آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محمد یونس کا الوداعی تقریر میں ’سیون سسٹرز‘ کا تذکرہ: سات ریاستوں کا ’حساس معاملہ‘ جو انڈیا کو ’بےچین‘ کر دیتا ہے
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے پیر کی شام اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن جاتے جاتے ایک بار پھر انھوں نے ایسا بیان دیا جس نے انڈیا میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اپنی الوداعی تقریر میں محمد یونس نے کہا: ’ہمارا سمندر ناصرف بنگلہ دیش کی جغرافیائی سرحد ہے بلکہ عالمی معیشت سے رابطے کا ایک دروازہ بھی ہے۔ نیپال، بھوٹان اور سیون سسٹرز اس خطے میں بے پناہ معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کے شمال مشرق میں واقع سات انڈین ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ کو ’سیون سسٹرز‘ (یعنی سات بہنیں) کہا جاتا ہے۔
اگرچہ محمد یونس نے ’سیون سسٹرز‘ کا ذکر کیا مگر انھوں نے انڈیا کا نام نہیں لیا۔
انڈیا کا نام لیے بغیر ’سیون سسٹرز‘ کا ذکر اس بات کی طرف بھی اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ محمد یونس ان ریاستوں کو انڈیا سے الگ سمجھتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انھوں نے ’سیون سسٹرز‘ کا حوالہ اس انداز میں دیا ہو۔
گذشتہ سال مارچ میں محمد یونس چین کے چار روزہ دورے پر تھے اور اس دورے کے دوران بھی انھوں نے سیون سسٹرز کا ذکر کیا تھا۔
محمد یونس نے کہا تھا کہ سیون سسٹرز کا سمندر سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور بنگلہ دیش ہی اس خطے کا نگہبان ہے۔
یونس نے کہا تھا: ’انڈیا کی سیون سسٹرز ریاستیں چاروں طرف سے خشکی میں گھری ہیں، ان کا سمندر سے کوئی رابطہ نہیں۔ اس علاقے کے نگہبان ہم ہیں۔ چین کی معیشت کے لیے یہاں بے پناہ امکانات ہیں۔ چین یہاں بہت سی چیزیں بنا سکتا ہے اور انھیں پوری دنیا میں سپلائی کر سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’چاروں طرف سے خشکی میں گھری‘ سیون سسٹرز اہم کیوں؟
محمد یونس کی اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے ایکس پر لکھا: ’شمال مشرقی انڈیا کی سیون سسٹرز ریاستوں کو لینڈ لاکڈ کہنا اور بنگلہ دیش کو ان کے لیے سمندر تک رسائی کا واحد راستہ بتانا قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے۔ محمد یونس کے ایسے اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیوں کہ یہ گہری سٹریٹجک سوچ اور طویل المدتی ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
اصل میں انڈیا کا یہ علاقہ کافی حساس سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر شِلی گُری راہداری کی وجہ سے۔ شِلی گُری ایک تنگ زمینی پٹی ہے جو شمال مشرقی انڈیا کو باقی ملک سے جوڑتی ہے۔ یہ صرف تقریباً 22 کلومیٹر چوڑا راستہ ہے اور اسی وجہ سے انڈیا کا ’چکن نیک‘ بھی کہلاتا ہے۔
بنگلہ دیش اور نیپال کی سرحدیں بھی اسی راہداری کے ساتھ ہیں۔ بھوٹان اور چین بھی اس راہداری سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
شمال مشرقی انڈیا کی سیون سسٹرز ریاستیں جغرافیائی طور پر بنگلہ دیش، بھوٹان، چین اور میانمار سے گھری ہوئی ہیں۔ یعنی ان کا سمندر سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں۔ انڈیا سے زمینی رابطہ صرف شِلی گُری راہداری کے ذریعے ہے۔ اسی لیے محمد یونس کے بیان پر گذشتہ سال بھی تنازع ہوا تھا۔
