نماز کے طبی فوائد بتانے کے بعد ’شارک ٹینک انڈیا‘ کی جج کو آن لائن ہراسانی کا سامنا

    • مصنف, قیصر اندرابی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کی معروف کاروباری شخصیت اور مقبول ٹی وی پروگرام ’شارک ٹینک انڈیا‘ کی جج نمیتا تھاپڑ گذشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید، دھمکیوں اور بدسلوکی کا سامنا کر رہی ہیں۔

یہ ردِعمل اُس ویڈیو کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے نماز کے طبی فوائد پر بات کی تھی۔

49 سالہ نمیتا تھاپڑ کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کے بعض حلقوں کی جانب سے انھیں اور ان کی والدہ کو مسلسل نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پیر کی صبح انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی نظر آئیں اور ناقدین کو سخت الفاظ میں جواب دیا۔ انھوں نے اس ردِعمل میں ’کرما‘ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ہر عمل کا نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔

نمیتا تھاپڑ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً پندرہ لاکھ فالوورز ہیں۔ 25 مارچ کو شیئر کی گئی ویڈیو کو اب تک 12 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور اس پر سات ہزار سے زیادہ تبصرے کیے گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد منفی ردِعمل پر مشتمل ہے۔

ان تبصروں میں مذہبی حوالوں کے ساتھ ساتھ توہین آمیز زبان بھی استعمال کی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں نمیتا تھاپڑ نے عید کو ’شکرگزاری، سخاوت، باہمی تعلق اور اتحاد‘ کا تہوار قرار دیا اور ایک دوست کا شکریہ ادا کیا، جس نے انھیں نماز کے ممکنہ طبی فوائد کے بارے میں آگاہ کیا۔

انھوں نے اسے ایک مکمل جسمانی ورزش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جسم کو لچک ملتی ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔

نمیتا تھاپڑ نے ویڈیو میں کیا کہا؟

نمیتا تھاپڑ، جو ہیلتھ کیئر کے شعبے سے وابستہ ہیں، اکثر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صحت سے متعلق معلومات شیئر کرتی رہتی ہیں۔

مذکورہ ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ نماز ایک مکمل جسمانی ورزش کی طرح ہے، جو جسمانی لچک بڑھاتی ہے، جوڑوں اور گھٹنوں کی صحت کے لیے مفید ہے اور خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نماز میں بار بار ادا کیے جانے والے رکوع و سجود اور مراقبے جیسی کیفیت ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق نماز میں شامل ’وجر آسن‘ یعنی قاعدے میں بیٹھنے کی صورت جیسی نشست ہاضمے میں مدد دیتی ہے اور روزمرہ کی مصروفیات کے دوران ایک توقف فراہم کرتی ہے۔

ویڈیو کے تبصروں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ متعدد صارفین نے تنقیدی اور طنزیہ ردِعمل دیا ہے۔ کچھ افراد نے انھیں حجاب یا برقع پہننے کا مشورہ دیا، جبکہ بعض نے ان کے خود کو ہندو کہنے پر سوال اٹھایا۔

ایک صارف نے لکھا: ’مجھے خوشی ہے کہ میں نے انھیں کبھی فالو نہیں کیا‘، جبکہ ایک اور نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا آپ سوریہ نمسکار کے بارے میں جانتی ہیں؟‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے حوالے سے نفرت انگیز رجحانات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی معروف شخصیت مسلم تہواروں یا مذہبی رسومات پر مثبت اظہار بھی کرے تو اسے شدید آن لائن ردِعمل، دھمکیوں اور بعض اوقات قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سنہ 2022 میں ’بُلی بائی‘ نامی ایک ایپ کے ذریعے متعدد مسلم خواتین، جن میں کئی صحافی بھی شامل تھیں، کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ایپ پر ان کی تصاویر کو مسخ کر کے شیئر کیا گیا اور انھیں نیلامی کے انداز میں پیش کیا گیا۔

اس واقعے پر خواتین کارکنان اور سیاسی شخصیات نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت اور صنفی تعصب پر سوال اٹھائے گئے۔

عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سنہ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں جتنی زیادہ آواز بلند کرنے والی خواتین ہوتی ہیں، انھیں اتنا ہی زیادہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ خطرہ مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے مزید بڑھ جاتا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آن لائن سیفٹی ماہر انریکا سنگھ نے کہا کہ ’نمیتا تھاپڑ جیسی نمایاں کاروباری شخصیت کو بھی جس طرح ہراساں کیا گیا، وہ اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’انٹرنیٹ پر کسی بھی بیان کو بہت تیزی سے پھیلایا جاتا ہے، جس سے متاثرہ فرد اپنی ہی بات پر شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے، چاہے اس نے کچھ غلط نہ کہا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ خواتین کو براہِ راست ریپ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، جو شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا باعث بنتی ہیں اور اس سے نکلنے میں طویل وقت لگتا ہے۔

