آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام ’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی کا عمل پورا ہو چکا ہے اور اس کے نئے مالکان نے ٹیم کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیر کو پی ایس ایل کی فرنچائز کی نیلامی کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی تھی جہاں ولی ٹیکنالوجیز نے ملتان سلطانز کو دو ارب 45 کروڑ روپے میں خرید لیا۔
ولی ٹیک ایک ٹیکنالوجی پر مبنی میڈیا اور فِن ٹیک گروپ ہے جو اس سے قبل پی ایس ایل کے ڈیجیٹل رائٹس حاصل کر چکا ہے اور حال ہی میں لیگ کے بین الاقوامی نشریاتی حقوق بھی جیت چکا ہے۔
ٹیم خریدنے میں کامیابی کے بعد ٹیم کے نئے مالک اور ولی ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو احسن طاہر کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیم کا نام بدل کر راولپنڈی رکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پنڈی کی گلیوں میں ہی پلے بڑھے ہیں۔ ہم سیٹلائیٹ ٹاؤن، سکستھ روڈ، راجہ بازار یہیں پلے بڑھے ہیں اور ہم وہیں واپس جائیں گے۔‘
ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے ٹیم کا نام تبدیل ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایکس ہینڈل پر ٹوٹے ہوئے دل کی ایموجی لگائی ہے، جس پر صارفین مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ علی ترین نے اتوار کو ایک ویڈیو پیغام میں واضح کیا تھا کہ وہ اسی صورت میں دوبارہ بولی لگائیں گے، اگر مناسب قیمت میں ٹیم دستیاب ہو گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ ’میں ہر حال میں، جتنے بھی پیسوں میں ٹیم خریدوں گا تو ایسا نہیں ہو گا۔ میں وہی بولی لگاؤں جو حقیقی ہو گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو بولی کے دوران بھی علی ترین لاہور کے ایکسپو سینٹر میں موجود نہیں تھے اور اُن کی نمائندگی کسی اور نے کی تھی۔
اس سے قبل پی ایس ایل کی نیلامی میں ملتان سلطانز کی فرنچائز کے حصول کے لیے پانچ کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا تھا۔
ان میں علی ترین بھی شامل تھے، جو گذشتہ برس فرنچائز چھوڑنے کے بعد ایک بار پھر اسے واپس حاصل کرنے کے لیے میدان میں آئے تھے۔
علی ترین کے علاوہ ولی ٹیک اور ایم نیکسٹ اینک بھی نیلامی کے عمل میں شریک تھے۔ یہ دونوں کمپنیاں گذشتہ ماہ حیدرآباد اور سیالکوٹ فرنچائز کی نیلامی میں حصہ لے چکی ہیں مگر ناکام رہی تھیں۔
یاد رہے کہ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی فرنچائزز بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھیں۔
اس کے علاوہ سی ڈی وینچر اور پارٹیکل ایگنائٹ پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی نیلامی میں شامل ہونے والی نئی کمپنیاں تھیں۔
ملتان سلطانز کے نئے مالکان کی جانب سے ٹیم کا نام راولپنڈی رکھنے پر جہاں ملتان سلطانز کے مداح مایوس ہیں تو وہیں راولپنڈی کے شہری خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بعض صارفین علی ترین کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر علی ترین پاکستان کرکٹ بورڈ سے لڑائی نہ کرتے تو ملتان سلطانز کی ملکیت آج ان کے پاس ہوتی۔
’آپ کو بھی کہیں نہ کہیں دکھ ہوتا ہو گا‘
فرید خان نامی صارف نے علی ترین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نے آج رات نیلامی میں آپ کو بہت یاد کیا۔ مجھے اُمید ہے کہ پی سی بی ملتان کے مداحوں کو خوش کرنے کا کوئی راستہ نکالے گی۔‘
اسد عرفان نے لکھا کہ نئے مالکان کو مبارکباد، لیکن ہمارا ملتان سلطانز کے ساتھ جذباتی لگاؤ ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ شائقین کے جذبات کا احترام کیا جائے گا اور ’ملتان سلطانز‘ کا نام برقرار رکھا جائے گا۔
صہیب جٹ نے علی ترین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کو بھی کہیں نہ کہیں دکھ ہوتا ہوگا کہ پہلی ٹیم نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔ پہلے یہ ٹیم 100 کروڑ روپے کی تھی اور آج اس کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے۔ ٹھیک ہے جس نے پیسہ لگایا ہے وہ اپنی مرضی کا نام رکھ سکتا ہے۔‘
نوید احمد نامی صارف نے علی ترین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کو اتنی فکر تھی تو ٹیم خرید لیتے، آپ تو بزنس کو سمجھتے ہیں۔ آپ کے یہ جذباتی ٹوئٹس اچھے نہیں لگتے۔‘
اسد رضا نامی صارف نے علی ترین کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج ایک اور بندہ نظام کے ہاتھوں ہار گیا۔ بھائی آپ نے جنوبی پنجاب کو بہت کچھ دیا۔ آپ کا شکریہ۔‘
ملتان سلطانز کے لیے ولی ٹیک کے علاوہ کس کس نے بولی لگائی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق مقررہ آخری تاریخ تک دلچسپی رکھنے والے فریقین کی جانب سے مجموعی طور پر چھ تجاویز موصول ہوئیں تھیں، جن کا پی سی بی کی بڈ کمیٹی نے تفصیلی اور شفاف انداز میں جائزہ لیا اور پانچ بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا تھا۔
علی ترین
علی ترین ڈہرکی شوگر ملز کے ذریعے نیلامی کے عمل میں شریک تھے۔ ان کا کاروباری گروپ زراعت اور سٹریٹیجک سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرگرم ہے اور ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
علی ترین نے اس مرتبہ بھی اسی کمپنی کے ذریعے دستاویزات جمع کروائی تھیں جو گذشتہ نیلامی میں تکنیکی طور پر اہل قرار پائی تھی تاہم اُس موقع پر انھوں نے نیلامی شروع ہونے سے چند منٹ قبل اچانک دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
اُس وقت علی ترین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملتان سلطانز کے لیے ہی دوبارہ بولی لگائیں گے کیونکہ اس فرنچائز کے ساتھ ان کا طویل تعلق رہا ہے۔
جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں علی ترین نے کہا تھا کہ پاکستان سپر لیگ میں ان کی شمولیت کی بنیاد ہمیشہ کاروباری مفادات کے بجائے علاقائی شناخت رہی۔
علی ترین کے مطابق ’غور و فکر کے بعد میرے خاندان اور میں نے فیصلہ کیا کہ آج کی پی ایس ایل فرنچائز نیلامی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا تعلق محض ایک کرکٹ ٹیم کی ملکیت تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی اور اس خطے کو آواز دینے کی ایک کوشش تھی جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مستقبل میں پی ایس ایل میں واپس آئے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوگی۔ ’جنوبی پنجاب میرے دل کے قریب ہے، یہ میرا گھر ہے، اور اگر میں واپس آیا تو اسی شناخت کے ساتھ آؤں گا۔‘
گذشتہ ہفتے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں علی ترین کا کہنا تھا کہ انھیں پی ایس ایل میں کی گئی نئی تبدیلیاں پسند آئی ہیں جن میں پلیئر آکشن، براہِ راست سائننگ، بہتر ریٹینشن اور ایمرجنگ رولز کے علاوہ ادائیگیوں کا شفاف نظام شامل ہے۔
سی ڈی وینچر
یہ برطانوی اور پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل ایک مشترکہ کمپنی ہے جو پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی فرنچائز نیلامی کے عمل میں حصہ لے رہی تھی۔
ایم نیکسٹ اینک
ٹیکنالوجی اور جدت (انوویشن) پر کام کرنے والی کمپنی، جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے جدید حل فراہم کرتی ہے۔
ایم نیکسٹ اینک نے حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ٹیموں کی نیلامی کے دوران دوسرے مرحلے میں تین بولیاں لگائیں اور ان کی آخری پیشکش ایک ارب 76 کروڑ روپے تک جا پہنچی تھی لیکن وہ اس وقت بھی فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔
ملتان سلطانز دوبارہ کیوں فروخت کی گئی؟
ملتان سلطانز اور علی ترین کے درمیان فرنچائز معاہدہ 31 دسمبر کو ختم ہوا تھا۔ پی سی بی نے علی ترین سے فرنچائز فیس 1.1 ارب روپے سے بڑھا کر 1.375 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم علی ترین نے اس پر ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادانہ ویلیوایشن میں ملتان سلطانز کی قدر تقریباً 85 کروڑ روپے لگائی گئی تھی، جو اس وقت کی مجوزہ فرنچائز فیس سے بھی کم تھی۔
ابتدا میں پی سی بی نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ٹیم کو ایک سیزن کے لیے خود چلایا جائے گا کیونکہ اسی دوران دو نئی فرنچائزز کی فروخت کا عمل جاری تھا۔
تاہم حیدآباد اور سیالکوٹ کی فرنچائزز کی نیلامی میں غیر معمولی دلچسپی اور توقع سے کہیں زیادہ بولیاں موصول ہونے کے بعد پی سی بی نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی۔
دونوں فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو نہ صرف بورڈ کے اپنے تخمینوں بلکہ مارکیٹ کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