ملا عبدالغنی برادر کی افغان تاجروں کو تنبیہ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش کس ملک کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات کی ناکامی اور تجارتی سرگرمیاں کے بدستور معطل رہنے کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت نے صنعت کاروں اور تاجروں کو پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کے ذریعے تجارت کے راستے تلاش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے اس فیصلے سے پاکستان کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ یہ ملک کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ ماہ ہوئی جھڑپوں کے بعد سے سرحد ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے بند ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا عمل بھی گذشتہ 32 روز سے مکمل طور پر معطل ہے۔ اس صورتحال کے باعث تجارتی سامان سے لدی سینکڑوں گاڑیاں سرحد کے اطراف میں کھڑی ہیں۔
اسی تناظر میں بدھ کے روز افغان صنعت کاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے طابان حکومت کے نائب وزیرِ اعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ وہ پاکستان کے بجائے دیگر ممالک سے تجارت کے راستے تلاش کریں اور اگر کوئی تاجر اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو پھر افغان حکومت اُس کی کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہیں کر سکے گی۔
ملا عبدالغنی برادر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بدھ کی شام پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ افغانستان کے اس فیصلے سے پاکستان کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ یہ پاکستان کے لیے ریلیف ہو گا کیونکہ جو مال کراچی پورٹ کے ذریعے افغانستان کے لیے منگوایا جاتا ہے وہ افغانستان جانے کے بجائے پاکستانی مارکیٹس میں فروخت ہوتا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے لیے آنے والے پرتعیش سازوسامان سے پاکستان کی مارکیٹ خراب ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ جب سرحد پر ٹریفک یا آمدورفت کم ہو گی تو تجارت کی آڑ میں ہونے والی دہشت گردی بھی کم ہو گی اور پاکستان کے لیے سرحدوں کی مینجمنٹ آسان ہو جائے گی۔
طالبان حکومت کے نائب وزیرِ اعظم عبدالغنی برادر نے مزید کہا تھا کہ اِس وقت پاکستان کے ساتھ تجارت کا بڑا حصہ ادویات کی درآمد پر مشتمل ہے اور اُن کی جانب سے پاکستانی ادویات درآمد کرنے والے افغان تاجروں کو اپنے ’مالی معاملات مکمل‘ کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے پاکستان پر تجارت کی مد میں انحصار نہ کرنے اور تجارتی لین دین کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے اعلان کو پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لینڈ لاکڈ ملک یعنی خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ سے افغانستان، پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے اپنا سامان منگواتا ہے جسے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں باہمی تجارت بھی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی بندش سے دونوں ملکوں کو نقصان ہو گا کیونکہ ایسی صورت میں افغانستان پاکستان کے ذریعے بیرونی تجارت کے لیے قریب ترین تجارتی حلیف سے محروم ہو جائے گا جبکہ دوسری جانب پاکستان کا تجارتی نقصان بھی ہو گا کیونکہ افغانستان پاکستان کی ایک بڑی برآمدی مارکیٹ ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے مابین تجارت ایک ایسے وقت پر بند ہوئی ہے جب پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ان معاملات کی تفصیل میں جانے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں اور دونوں ممالک تجارت کے معاملے میں ایک دوسرے پر کتنا انحصار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان پاکستانی مصنوعات کی آٹھویں بڑی برآمدی منڈی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم کا جائزہ لیا جائے تو اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تجارتی حجم پاکستان کے حق میں ہے۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود مختلف ممالک کے ساتھ بیرونی تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں پاکستان نے افغانستان کو ایک ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کی برآمدات کیں ہیں۔
