’نام نہاد غیرت کسی صوبے یا طبقے کا نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
اب سے 30، 40 برس پہلے تک اُردو اخبارات کے بیک پیج یا اندرونی صفحات میں ہر پندرہ دن مہینے میں کسی نہ کسی گھر میں سٹوو (چولہا) پھٹنے کا واقعہ ہو جاتا تھا۔ اس حادثے میں عموماً وہ عورت مرتی تھی جو سسرال کی خواہشات سے کم جہیز لائی ہو۔
یا پھر چولہے کے قریب کھڑی کسی ایسی عورت کے کپڑوں میں اچانک آگ لگ جاتی تھیجس کے بچے نہ ہوں ہو یا اپنے شوہر کو دوسری شادی سے باز رکھنے کے لیے ساس، نندوں، سسر وغیرہ کے لیے چلتا پھرتا مسئلہ بن جائے۔
چولہا پھٹنے سے کبھی کسی مرد کے جھلسنے کی خبر پڑھنے کو نہ ملی۔ پولیس بھی ایسے ’حادثات‘ کو ناگہانی سمجھ کے داخلِ دفتر کر دیتی تھی۔
میں نے پہلی بار کاروکاری (سیاہ کاری) کی اصطلاح 1990 کے عشرے میں سُنی جب انگریزی جریدے ’نیوز لائن‘ میں اِس موضوع پر نفیسہ شاہ کی مفصل تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی۔ اِس تحقیق اور پھر بعد میں شائع ہونے والی صحافتی رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے قبرستان بھی ہیں جہاں جرگے، خاندان، بھائیوں، والدین یا شوہر کی جانب سے کاری قرار دی جانے والی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورتوں یا بلا اجازت شادی کرنے والیوں کو خاموشی سے مار کے بے نشان گاڑ دیا جاتا ہے۔
جبکہ کارا (سیاہ کار) عموماً گرفت میں نہیں آتا۔ آ بھی جائے تو خاندانی بزرگ یا جرگہ اس پر بھاری جرمانہ عائد کر کے صلح صفائی کروا دیتا ہے۔ یا پھر وہ شخص علاقہ ہی چھوڑ جاتا ہے۔ کاریاں اس لیے زیادہ ماری جاتی ہیں کہ ان کے ساتھ محض عزت اور نام نہاد غیرت کا مقامی و خاندانی تصور وابستہ ہوتا ہے جبکہ کارے کے ساتھ نسب اور خاندان کی معیشت جڑی ہے۔
تاثر یہ دیا جاتا ہے جیسے قتل کی واردات عالمِ طیش میں یا فوری جذبات میں بہہ جانے کا نتیجہ ہے مگر رفتہ رفتہ ایسی وارداتوں کے تجزیے سے کھلا کہ اس نوعیت کے پچانوے فیصد سے زائد قتل فوری ردِعمل میں یا محض مارے نام نہاد غیرت نہیں بلکہ منصوبہ بند حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔ اس منصوبے میں کئی لوگ شامل ہوتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے کئی کئی برس بھی انتظار کیا جاتا ہے۔
پھر پتہ چلا کہ یہ نام نہاد تصورِ غیرت کسی خاص صوبے، خطے، طبقے یا شہری دیہی کی میراث نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے۔ اسے مذہبی تعلیمات و روایات کے بجائے صدیوں سے چلے آ رہے رواج کی روشنی میں دیکھا اور برتا جاتا ہے اور جہاں مذہبی قوانین اور روایت آمنے سامنے ہوں وہاں زبانی عقیدت و احترام اپنی جگہ مگر فتح عموماً رواج کی ہی ہوتی ہے۔
مثلاً جب جائیداد کا بٹوارا کرنا ہو تو مذہبی اصول کے بجائے رواج کے مطابق صرف مرد کو حصہ ملتا ہے۔ رشتے ناتے کا معاملہ ہو تو لڑکے یا لڑکی سے مرضی پوچھنے کے بجائے رواج کو فوقیت ملتی ہے اور جہاں بڑے بزرگ چاہیں وہیں رشتے کی حامی بھرنا پڑتی ہے۔ بصورتِ دیگر جراتِ انکار کی قیمت بہت بھاری پڑتی ہے۔ یہی معاملہ طلاقی امور کے ساتھ بھی ہے۔ مرد طلاق دے سکتا ہے، عورت طلاق تب مانگے جب اسے خاندانی عزت، اپنی زندگی اور بچے عزیز نہ ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باچا خان کی اس ملک میں اتنی عزت ہے کہ ان سے ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ معنون ہے مگر اسی ملک میں ان کے اس قول کی کتنی عزت ہے؟ ’کسی بھی سماج کے مہذب ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہاں عورت سے کیا سلوک ہوتا ہے۔‘
اشرافیہ کا سارا زور موجود قوانین پر مکمل عمل درآمد کے بجائے ان قوانین کو مزید سخت کرنے کے رواج پر ہے۔
اگرچہ آئین کے تحت اسلامی جمہوریہ میں شریعت سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا مگر عملی صورت یہ ہے کہ رواج سے متصادم شرعی قوانین پر کوئی عمل نہیں کرتا۔
پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں شرعی و سیکولر عدالتیں اور جرگے شانہ بشانہ قابلِ قبول ہیں۔ جس کو جہاں سے اپنی مرضی کا انصاف مل سکے۔ کسی تنازعے یا مقدمے میں ایک فریق بااثر یا صاحب حیثیت یا صاحبِ رسوخ بھی ہو تو سونے پہ سہاگہ، پھر کیسا جرگہ، کون سی عدالت اور کیا روایت؟
یہ کوئی بگڑا ہوا یا کنفیوزڈ، آدھا تیتر آدھا بٹیر نظام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ذہین اور شعوری حسنِ انتظام ہے تاکہ محروم اکثریت (بشمول زن و مرد و طفل) کو باآسانی اپنی پسند کی قانونی و رواجی سہولت کے ڈنڈے سے ہانک کر ذہنی و جسمانی غلامی پر آمادہ رکھا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس حسنِ انتظام کی پائیداری کا راز یہ ہے کہ اسے مجرم اور جرم زدہ خاندان کی سگی عورتوں اور مردوں، قبیلے، برادری، محلے داروں، ایسوسی ایشنز، سیاسی و مذہبی گروہوں، انتظامی اداروں، عدالتی و پارلیمانی ڈھانچے، قانون پر بے اعتباری و خوف پر اعتبار کی اعلانیہ و خاموش سرپرستی و تائید حاصل ہے۔ اس حسنِ انتظام سے بغاوت دراصل ریاستی ذہن، بزرگوں کی اقدار اور روایات سے بغاوت ہے۔
بغاوت کی سزا کا تناسب سو فیصد مگر گھر، پڑوس، مدرسے اور جنگل میں ریپ، قتل، نام نہاد غیرت کے نام پر ہلاکت اور اغوا جیسے جرائم کے ثابت ہونے اور پھر اس کی سزا ملنے کا تناسب صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے زائد نہیں۔
یہی وہ بے خوفی ہے جس کے سبب جو مجرم جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔ جرم تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں دھڑلے کا تناسب کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
کبھی جرم کی اپنی اخلاقیات ہوا کرتی تھیں، اگر کسی سے غلطی یا غصے کی حالت میں قتل ہو جاتا تو قاتل بلا حیل و حجت خود کو قانون کے حوالے کر دیتا اور اعتراف بھی کر لیتا۔ ایسا ہم نے کہانیوں میں پڑھا ہے۔
مگر دیکھا یہی ہے کہ مارے نام نہاد غیرت و انتقام قتل کرنے یا کروانے والے یا ریپسٹ بڑے بڑے طرم خان اپنے فعل پر اسی جوانمردی سے قائم رہنے کے بجائے نادم ہوئے بغیر سب سے زیادہ بزدل ثابت ہوتے ہیں۔
اقبالِ جرم یا سزا کا سامنا کرنا تو ایک طرف، ہر طرح کا جھوٹ اور بہتان، کسی بے گناہ کے سر اپنا کیا منڈھنے کی کوشش، دباؤ، سفارش، دھونس اور دھمکی سے اپنی کھال بچانے سمیت سب حلال ہے اور جب یہ بزدل ان ہتھکنڈوں اور چالوں کے سبب بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بری ہوتے ہی ’بے گناہی‘ کا ہار پہن کر سینہ اور چوڑا کر لیتے ہیں اور طاقت کی زبان سمجھنے والی اندیشوں کی ماری خلقِ خدا بھی ان کے آزو بازو ہوتی ہے۔
بس میڈیا و سوشل میڈیا، چند سرپھرے پارلیمنٹیرینز اور بنیادی حقوق کی کچھ تنظیموں کو کچھ دن تکلیف رہتی ہے مگر پھر کوئی تازہ خوفناک واردات مذمت کا خام مال بن کے سامنے آ جاتی ہے۔
یہ عجب بستی ہے جہاں جرائم کی شرح بڑھنے سے ملک بدنام نہیں ہوتا، جرم کی تشہیر سے ملک بدنام ہوتا ہے۔












