وہ خاتون جس کی تشدد زدہ لاش عروسی جوڑے کے لیے خریدے جانے والے سوٹ کیس سے ملی

کرسٹی

،تصویر کا ذریعہFamily of Kirsty Wilkinson

    • مصنف, ناتالی گرائس
    • عہدہ, بی بی سی ویلز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں انسانی باقیات اور موت کی تفصیلات موجود ہیں جو چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

کرسٹی ولکنسن نے جب اپنے عروسی جوڑے کا انتخاب کیا تو اسے محفوظ رکھنے کے لیے انھوں نے ایک گلابی رنگ کا سوٹ کیس بھی خریدا۔ یہ فروری 2008 کی بات ہے۔

صرف ایک سال بعد وہی گلابی سوٹ کیس ایک ایسی خوفناک دریافت کا حصہ بن چکا تھا جس کے بعد ایک سفاک قاتل کی تلاش کا آغاز ہوا۔

ایک حالیہ دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ اس قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں کیسے لایا گیا۔

چھ اپریل 2009 کی صبح کو جب ایک لاری ڈرائیور سڑک سے گاڑی اتار کر ساؤتھ ویلز میں ایک مقام پر اترے تو انھیں ایک سوٹ کیس نظر آیا۔ انھیں لگا شاید یہ کسی گاڑی کی چھت سے گر گیا ہو گا۔

انھوں نے شناخت کے لیے اس سوٹ کیس کو کھولنے کی کوشش کی تو انھیں ایک ہاتھ اور خون آلودہ سنہری رنگ کے بال دکھائی دیے۔

چند ہی دن قبل اس مقام سے 20 میل دور ایک سینئر پولیس افسر ڈوریان لاوڈ کو ایک لاپتہ خاتون کے بارے میں اطلاع ملی تھی۔

30 مارچ کو 24 سالہ کرسٹی کے شوہر پال نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔ پولیس نے گھر کی تلاشی لی لیکن انھیں کوئی مشکوک چیز نہ مل سکی۔ یہی وہ وقت تھا جب سوٹ کیس سے کرسٹی کی لاش ملی۔

پولیس افسر ڈوریان لاؤڈ کو یاد ہے کہ ’یہ ایک بھیانک موقع تھا۔ ہمیں سوٹ کیس کے اندر سے دو کالے رنگ کے شاپر بیگ ملے۔‘

’ایک کو لاش کے سر پر جبکہ دوسرے کو پیروں پر لپیٹا گیا تھا اور لاش کو گلابی رنگ کے سوٹ کیس میں ڈالا گیا تھا۔‘

کرسٹی

،تصویر کا ذریعہFamily of Kirsty Wilkinson

تفتیشی ٹیم کو اس وقت تک صرف یہ شک تھا کہ یہ کرسٹی کی لاش ہے لیکن ان کو اس بات کا یقین نہیں تھا۔

بی بی سی ویلز کے لیے کام کرنی والی سابق صحافی پینی رابرٹس اس مقام پر موجود تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ گھر سے 20 میل دور لاش کا ملنا بھی کافی حیران کن تھا۔

لاش کی نشان دہی کے لیے کرسٹی کی والدہ کیتھِی بروم فیلڈ کو بلایا گیا۔ انھوں نے بی بی سی ون ویلز کی سیریز ’دی ٹرتھ اباؤٹ مائی مرڈر‘ کو بتایا کہ ’یہ کسی ڈراونی فلم جیسا تھا۔ اس کی ناک اور جبڑا ٹوٹے ہوئے تھے۔ اس کے بال دھوئے جا چکے تھے لیکن پھر بھی ان میں خون موجود تھا۔‘

’میں صرف اس کی بھنویں پہچان پائی۔ مجھے اتنی تکلیف تھی کہ میں رو بھی نہیں پائی۔‘

پولیس نے کرسٹی کے شوہر پال کو اطلاع دی تو ان کا ردعمل مشکوک تھا کیوں کہ نہ تو انھوں نے اتنی بڑی خبر پر کوئی جذبات دکھائے اور نہ ہی پولیس کے کسی سوال کا جواب دیا۔

لیکن پولیس کے لیے شک کافی نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے علم ہوا کہ کرسٹی کی موت سے پہلے ان پر کتنا تشدد کیا گیا تھا۔

سابق فرانزک ماہر ڈاکٹر شیپرڈ کے مطابق ’زخموں سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ حملے کی طوالت اور شدت بہت زیادہ تھی۔‘

کرسٹی کے حلق میں موجود ایک ہڈی تک ٹوٹ چکی تھی جس سے اس طاقت کا اندازہ ہو سکتا تھا جو اس کے خلاف استعمال ہوئی۔