گذشتہ مالی سال میں افغانستان پاکستانی مصنوعات کی 8 ویں بڑی برآمدی منڈی تھا۔ جبکہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی افغانستان برآمدت میں31 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی طرح گذشتہ مالی سال میں پاکستان نے افغانستان سے 61 کروڑ ڈالر کی درآمدات کی تھیں۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نائب صدر ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ 1.4 ارب ڈالر کی برآمدات صرف وہ ہیں جن کا دستاویزی ریکارڈ ہے، وگرنہ پاکستان کی برآمدات کا حجم اس سے بہت زیادہ ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین غیر رسمی تجارت کا حجم بھی کافی زیادہ ہے۔
پاکستان سے افغانستان جانے والی مصنوعات کی فہرست افغانستان سے پاکستان آنے والی اشیا کے مقابلے میں طویل ہے۔ پاکستان افغانستان کو چاول، سبزیاں، پھل، ادویات، سیمنٹ، لکڑی، پلاسٹک، موٹر سائیکل، ٹریکٹر، چینی سے بنی مصنوعات اور ربڑ وغیرہ بھیجتا ہے۔
دوسری جانب افغانستان سے پاکستان آنے والی چیزوں میں کچھ پھل، ڈرائی فروٹس اور کوئلہ وغیرہ شامل ہیں
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو زبیر موتی والا نے بتایا کہ پاکستان سے تقریباً تمام اجناس افغانستان جاتی ہیں، اس کے علاوہ پولٹری بھی افغانستان جاتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ پہلے افغانستان جانے والی تمام اجناس میں پاکستان کا حصہ 95 فیصد تھا لیکن پھر انڈیا نے بھی اس مارکیٹ میں قدم رکھا اور افغانستان کو اجناس فراہم کرنے والی مارکیٹ میں پاکستان کا شیئر کم ہو کر 65 فیصد ہو گیا۔
انھوں نے کہا افغانستان سے خشک میوہ جات اور کچھ پھلوں کے علاوہ سب سے اہم درآمد کوئلہ ہے جو اچھی کوالٹی کا ہوتا ہے اور انڈونیشیا یا کسی اور ملک کے مقابلے میں افغانستان کا کوئلہ جلدی پاکستان پہنچ جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تجارت کی بندش سے کس ملک کے نقصان کا زیادہ اندیشہ ہے؟
پاک، افغان جوائنٹ چمبر آف کامرس کے صدر جنید مکڈا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تجارت کی بندش دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ تاہم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے وابستہ ناصر خان کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان کو زیادہ خسارے کا سامنا پڑے گا کیونکہ افغانستان پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے اور ہر روز پاکستانی مصنوعات کے تین سو ٹرک صرف چمن بارڈر سے افغانستان جاتے تھے جب کہ اس کےمقابلے میں پاکستان آنے والی ٹرکوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کھانے پینے کی چیزوں کی افغانستان بڑی منڈی ہے جس میں اجناس اور خوردنی تیل شامل ہے۔ ناصر خان کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک کے مابین مسئلے ہوتے رہتے ہیںئ تاہم تجارت کو بند نہیں ہونا چاہیے۔
زبیر موتی والا بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تجارت کی بندش سے افغانستان کے مقابلے میں پاکستان کو زیادہ نقصان ہو گا کیونکہ اسی صورتحال میں ایران کو افغانستان کی مارکیٹ میں داخل ہونے اور اپنے قدم جمانے کا موقع میسر آئے گا۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا پہلے بھی کابل میں ہوائی راستے کے ذریعے آٹا اور اجناس پہنچا چکا ہے اور اب دوبارہ اس مارکیٹ میں قدم جما لے گا۔
اس معاملے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے، تاہم انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ تجارت کی بندش سے پاکستان کی برآمدات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیر اعظم کے کو آرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی سب سے پہلے اولین ترجیح ہے اور اگر ڈیڑھ، دو ارب ڈالر کی برآمدات رکتی ہیں تو یہ نقصان دہشت گردی کے سبب ہونے والے نقصان سے بہت کم ہو گا کیونکہ شدت پسندی کے سبب پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی کی وجہ سے مائننگ کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔ البتہ اُن کے مطابق بڑے قومی مفاد کے لیے اگر تھوڑا نقصان ہو تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