سیون سسٹرز کی ایک ریاست اروناچل پردیش پر چین پہلے ہی دعویٰ کرتا ہے۔ چین اسے ’جنوبی تبت‘ کہتا ہے۔ یہاں تک کہ چین نے اروناچل پردیش کے کئی علاقوں کے نام چینی زبان میں بھی رکھ دیے ہیں۔ اس کے جواب میں انڈیا نے کہا تھا کہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
جب چین میں محمد یونس نے سیون سسٹرز کے لینڈ لاکڈ ہونے کا حوالہ دیا، تب انڈین وزیر اعظم کے مشیر برائے معاشی امور سنجیو سانیال نے ایکس پر لکھا تھا: ’یہ دلچسپ ہے کہ محمد یونس نے چین سے کہا کہ انڈیا کی سات ریاستیں لینڈ لاکڈ ہیں۔ چین شوق سے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرے لیکن سات انڈین ریاستوں کے لینڈ لاکڈ ہونے کا اس سے کیا تعلق ہے؟‘
بنگلہ دیش میں سیون سسٹرز پر بیانات
محمد یونس کا گذشتہ برس چین میں دیا گیا بیان بھی اشتعال انگیز سمجھا گیا تھا اور اب اقتدار سے رخصت ہوئے ہوئے انھوں نے وہی بات پھر دہرا دی ہے۔
لیکن معاملہ صرف محمد یونس تک محدود نہیں۔ جن طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے محمد یونس اقتدار میں آئے تھے، تب اُن طلبہ کے رہنماؤں نے بھی سیون سسٹرز کے بارے میں متنازع بیانات دیے ہیں۔
گذشتہ سال دسمبر میں بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنات عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کیا گیا تو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں سیون سسٹرز کو الگ کر دیا جائے گا۔
حسنات نے کہا تھا: ’میں انڈیا سے صاف کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ایسی طاقتوں کو پناہ دے گا جو بنگلہ دیش کی خودمختاری، ہمارے ووٹ کے حق اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتیں، تو ہماری طرف سے اس کا جواب دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کی عدم استحکام کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ اگر بنگلہ دیش غیر مستحکم ہوا تو اس کی آگ سرحد سے باہر بھی پھیلے گی۔‘
گذشتہ سال اپریل میں بنگلہ دیش کے سابق فوجی افسر اور محمد یونس کے قریبی ساتھی میجر جنرل (ریٹائرڈ) فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ اگر انڈیا پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو بنگلہ دیش کو بھی چاہیے کہ وہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں پر قبضے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کرے۔ تاہم محمد یونس کی حکومت نے اس بیان سے دوری اختیار کی تھی۔
29 اپریل کو ایک فیس بک پوسٹ میں فضل الرحمٰن نے بنگلہ زبان میں لکھا تھا: 'اگر انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو بنگلہ دیش کو چاہیے کہ وہ شمال مشرقی انڈیا کی سات ریاستوں پر قبضہ کر لے۔ میرا خیال ہے کہ اس حوالے سے چین کے ساتھ مشترکہ عسکری انتظامات پر بات چیت شروع کرنا ضروری ہے۔'
محمد یونس یہ بات تو کر رہے ہیں کہ شمال مشرقی انڈیا کی ریاستیں لینڈ لاکڈ ہیں، لیکن دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش خود انڈیا لاکڈ ملک ہے۔ بنگلہ دیش کی 94 فیصد سرحد انڈیا سے ملتی ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان چار ہزار 367 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو اس کی بین الاقوامی سرحد کا 94 فیصد بنتی ہے۔ یعنی بنگلہ دیش تقریباً چاروں طرف سے انڈیا سے گھرا ہوا ہے۔
اس صورت حال میں تحفظ اور تجارت کے لیے بنگلہ دیش انڈیا پر انحصار کرتا ہے۔ دوسری طرف انڈیا کو بھی شمال مشرقی ریاستوں تک سستے اور آسان رابطے کے لیے بنگلہ دیش کی ضرورت پڑتی ہے۔ شمال مشرقی انڈیا کو باقی ملک سے جوڑنے میں بنگلہ دیش کا اہم کردار ہے۔
