دوران کئی مرتبہ قید میں رکھا گیا، تاہم ٹھوس شواہد نہ ملنے کے باعث انھیں ہر بار رہا کر دیا گیا۔ تاہم اب یہ معاملہ دوبارہ زیر تفتیش ہے۔
یاسین ملک کو عمرقید کی سزا کیوں ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2017 میں کشمیر میں کئی علیٰحدگی پسند رہنماوٴں کو ’دہشت گردی کی فنڈنگ اور انڈیا مخالف مظاہرے کروانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے چند ماہ بعد، مارچ 2020 میں مودی حکومت نے یاسین ملک کے خلاف اسی الزام کے تحت نیا مقدمہ دائر کیا۔
اس کیس کی سماعت انڈین سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں یاسین ملک نے ان الزامات کو چیلنج کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد عدالت نے انھیں 26 مئی 2022 کو عمرقید کی سزا سنا دی۔
انڈیا کے معروف صحافی اور کشمیر سے متعلق منموہن سنگھ حکومت کے مذاکرات کار پریم شنکر جاہ کہتے ہیں کہ ’یاسین ملک کے انکار نے مودی حکومت کو اس کیس سے متعلق اپنی تشہیر کا موقع ہی نہیں دیا اور بعد میں حکومت کے سالسٹر جنرل تُشار مہتا نے عدالت میں یاسین کو پھانسی دینے کی سفارش کر دی۔‘
نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کی طرف سے یاسین ملک کو پھانسی دینے کے تازہ مطالبے اور سرلا بھٹ قتل کی دوبارہ تفتیش پر سوشل میڈیا میں بعض کشمیری پنڈتوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
صحافی آدتیہ راج کول نے ایکس پر لکھا کہ ’انڈین حکومت کو 1990 میں کشمیری ہندووٴں کے قتل عام سے متعلق انکوائری کمیشن قائم کرکے فوری انصاف کے لیے یاسین ملک جیسے اسلامی دہشت گردوں کو پھانسی پر چڑھانا چاہیے۔‘
یاسین ملک کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہMISHAL MALIK
61 سالہ یاسین ملک سرینگر کے مرکزی علاقہ مائی سوما میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اُن درجنوں نوجوانوں میں شامل تھے جنھوں نے 1987 میں نیشنل کانفرنس کے خلاف بنے مسلم متحدہ محاذ کے تحت انتخابی مہم چلائی۔
ان انتخابات میں بے پناہ دھاندلیوں کے خلاف انھوں نے مظاہرے بھی کیے اور گرفتار ہوئے۔
چند سال بعد ہی جب بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان ایل او سی عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تربیت میں شامل ہوئے تو یاسین بھی سرحد پار سے تربیت لے کر آئے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شامل ہو گئے۔ وہ جلد ہی فرنٹ کے کمانڈر بن گئے۔
انھوں نے سنہ 1994 میں یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کر کے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر غیرمسلح سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا اور عہد کیا کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کشمیریوں کی شمولیت کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں کریں گے۔
یاسین ملک نے سنہ 2007 میں کشمیر کے ہزاروں قصبوں کا دورہ کیا اور ’سفرِ آزادی‘ کی مہم کے دوران نوجوانوں سے اپیل کی کہ پُرامن سیاسی جدوجہد ہی کشمیر کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔
وہ بعد میں اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے نئی دلی میں ملے اور انھیں ’سفر آزادی‘ کی ریکارڈنگ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیری امن چاہتے ہیں، وہ مذاکرات میں کردار چاہتے ہیں، کشمیر تشدد سے عدم تشدد کی طرف آیا ہے، اس کے احترام میں زیادتیاں بند ہونی چاہیے اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔‘
یاسین ملک کی شادی پاکستانی شہری مشال ملک سے ہوئی ہے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ تاہم مشال ملک کو کئی برسوں سے انڈین حکومت کشمیر آنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
دو سال قبل جب یاسین ملک نے تہاڑ جیل میں طبّی سہولیات کے فقدان کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تو مشال ملک نے کانگریس کے رہنما راہُل گاندھی کو ایک خط لکھا جس میں اُن سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی گئی تھی۔
تاہم انڈین حکومت نے انڈیا میں مشال حسین ملک کا ایکس اکاوٴنٹ بلاک کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ انڈین حکومت نے اب تک دو کشمیری عسکریت پسندوں کو پھانسی کی سزا دے چکی ہے۔
1984 میں لبریشن فرنٹ کے بانی مقبول بٹ کو ایک انٹیلجنس افسر کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ 2009 میں افضل گورو کو پھانسی دی گئی۔ دونوں تہاڑ جیل کے احاطے میں ہی دفن ہیں۔
یاد رہے کہ یاسین ملک بھی اس وقت دلی کی تہاڑ جیل ہی میں قید ہیں۔











