آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں گاڑیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی، کیا دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت اب تنزلی کی طرف جا رہی ہے؟
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, نامہ نگار بی بی سی ہندی
کیا دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت اپنی قوت کھو رہی ہے؟
اس حوالے سے حالیہ جی ڈی پی اعداد و شمار مایوس کن تصویر پیش کر رہے ہیں۔ رواں برس جولائی سے ستمبر کے دوران انڈیا کی معیشت کی ترقی کی شرح پانچ اعشاریہ چار فیصد پر آ گئی ہے جو گذشتہ سات سہ ماہی میں کم ترین سطح ہے۔ یہ ریزرو بینک آف انڈیا کی سات فیصد کی پیشگوئی سے کم ہے۔
اگرچہ یہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اب بھی مضبوط ہے لیکن اعداد و شمار اس کی سست روی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے کئی عوامل شامل ہیں۔ صارفین کی طلب میں کمی آئی ہے اور برسوں سے نجی سرمایہ کاری میں سست روی نمایاں ہے اور حالیہ برسوں میں سرکاری اخراجات کرنے کی پالیسی کی واپسی اس کی ایک بڑی وجہ رہے ہیں۔
انڈین مال کی برآمدات کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری ہیں مگر ان کا عالمی حصہ سنہ 2023 میں فقط دو فیصد تک رہا ہے۔
فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز یا ایف ایم سی جی کمپنیوں کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔ مگر عوامی سطح پر تجارت کرنے والی فرمز کے تنخواہوں کے بل گذشتہ سہ ماہی میں کم ہوئے ہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے مالی سال 25-2024 کے لیے اس سے قبل ترقی کی پیشگوئی چھ اعشاریہ چھ فیصد کی تھی تاہم اس پر اب نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ماہر اقتصادیات راجیشوری سینگپتا کہتی ہیں کہ ’ویسے تو ایسا لگتا ہے کہ جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد جیسے یہ سب اچانک ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن یہ صورتحال ایک عرصے سے خراب ہو رہی تھی۔ یہاں واضح طور پر سست رفتاری اور طلب کا ایک سنگین مسئلہ نظر آ رہا ہے۔‘
دوسری جانب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن ایک روشن تصویر پیش کرتی ہیں۔
انھوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس گراوٹ کا تعلق نظام سے نہیں ہے بلکہ یہ انتخابات پر مرکوز سہ ماہی کے دوران حکومتی اخراجات میں کمی کا نتیجہ ہے۔
وہ توقع رکھتی ہیں کہ تیسری سہ ماہی میں تین چوتھائی نمو حالیہ تنزلی کی کمی کو پورا کرے گی۔
نرملا سیتا رمن کا کہنا ہے کہ انڈیا اب بھی دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے گی لیکن اس دوران اجرت میں اضافہ نہ ہونے کے باعث کھپت میں کمی، عالمی طور پر کھپت میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے ذراعت کو پہنچنے والے نقصان جیسے مسائل درپیش ہوں گے۔
ایک سینیئر وفاقی وزیر سمیت کچھ ماہرین اقصادیات اور آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی گروپ کے ایک سابق ممبر کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے افراط زر یا مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرحِ سود میں کم لائی ہے اور ممکنہ طور پر یہی اقدام ترقی کی رفتار کم کر رہا ہے۔
زیادہ ریٹ کی وجہ سے کاروباری طبقے کے لیے اور صارفین کے لیے قرض لینا بہت مہنگا پڑ جاتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کی وجہ سے سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور کھپت بھی کم ہوتی ہے جبکہ یہ دونوں ہی اقتصادی ترقی معاشی نمو کے لیے بنیادی محرک ہیں۔
آر بی آئی نے دوسال سے شرح سود کا ریٹ نہیں بدلا اور یہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی چھ اعشاریہ دو فیصد بڑھی اور یہ سینٹرل بینک کے چار فیصد رکھے گئے ٹارگٹ کو توڑتے ہوئے 14 ماہ کی بلند ترین سطح تھی۔
مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ تھا، اس میں سے نصف تو صارفین کی ضرورت کی چیزوں کی قیمت ہے۔
مثال کے طور پر، سبزیوں کی قیمتیں اکتوبر میں 40 فیصد سے زیادہ ہو گئیں۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اب روزمرہ کے دیگر اخراجات یا بنیادی افراط زر کو متاثر کر رہا ہے۔
شرحِ سود کا زیادہ ہونا شاید اکیلے ہی مکمل طور پر ترقی میں سست ہوتی رفتار کی وضاحت نہیں کرتا۔
ہمانشو معاشی ترقی کے حوالے سے دلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’قیمتوں کو کم کرنے سے بہت زیادہ شرح نمو نہیں ہوتی جب تک کھپت کی طلب مضبوط نہیں ہوتی۔ سرمایہ کار تب ہی ادھار لیتے ہیں اور سرمایہ لگاتے ہیں جب اس کی طلب موجود ہوتی ہے اور اس وقت ایسی صورتحال نہیں ہے۔‘
لیکن آر بی آئی کے سبکدوش ہونے والے گورنر شکتیکانتا داس کا خیال ہے کہ انڈیا کی ترقی کی کہانی اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اور ترقی کے درمیان توازن کے دوران اتار چڑھاؤ ایک اچھی چیز ہے۔
ماہرین اقتصادیات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ریٹیل کریڈٹ کے ریکارڈ اضافے اور بڑھتے ہوئے غیر محفوظ قرضوں کے باوجود یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگ باوجود بڑھتے ہوئے ریٹ کے بھی کھپت کے لیے قرض لے رہے ہیں۔
سین گپتا ممبئی کے اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ ریسرچ سے منسلک ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کی معیشت دوہرے پہیے پر چل رہی ہے، اس کی پرانی معیشت اور نئی معیشت مختلف رفتار سے چل رہے ہیں اور اسی وجہ سے یہ حالیہ بحران پیدا ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ قدیم معیشت میں غیر رسمی سیکٹر بشمول درمیانے اور چھوٹے پیمانے پر انڈسٹریز، زراعت اور روایتی کارپوریٹ سیکٹر شامل ہیں جو ابھی تک طویل عرصے سے اصلاحات کے منتظر ہیں۔
اس کے مقابلے میں نئی معیشت جسے کورونا وائرس کے بعد برآمدات کی سروسز میں تیزی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سنہ 2022 اور 2023 میں مستحکم ترقی دیکھنے میں ملی۔
آؤٹ سورسنگ 2.0 بنیادی محرک ہے جس کے ساتھ انڈیا عالمی سطح پر گلوبل کیپبلٹی سینٹرز، جی سی سی جو کہ اعلیٰ درجے کی آف شور خدمات فراہم کرتے ہیں کے لیے سب سے بڑا مرکز بن کر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
ڈیلوئٹ جو کہ ایک مشاورتی فرم ہے کے مطابق دنیا کی 50 فیصد سے زیادہ جی سی سی اب انڈیا میں ہیں۔ یہ سینٹرز دراصل آر اینڈ ڈی، انجینئیرنگ ڈیزائن اور کنسلٹنگ سروسز فراہم کرتی ہیں۔
یہ سینٹرز 46 ارب ڈالر کا ریونیو کماتی ہیں اور ان میں 20 لاکھ سے زیادہ ماہر ورکرز موجود ہیں۔
سینگپتا کہتی ہیں کہ جی سی سی کی آمد نے شہری کھپت کو پرتعیش سامان کی مانگ کی وجہ سے سہارا دے کر بڑھایا ہے۔
’اشیا، رئیل سٹیٹ، زمین کی خریدو فروخت، ایس یو وی۔ کورونا کے بعد دو سے ڈھائی سال تک اس سے شہری اخراجات میں اضافہ ہوا۔ جی سی سی کے بڑے پیمانے پر قائم ہونے اور ان کی کھپت میں تبدیلی، شہری اخراجات میں کمی ہو رہی ہے۔‘
سینگپتا کہتی ہیں کہ ’اس لیے پرانی معیشت میں بظاہر ترقی کی کمی دکھائی دیتی ہے جبکہ نئی معیشت سست رفتار ہے۔ نجی سرمایہ کاری ضروری ہے لیکن اگر کھپت کی مضبوط طلب نہیں ہوگی تو فرمز سرمایہ ہی نہیں لگائیں گی۔ نوکریاں پیدا کرنے اور آمدن کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کیے بغیر کھپت کی طلب کو بحالی پر نہیں لایا جا سکتا۔ یہ ایک پیچیدہ چکر ہے۔‘
اس کے علاوہ اور بھی مبہم علامات ہیں۔ انڈیا کا اوسطً ٹیرف سنہ 2013 سے 2014 تک پانچ فیصد سے 17 فیصد تک بڑھا۔ اور اب یہ امریکہ کے ساتھ اس کے دیگر ایشائی ساتھیوں کے مقابلے میں تجارتی شعبے میں زیادہ ہے۔
عالمی گلوبل ویلیو چین کی سطح پر جہاں برآمد کندگان درآمدات کے لیے مختلف ممالک پر انحصار کرتے ہیں، وہاں ٹیرف کا زیادہ ہونا کمپنیوں کے لیے اشیا کی تجارت کرنے میں ایک قدرے مہنگا عمل ہوتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا ان کے لیے قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔
اسے ماہر معاشیات آروند سبرمانیان’ کہانی میں ایک نیا موڑ‘ کہتے ہیں۔
حتی کہ جب شرح سود کو کم کرنے اور لیکویڈیٹی کو بڑھانے کے مطالبات بڑھے، مرکزی بینک ڈالرز کو بیچ کر گرتے ہوئے روپے کو سہارا دے رہا ہے اور اس سے لیکویڈیٹی مستحکم ہوئی ہے۔
اکتوبر سے آر بی آئی نے 50 بلین اپنے بیرونی زرمبادلہ ذخائر سے روپے کو سہارا دینے کے لیے لگائے ہیں۔
ڈالرز خریدنے والوں کو روپے میں ادائیگی کرنا ضروری ہوں گا اس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہو گی۔
روپے کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کے ذریعے مسابقت کم ہو رہی ہے اور اس میں عالمی منڈیوں میں انڈیا کی اشیا کو مہنگا کیا جا رہا ہے اس سے برآمدات کے لیے طلب کم ہو رہی ہے۔
سبرامانین جو کہ حکومت کے سابق معاشی معاون بھی رہ چکے ہیں کا سوال ہے کہ مرکزی بینک روپے کو کیوں کم کر رہا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’معیشت اور برآمدات کے لیے یہ پالیسی بری ہے۔ ممنکہ طور پر وہ یہ اقدام کے طور پر کر رہے ہیں کیونکہ وہ انڈیا کی کرنسی کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
تنقید نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر انڈیا کے اس بیانیے کو بڑھانا دراصل سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ضروری اصلاحات، برآمدات اور نوکریاں پیدا کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہماری فی کس جی ڈی پی 3000 ڈالر سے کم ہے جبکہ امریکہ میں یہ 86 ہزار ڈالر ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ آپ ان سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو یہ سمجھ میں نہ آنے والی چیز ہے۔
دوسرے معنوں میں انڈیا میں مزید ملازمتیں پیدا کرنے اور آمدن کو بڑھانے کے لیے اسے نمایاں طور پر زیادہ اور مستحکم شرح نمو چاہیے۔
پیداوار اور کھپت کو بڑھانا قلیل مدت میں ایک آسان عمل نہیں ہو گا۔ نجی سرمائے کی کمی کی وجہ سے ہمانشو نے تجویز دی ہے کہ حکومت کے تحت چلنے والی روزگار سکیموں میں اجرت کوبڑھائیں اس سے آمدن اور بہت زیادہ کھپت ہو گی۔
ان جیسے دیگر معاشی ماہرین ٹیرف کو کم کرنے کی اور برآمدات کے لیے سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے انڈیا کی اب بھی وہی کہانی ہے، بینک مضبوط ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر بہت زیادہ ہیں، مالیات مستحکم جبکہ غربت انتہائی کم ہے۔
چیف اکنامک ایڈوائزر وی انانتھا ناگیسوارن کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے حالیہ اعداد وشمار کی بہت زیادہ تشریح نہیں کی جانی چاہیے۔
حالیہ اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بچے کو پانی کے ٹپ سے باہر نہیں پھینکنا چاہیے، کیونکہ اندر کی کہانی وہی رہتی ہے۔‘
واضح طور پر ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے کچھ کر سکتی ہے۔ اسی کی وجہ سے کچھ شکوک و شبہات ہیں۔
سنگپتا کہتی ہیں کہ کوئی بھی قوم زیادہ عرصے تک کامیابی حاصل کرنے کے لیے مناسب اقدامات کے بغیر ان پر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
ان کے مطابق ’اخبارات کہ شہ سرخیاں انڈیا کی عمر اور دہائیوں سے متعلق ہیں اور میں اس کے حقیقت میں سامنے آنے کی منتظر ہوں۔‘