بنگلہ دیش راستہ دینے کے لیے تیار نہیں
گذشتہ سال اپریل میں سوشل میڈیا پر اس بات کی کافی بحث تھی کہ بنگلہ دیش لال مونی رہٹ میں چین کے تعاون سے بنے ایک پرانے ایئربیس کو دوبارہ فعال کر رہا ہے۔
یہ انڈیا کی سرحد سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر اور شِلی گُری راہداری سے تقریباً 135 کلومیٹر دور ہے۔
بنگلہ دیش کے ساتھ بات چیت میں شمال مشرقی انڈیا کے لیے راستے کا مسئلہ ہمیشہ اہم رہا ہے۔ آسام، ناگالینڈ، تریپورہ، میگھالیہ، منی پور، میزورام اور اروناچل پردیش کو بنگلہ دیش کے راستے انڈیا کے باقی حصوں سے جوڑنے کا منصوبہ ایک بڑا موضوع رہا ہے۔
سراج الاسلام جاپان میں بنگلہ دیش کے سفیر رہے ہیں۔ اخبار ڈیلی اسٹار میں انھوں نے لکھا تھا کہ انڈیا ان ریاستوں کے لیے چٹاگانگ پورٹ کے استعمال کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔
سراج الاسلام نے لکھا تھا: ’یہ مسئلہ 1972 کے بنگلہ دیش انڈیا تجارتی معاہدے کے وقت سے ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے ممالک میں ریلوے، آبی راستوں اور سڑکوں کے استعمال کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ انڈیا اسے ایک معاشی مسئلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ میری رائے میں یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔ بنگلہ دیش کی تمام سابقہ حکومتیں، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور عوام اس تجویز کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش جیسے ملک میں قومی معاملات پر دو جماعتیں کم ہی متفق ہوتی ہیں لیکن اس موضوع پر بی این پی اور شیخ حسینہ ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں۔‘
انڈیا کو راستہ دینے کا مسئلہ بنگلہ دیش میں اتنا پیچیدہ کیوں ہے؟ اس سوال پر سراج الحق اسلام نے کہا تھا: ’جواب جزوی طور پر نفسیات اور جزوی طور پر تاریخ میں ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی زیادہ تر بنگلہ دیشیوں کے ذہن میں یہ خدشہ رہا ہے کہ رقبے میں 23 گنا بڑا اور ملک کو تین طرف سے گھیرنے والا انڈیا، بنگلہ دیش کی خودمختاری کو متاثر کر سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان زیر التوا مسائل نے اس خوف کو مزید گہرا کیا۔ مذاکرات کے دوران انڈیا کا رویہ یکطرفہ اور غیر منصفانہ سمجھا گیا۔‘
سراج الاسلام اسلام نے مزید لکھا: ’بنگلہ دیش نہ صرف سیون سسٹرز اور انڈیا کے باقی حصے کے درمیان واقع ہے بلکہ ان صوبوں کی سمندر تک رسائی بھی بنگلہ دیش کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اگر انڈیا کو راستہ ملتا ہے تو اس کا وقت بھی بچے گا اور سرمایہ بھی۔ انڈیا کو راستہ دینے سے بنگلہ دیش کو بھی آمدن ہو گی، اس کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا ہوں گے اور مستقبل میں انڈیا کے ساتھ مذاکرات میں اس کا مقام بھی مستحکم ہو گا۔‘
سراج الاسلام کے مطابق ’راستہ دینے اور چٹاگانگ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے سیون سسٹرز کی معیشتیں بنگلہ دیش سے جڑ سکتی ہیں۔ اس سے مستقبل کی بات چیت میں بنگلہ دیش کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس سے باہمی اعتماد، تعاون اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نیپال اور بھوٹان بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ راستہ دینے کا فیصلہ مستقل بنیادوں پر کیا جائے۔ بعد میں اس فیصلے پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔‘