سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد اچانک کمی کی وجہ کیا ہے؟

’کلاسک مارکیٹ عروج پر ہے۔ یہاں کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہر کوئی وضاحت کی تلاش میں ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں دھاتوں کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ٹام پرائس کے جو ’فنانشل ٹائمز‘ سے گفتگو میں سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک گراوٹ پر خود حیران ہیں۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جمعے کو ایک بڑی گراوٹ کے ساتھ رک گیا۔

30 جنوری کو سونے کی قیمت میں 12 فیصد، چاندی کی قیمت میں 26 فیصد جبکہ پلاٹینم کی قیمت میں 18 فیصد کی کمی ہوئی۔

اس سے پہلے حالیہ مہینوں کے دوران دونوں دھاتوں کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا تھا۔

ایم کے ایس پیپمس کے تجزیہ کار نکی شیلز نے کہا کہ جمعرات اور جمعے کو اختتام پر اس میں زیادہ اتار چڑھاؤ آئے جسے ’قیمتی دھاتوں کی تاریخ کا سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ والا مہینہ‘ کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں جمعرات اور جمعے کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ اور پھر کمی ریکارڈ کی گئی۔

مقامی مارکیٹ میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں 21 ہزار 200 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت پانچ لاکھ 72 ہزار 862 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 18175 روپے فی تولہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس کی قیمت چار لاکھ 91 ہزار 136 روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

تاہم جمعے کے روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک دن میں ریکارڈ کمی ہوئی جب فی تولہ سونے کی قیمت 35 ہزار 500 روپے فی تولہ کم ہو گئی اور اس کی قیمت پانچ لاکھ 38 ہزار 362 روپے فی تولہ ہو گئی۔

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 30 ہزار 435 روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی اور اب یہ چار لاکھ 60 ہزار 701 روپے کا ہے۔

عالمی افراتفری، وینزویلا ہو یا گرین لینڈ سے ایران تک، اور امریکی صدر ٹرمپ کی غیر یقینی پالیسیوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات نے سرمایہ کاروں کو قیمتی دھاتوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا۔

شیلز نے کہا ’ہر روز ناقابل تصور چیزیں ہو رہی ہیں۔ یہ اضافہ واضح طور پر بہت زیادہ اور بہت جلد تھا۔‘

پکٹیٹ ایسٹ مینجمنٹ کے سینئر ملٹی ایسٹ سٹریٹجسٹ، ارون سائی نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، ’پہلے دیکھی گئی زیادہ قیمتوں کی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے، اتار چڑھاؤ کی توقع کی جانی چاہیے۔‘

کمپنی کو یقین ہے کہ سنٹرل بینک کے ریزرو مینیجرز اور دیگر سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کے تنوع سے سونا فائدہ اٹھاتا رہے گا۔

امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ بلومبرگ کے مطابق، یہ کمی 1980 کی دہائی کے اوائل کے بعد انٹرا ڈے کی سب سے بڑی کمی ہے۔ چاندی میں بھی ریکارڈ انٹرا ڈے کمی دیکھی گئی۔ اس فروخت نے پوری دھات کی مارکیٹ کو متاثر کیا۔

سٹاک مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان دھاتوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد قیمتوں میں کریش ہونے کا امکان تھا اور کچھ خبریں اس کا بہانہ فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں صرف سونے کی قیمت میں جمعرات اور جمعے کے روز ریکارڈ اضافہ اور پھر کمی نہیں ہوئی بلکہ چاندی کی قیمت میں بھی دو دنوں میں بڑا ردو بدل ہوا۔

جمعرات کے روز اس کی قیمت میں 264 روپے اضافہ ہو ا اور اس کی فی تولہ قیمت 12175 روپے فی تولہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

جمعے کے روز چاندی کی قیمت میں ایک دن میں ریکارڈ کمی ہوئی جب اس کی قیمت 1106 روپے فی تولہ کے بعد 11069 روپے کی سطح تک گر گئی۔

کموڈیٹیز شعبے کے ماہر احسن محنتی نے بی بی سی اردو کے لیے صحافی تنویر ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمت میں ہونی والی کمی کی وجہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں کمی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کمی کی دو وجوہات رہیں جس میں سے ایک امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک کا شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ہے جس کی وجہ سے ڈالر مضبوط ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب ڈالر کی قدر بڑھتی ہے تو اس میں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور سرمایہ کاری کے دوسرے شعبوں کے اس کی جانب سرمایہ کاری جاتی ہے۔

محنتی نے کہا اس کے ساتھ دوسری وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جنگی بحری بیڑا بھیجنے کے باوجود ایران پر فی الحال حملہ نہ کرنے کے بیان نے جیو پولییٹکل کشیدگی میں کچھ کمی لائی جس کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں کمی ہوئی اور اس کا اثر پاکستان میں ان کی قیمتوں پر بھی ہوا۔

قیمتوں کے ریکارڈ اضافے کے بعد کمی کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے مارکیٹ بھی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔

گذشتہ ایک سال میں سونے کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قیمتی دھاتوں کے لیے گذشتہ سال کے دوران سرمایہ کاروں کی بڑی طلب دیکھی گئی ہے جس نے ریکارڈ قائم کیا ہے۔

اس اضافے نے تجربہ کار تاجروں کو بھی حیران کر دیا اور قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ کا باعث بنا۔

یہ رجحان جنوری میں تیز ہوا، کیونکہ کرنسی کی کمزور ہوتی ہوئی قدروں، فیڈرل ریزرو کی آزادی کے بارے میں خدشات، تجارتی جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان سرمایہ کاروں نے روایتی محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا۔

بلومبرگ نے اورسیز چائنیز بینکنگ کارپس کے سٹریٹجسٹ کرسٹوفر وونگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیون وارش کی فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے لیے نامزدگی کی خبر ’بڑی گراوٹ‘ کے لیے ایک محرک تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کیون اس مشکل وقت میں دنیا کے سب سے اہم مرکزی بینک کی قیادت کرنے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔

کرسٹوفر وونگ نے کہا کہ ’یہ وہی وجہ ہے جس کا بازار اتنی تیز اور غیر معمولی ریلی کو ختم کرنے کا انتظار کر رہا ہے۔‘

ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کاروں نے پرافٹ بکنگ کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا، ’کچھ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وارش کی قیادت میں ایک فیڈ، جو دوسرے ممکنہ امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند ماہر معاشیات سمجھے جاتے ہیں، ممکنہ طور پر افراط زر پر سخت کنٹرول برقرار رکھے گا۔ ڈالر کی کمزوری کو بھی سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ایک عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

بلومبرگ کے مطابق، سونے اور چاندی کی قیمتیں ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جب کہ آسٹریلین ڈالر اور سویڈش کرونا جیسی اجناس کی کرنسیوں میں فروخت کے باعث ڈالر مضبوط ہوا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں اس خبر کے بعد اضافہ ہوا کہ کیون وارش کو فیڈ چیئر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ موجودہ فیڈ چیئر جیروم پاول کی مدت مئی میں ختم ہو رہی ہے۔

دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سینیٹ ڈیموکریٹس کے درمیان عارضی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی حکومت کے ایک اور شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں بھی کمی آئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ دونوں دھاتیں ’اوور بوٹ‘ کے زمرے میں آ گئیں۔ ان کا آر ایس آئی یا طاقت کا انڈیکس 90 تک پہنچ گیا، جو دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔

اگر یہ 70 یا اس سے زیادہ ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ضرورت سے زیادہ خرید ہے اور قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں اور اصلاح کی ضرورت ہے۔

تاہم جمعے کی کمی کے بعد بھی اس مہینے میں سونے کی قیمت میں 13 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چاندی کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔

کمی نے دیگر دھاتوں کی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا

دھاتوں کی مارکیٹ میں اس گراوٹ کا اثر بڑی کان کن کمپنیوں کے حصص پر بھی پڑا۔

انڈین سٹاک مارکیٹ میں سونے اور چاندی کے ای ٹی ایف میں تقریباً 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ تانبے کے حصص بھی تیزی سے گر گئے۔

نیویارک کی ٹریڈنگ میں سونے کی بڑی کمپنیوں جیسے نیومونٹ کارپوریشن، بیرک مائننگ کارپوریشن اور اگنیکو ایگل مائنز کے حصص 10 فیصد سے زیادہ گر گئے۔

نیویارک میں سپاٹ گولڈ کی قیمت 8.9 فیصد گر کر 4,894.23 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔

چاندی 26 فیصد گر کر 85.20 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔ پلاٹینم اور پیلیڈیم میں بھی کمی ہوئی۔

بلومبرگ ڈالر سپاٹ انڈیکس میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔

لندن میٹل ایکسچینج میں کاپر 13,157.50 ڈالر فی ٹن پر بند ہوا۔ جمعرات کو یہ 14,000 ڈالر فی ٹن سے اوپر بڑھ گیا تھا، جو 2008 کے بعد سے اس کا سب سے بڑا انٹرا ڈے اضافہ ہے۔

ایک مضبوط ڈالر دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے اشیاء کو زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے، کیونکہ ان کی قیمتیں ڈالر میں طے ہوتی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق ہیریئس پریشئس میٹلز کے ٹریڈنگ کے سربراہ ڈومینک سپرزل نے کہا کہ مارکیٹ انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار تھی اور جمعہ کو کئی بار 5,000 ڈالر کی نفسیاتی سطح ٹوٹ گئی۔

بقول اُن کے، ’ہمیں آنے والے وقت میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘

چینی سرمایہ کاروں نے سونے کی قیمتوں میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ان کی بھاری خریداری کے پیش نظر، شنگھائی فیوچر ایکسچینج کو قیمتی اور صنعتی دھاتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کرنے پڑے۔