انریکا سنگھ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی مؤثر نگرانی کا فقدان ہے اور توہین آمیز تبصرے کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے ان کے حوصلے مزید بڑھتے ہیں۔

نمیتا تھاپڑ کا ردِعمل

اپنی تازہ ویڈیو میں نمیتا تھاپڑ نے کہا کہ وہ ماضی میں مختلف مذاہب سے متعلق مواد شیئر کرتی رہی ہیں، لیکن کبھی اس نوعیت کا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

انھوں نے کہا: ’میں نے ہندو مذہب پر بھی کئی ویڈیوز بنائی ہیں، ان کے صحت سے متعلق فوائد پر بات کی ہے۔ ہر یوگا ڈے پر آسنوں، خاص طور پر سوریہ نمسکار پر ویڈیوز شیئر کرتی ہوں، تب کسی نے کچھ نہیں کہا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’مجھے سکھایا گیا ہے کہ مذہب کا مطلب احترام ہے۔ کیا یہی احترام ہے؟ خاص طور پر خواتین کے لیے؟‘

انھوں نے خواتین کے خلاف آن لائن بدسلوکی پر خاموشی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ’جب خواتین سے متعلق قانون سازی پر بات ہوتی ہے تو سب آواز اٹھاتے ہیں، لیکن جب خواتین کی توہین ہوتی ہے تو خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟‘

نمیتا تھاپڑ نے کہا کہ انھوں نے خود اپنے لیے آواز اٹھانا سیکھ لیا ہے: ’آپ کے لیے کوئی نہیں بولے گا، آپ کو خود بولنا ہوگا۔‘

انھوں نے ناقدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا: ’ہندو مذہب میں کرما کا تصور موجود ہے۔ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔‘

ان کی اس ویڈیو کے بعد بھی سوشل میڈیا پر منفی تبصرے جاری ہیں، جن میں بعض صارفین نے ان پر ’وکٹم کارڈ‘ کھیلنے کا الزام لگایا، جبکہ کچھ نے مذہب تبدیل کرنے جیسے تبصرے بھی کیے۔

تاہم کئی صارفین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے انھیں مضبوط رہنے کا مشورہ دیا۔ ویڈیو کے اختتام پر نمیتا تھاپڑ نے کہا: ’اگر آپ ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں اور نفرت سے دور رہنا چاہتے ہیں تو اس ویڈیو کو بھی وائرل کریں۔‘

نمیتا تھاپڑ کا معاملہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ دہلی سے ملحق اترپردیش کے شہر نوئیڈا کے گور سٹی میں سومیہ نامی ایک لڑکی کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس میں انھوں نے ایک ایسے شخص کا سامنا کیا جو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر رہا تھا اور نشے کی حالت میں ایک مسلم جوڑے کو ہراساں کر رہا تھا۔

تاہم جب سومیہ نے اس سے سوال کیا کہ وہ انھیں کیوں پریشان کر رہا ہے، تو اس کے بعد سے اسے بھی ریپ کی دھمکیوں اور شدید آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سومیہ نے اس واقعے کے بارے میں کہا: ’رات گیارہ بجے کے قریب میں باہر نکلی تو دیکھا ایک شخص ہاتھ میں شراب لیے ایک جوڑے کو ہراساں کر رہا تھا اور ان سے شناختی کارڈ مانگ رہا تھا۔ جب میں نے اس سے سوال کیا تو اس نے خود کو پولیس والا بتایا، حالانکہ اسے ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ میں اکیلی اس کے خلاف کھڑی ہوئی جبکہ باقی لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔‘

’میں نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ لیکن اس کے بعد مجھے خود دھمکیوں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے ’مسلم‘ اور ’کنورٹڈ‘ کہہ کر پکارا گیا، ریپ کی دھمکیاں دی گئیں اور میرے ذاتی سوشل میڈیا مواد پر نازیبا تبصرے کیے گئے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے میری ’قیمت‘ تک پوچھنی شروع کر دی۔‘

یہ صورتحال ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ہاتھ میں شراب لیے دوسروں کو ہراساں کر رہا ہے، مگر سوال اٹھانے والی لڑکی کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

’کچھ لوگوں نے میرا ساتھ دیا اور کہا کہ میں نے درست قدم اٹھایا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اُس وقت میرے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا تو شاید کوئی بھی آواز نہ اٹھاتا۔ یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