کرسٹی

،تصویر کا ذریعہYeti Television/BBC Cymru Wales

،تصویر کا کیپشنلاش کی نشاندہی کے لیے کرسٹی کی والدہ کیتھِی بروم فیلڈ کو بلایا گیا۔ انھوں نے بی بی سی ون ویلز کی سیریز ’دی ٹرتھ اباؤٹ مائی مرڈر‘ کو بتایا کہ ’یہ کسی ڈراونی فلم جیسا تھا‘
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس نے کرسٹی اور پال کے تعلق پر تفتیش شروع کر دی۔ کیتھی کے مطابق کرسٹی ایک ماڈل تھیں جن کا ماضی میں ایک شخص سے تعلق رہا تھا لیکن پھر اچانک انھوں نے پال سی شادی کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ شادی ان کی ملاقات کے صرف تین ماہ بعد ہوئی لیکن کچھ عرصہ بعد ہی کیتھی نے دیکھا کہ ان کی بیٹی کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب بھی اس کا شوہر باہر سے گاڑی کا ہارن بجاتا تو ان کی بیٹی ’کسی خوفزدہ خرگوش کی مانند بھاگتی۔‘

کرسٹی اور پال کے ایک دوسرے کو لکھے جانے والے خطوط سے علم ہوا کہ ان کے تعلق میں مسائل موجود تھے اور فرانزک ماہر ڈاکٹر کیٹرن ولیم نے شواہد کی تفتیش کی۔ ان کے مطابق شواہد سے علم ہوا کہ اس تعلق میں ایسا رویہ موجود تھا جس میں کسی ایک کو ان کے دوستوں سے الگ رکھا جائے حتیٰ کہ اس شخص کی زندگی مکمل طور پر ان کے پارٹنر کے کنٹرول میں چلی جائے۔

کیتھی کے مطابق پال نے ایک موقع پر ان کی بیٹی کا گلہ اتنی شدت سے دبایا تھا کہ ’اسے واقعی ایسا لگا کہ وہ مرنے والی ہے۔‘ ان تمام شواہد کے باوجود یہ کہنا مشکل تھا کہ کرسٹی کا قاتل اس کا شوہر ہی ہے۔

کرسٹی

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنپولیس نے کرسٹی کے شوہر پال کو اطلاع دی تو ان کا ردعمل مشکوک تھا

پال نے پولیس کو بتایا کہ جس رات کرسٹی لاپتہ ہوئی وہ دونوں گھر سے باہر تھے لیکن وہ شراب کے نشے میں تنہا گھر لوٹا اور جاگنے پر اس نے دیکھا کہ کرسٹی موجود نہیں اور اس کا فون، پرس اور ہینڈ بیگ بھی غائب تھے۔

تاہم ہمسائیوں نے اس رات تین سے چار بجے کے درمیان شور کی آوازیں سنی تھیں۔ اوپر کی منزل والے فلیٹ میں رہنے والے ہمسائیوں کے مطابق انھیں کسی کی ’چلانے کی آوازیں سنائی دی تھیں جیسے کسی نے منھ پر ہاتھ رکھا ہوا ہو جس کے بعد ایسا محسوس ہوا کسی بھاری چیز کو باتھ روم سے گھسیٹا جا رہا ہو۔‘

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ثابت ہوا کہ کرسٹی کی موت تین سے چار بجے کے درمیان ہی ہوئی تھی۔ پولیس کو یہ ثبوت درکار تھا کہ کرسٹی کی موت فلیٹ میں ہوئی تھی۔ یہ ثبوت سینئر فرانزک ماہر کلیئر مورس کو مل گیا۔

ان کو ایک دیوار پر خون کے دھبے نظر آئے اور جب انھوں نے فرانزک روشنی میں مذید جانچ کی تو زمین پر مذید دھبے دکھائی دیے۔

ان کو فلیٹ کے دیگر حصوں میں بھی خون نظر آیا بشمول باتھ روم کے۔ ڈی این اے کی پروفائلنگ نے ثابت کیا کہ یہ خون کرسٹی کا ہی تھا۔ کچھ خون پال کے کپڑوں سے بھی ملا۔ لیکن اس مقدمے کو مذید مضبوط کرنے کے لیے ایک چیز باقی تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ پال نے ہی کرسٹی کی لاش کو اس مقام پر پہنچایا جہاں سے لاری ڈرائیور کو لاش ملی تھی۔

فون ریکارڈ سے پتہ چلا کہ پال اس مقام پر موجود تھا کیوں کہ اس نے اسی جگہ سے ایک ٹیکسٹ بھیجا تھا اور یہ تقریبا وہی وقت تھا جب پولیس کے مطابق سوٹ کیس میں بند لاش کو اس جگہ چھوڑا گیا تھا۔

جنوری2010 میں پال کے خلاف کرسٹی کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور چار فروری کو ان کو 19 سال قید کی سزا ہوئی۔

رابرٹس کو یاد ہے کہ عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پال کا رویہ بلکل نہیں بدلا۔ ’اس نے کوئی جذبات نہیں دکھائے۔‘