تجارت بند ہونے کے بعد لینڈ لاکڈ افغانستان اپنی ضروریات کیسے پوری کرے گا؟
خشکی سے گھرے ہونے کے باعث افغانستان کی بیرونی دنیا سے تجارت پاکستان کے راستے ہی ہوتی ہے۔
ناصر خان کہتے ہیں کہ افغانستان نے ایران کی بندرگاہوں، چاہ بہار اور بندر عباس، کے ذریعے ایک سپلائی لائن قائم کر رکھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان سے ایرانی بندرگاہوں کا فاصلہ زیادہ ہے اس لیے لاگت کو کم کرنے کے لیے افغانستان نے امپورٹ ٹیکس کم کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی صورت میں چاول اور ادویات انڈیا سے منگوائی جائیں گی جو ایرانی راستے سے افغانستان پہنچ سکتی ہیں۔
زبیر موتی والا نے اس سلسلے میں بتایا کہ افغانستان کے پاس متبادل روٹس تو موجود ہیں تاہم یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان کا روٹ بیرونی تجارت کے لیے افغانستان کے پاس سب سے کم فاصلے والا روٹ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ افغانستان میں بیرونی دنیا سے مصنوعات چاہ بہار کے ذریعے جا سکتی ہیں ، اس کے علاوہ ہوائی راستہ بھی موجود ہے اور انڈیا ہوائی راستے کے ذریعے افغانستان مصنوعات بجھوانے پر اپنے برآمد کنندگان کو سبسڈی دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر طویل مدت تک تجارت بند رہتی ہے تو افغانستان میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر ایران کو ملنے کا اندیشہ ہو گا۔
کیا ٹرانزٹ ٹریڈ روکی جا سکتی ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ سنہ 1965 میں ہوا تھا، جو 45 سال بعد سنہ 2010 میں ختم ہوا اور اُسی سال یہ معاہدہ دوبارہ کر لیا گیا۔ گزشتہ چند سالوں میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے افغانستان کی تجارت کا حجم کم ہوا ہے۔
کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق مالی سال 2023 میں اس تجارت کا حجم ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد تھا۔ مالی سال 2024 میں یہ حجم دو ارب 30 کروڑ رہا تاہم مالی سال 2025 میں اس میں مزید کمی ہوئی تو یہ ایک ارب ڈالر تک آ گیا۔
تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی دو طرفہ تجارت تو بند کر سکتا ہے لیکن کیا پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بند کر سکتا ہے؟
وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ جنیوا کنونشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی قوانین کی روشنی میں کیا گیا تھا۔
پاک افغان جوائنٹ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینیئر نائب صدر ضیاالحق سرحدی کے مطابق لینڈ لاکڈ کنٹری (یعنی وہ ملک جو خشکی میں گھرا ہو) کو جنیوا کنونشن کے تحت راہداری کی سہولت ملتی ہے۔ انھوں نے کہا انڈیا نے بھی نیپال کو یہ سہولت دی ہوئی ہے اور، اُن کے مطابق، عالمی قوانین کی روشنی میں پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے تجارت نہیں روک سکتا۔
زبیر موتی والا کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ جنیوا کنونشن کے تحت ہے، لیکن جب جنگ کی سی کیفیت ہو تو پھر بین الاقوامی معاہدے تو ایک طرف، باہمی معاہدوں پر بھی عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔
بیرونی تجارت کے ماہر اقبال تابش کا اس سلسلے میں کہنا ہے ’جب قومی مفاد ہو تو پھر ان معاہدوں کی حیثیت نہیں رہتی۔‘ ان کے مطابق ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین بھی اس سلسلے میں قومی مفاد کو ترجیح دینے کی بات کرتے ہیں۔
ہارون اختر نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے مصنوعات کی فراہمی روکنے پر کہا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں معاہدے کا علم نہیں، جبکہ رانا احسان افضل نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔











