اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں جاری لیکن غیر یقینی صورتحال برقرر
اسلام آباد میں آج بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں۔
دارالحکومت سے گزرتے ہوئے، اب بھی سڑکوں پر حفاظتی چوکیاں اور ’اسلام آباد ٹاکس‘ کے پوسٹر لگے نظر آتے ہیں لیکن بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک امریکی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا لیکن وقت واضح نہیں۔
یہ خیال تھا کہ امریکی وفد اب تک اسلام آباد پہنچ چکا ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اس حوالے سے وضاحت کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔
اس کے بجائے ایران کے بیانات میں اب بھی غصہ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران ’خطرات کے سائے میں‘ مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ’ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام بھی لگایا۔ وہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دے رہے ہیں، جس میں امریکہ نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا۔
لیکن ایران کے اندر کچھ اور بھی چل رہا ہے۔ سخت گیر نظریات کے حامل افراد باقر قالیباف جیسی شخصیات پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سفارت کاری پر تنازعے کا انتخاب کریں۔
ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